سفارتکاری

چین کا دنیا بھر میں قرض دار جمع کر کے عسکری، اقتصادی اثر و رسوخ کا حصول

از پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

چین کے صدر شی جن پنگ (سکرین پر) گزشتہ 29 نومبر کو سینیگال کے شہر ڈاکار میں چین-افریقہ تعاون (ایف او سی اے سی) کے اجلاس کے دوران اپنی تقریر کرتے ہوئے۔ [سیلؤ/اے ایف پی]

ممباسا، کینیا -- افریقہ کے ایک حالیہ دورے پر، چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دنیا بھر میں رفتار پکڑنے والے ایک بیانیئے سے آگے نکلنے کی کوشش کی جبکہ چینی امداد، قرضے اور سرمایہ کاری لینے والے ممالک طویل مدتی اثرات پر پچھتا رہے ہیں۔

کینیا میں بیجنگ کی مالی اعانت سے چلنے والے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا دورہ کرنے سے پہلے، وانگ نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا کہ بیجنگ افریقی ممالک کو بھاری قرضوں کی پیشکش کر کے قرضوں کے جال میں پھانس رہا ہے۔

انہوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ چین کا افریقہ کو کافی زیادہ قرضہ دینا سفارتی اور تجارتی مراعات حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے۔

انہوں نے 6 جنوری کو کینیا کے بندرگاہی شہر ممباسا میں صحافیوں کو بتایا، "یہ قطعاً حقیقت نہیں ہے۔ یہ قیاس آرائیاں ہیں جو کچھ لوگوں کی طرف سے خفیہ مقاصد کے ساتھ کی جا رہی ہیں۔"

image

گزشتہ 17 ستمبر کو چین کے صوبہ ژیانگ سو کے علاقے لیانیونگانگ میں چین-قازقستان باربرداری چھاؤنی کا ایک منظر۔ [راؤل اریانو/ژیانگ سو دفترِ معلومات]

image

گائیڈڈ میزائل برادر چھوٹے جنگی جہاز پر سوار چینی بحری فوجی مصر کی نہر سویز سے باہر نکلنے کے بعد تیونس کے گشتی جہاز کو سلامی دیتے ہوئے۔ [چینی وزارتِ دفاع]

ایک ترجمان کے ذریعے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، "یہ ایک بیانیہ ہے جو ان لوگوں نے تخلیق کیا ہے جو افریقہ میں ترقی نہیں دیکھنا چاہتے۔ اگر کوئی جال ہے تو وہ غربت اور پسماندگی کا جال ہے۔"

چین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، چین افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جس کی سنہ 2019 میں براہِ راست تجارت 200 بلین ڈالر سے زائد تھی۔

کینیا میں، عالمی بینک کے بعد چین دوسرا سب سے بڑا قرض دہندہ ہے اور اس نے بنیادی ڈھانچے کے متعدد مہنگے منصوبوں کو مالی اعانت فراہم کی ہے جس نے نیروبی کو اپنی استطاعت سے زیادہ قرض لینے کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں۔

ممباسا کی بندرگاہ پر، چین 353 ملین ڈالر کا نیا ٹرمینل تعمیر کر رہا ہے تاکہ بڑے آئل ٹینکروں کو برتھ کی اجازت دی جا سکے۔

بیجنگ نے آزادی کے بعد کینیا کے سب سے مہنگے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کو بھی فنڈ فراہم کیا، جس میں سنہ 2017 میں ممباسا سے ریلوے لائن کی تعمیر کے لیے 5 بلین ڈالر کا قرضہ دیا گیا۔

جنوری 2020 میں ممباسا کے دورے کے دوران، وانگ نے ریلوے کو چین کی بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری (بی آر آئی) کی ایک "کسوٹی" قرار دیا، جو کہ تاریخی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے دنیا بھر میں تجارتی روابط کو بہتر بنانے کے لیے ٹریلین ڈالر کا دباؤ ہے۔

سرخ جھنڈے

سنہ 2013 میں چینی صدر شی جن پنگ نے چین کے اقتصادی اور سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے بی آر آئی کا آغاز کیا تھا، جس میں بنیادی ڈھانچے کے بہت سے منصوبوں کو عالمی سطح پر اس کے سامان کی فراہمی میں مدد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

لیکن دیگر اہداف کے علاوہ، بی آر آئی کا مقصد چینی مفاد کے لیے غریب ممالک کے قدرتی وسائل کو نکالنے اور بھیجنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

چین اس وسیع سرمایہ کاری کے منصوبے کے کسی بھی غلط مقاصد کی تردید کرتا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اس سکیم سے پیدا ہونے والے مالی فائدے کو اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کرتا ہے، جسے وہ "قرض کے جال کی سفارتکاری" کا نام دیتے ہیں -- جس میں وہ قرض خواہوں پر سخت شرائط عائد کرتا ہے اور ایسے معاہدے کرتا ہے جو جب مقروض ممالک مالی مسائل کا شکار ہوں تو اسے ان کے تزویراتی اثاثے ضبط کرنے کے قابل بنائیں۔

مبصرین نے چینی سرمائے پر انحصار کرنے پر خطرے کے سرخ نشان لگائے ہیں، اور چینی سرمایہ کاری کی شرائط پر عدم اطمینان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کینیا کے جغرافیائی و سیاسی اور معاشی تجزیہ کار، علی خان ساتچو نے کہا کہ یہ مشرقی افریقی ملک سودوں پر گفت و شنید کرنے میں کمزور ہے اور اکثر زیادہ سود کی ادائیگیوں میں پھنس جاتا ہے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "یہ سرمایہ کاریاں مستقبل قریب کے لیے سرمایہ کاریوں پر کوئی منافع نہیں دیں گی۔"

"آپ نے یہ قرضے لیے ہیں، اور ان سے ہر ماہ نقصان ہو رہا ہے۔ آپ بنیادی طور پر مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں۔"

اس طرح کے شکاری قرضے کی ان گنت مثالیں ہیں۔

نقد رقم میں تنگی کا شکار سری لنکا، پہلے ہی 35 بلین ڈالر کے غیر ملکی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے -- جس میں سے تقریباً 10 فیصد چین کا ہے -- لیکن بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ حاصل کرنے کے بجائے، حکام نے دوبارہ بیجنگ کا رخ کیا۔

9 جنوری کو ایک بیان میں صدر گوتابایا راجاپاکسا کے دفتر نے ایک بیان میں کہا، "یہ ایک بہت بڑا سکھ کا سانس ہو گا اگر قرضوں کی ادائیگی کو عالمی وباء کے بعد معاشی بحران کے پیش نظر دوبارہ ترتیب دیا جائے"۔

اس درخواست پر بیجنگ کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی تھی۔

دریں اثنا، مرکزی بینک کے گورنر اجیت نیوارد کابرال نے کہا کہ چین کے ساتھ نئے قرض پر بات چیت ایک "اعلیٰ درجے کے مرحلے" پر ہے اور ایک تازہ معاہدہ بیجنگ کو قرض پر سود کی رقم اور اصل زر واپس کرے گا۔

انہوں نے کہا، "وہ ہمیں ادائیگیوں میں مدد دیں گے... چین سے ملنے والا نیا قرض خود چین کو ہمارے قرضوں کی ادائیگی کو کم کرنے کے لیے ہے۔"

سری لنکا نے ماضی میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے چین سے بہت زیادہ قرضہ لیا ہے، جن میں سے کچھ سفید ہاتھی بن گئے ہیں۔

جنوب میں بندرگاہ کی تعمیر کے لیے 1.4 بلین ڈالر کا قرض ادا کرنے سے قاصر، سری لنکا کو سنہ 2017 میں ایک چینی کمپنی کو یہ بندرگاہ 99 سالہ رہن پر دینے کے لیے مجبور کیا گیا۔

امریکہ اور بھارت نے خبردار کیا ہے کہ ہمبنتوتا بندرگاہ، جو مشرق اور مغرب کے بین الاقوامی جہاز رانی کے اہم راستوں کے ساتھ واقع ہے، چین کو بحرِ ہند میں فوجی تسلط فراہم کر سکتی ہے۔

'سمندری شاہراہِ ریشم'

بی آر آئی کے ایک جزو کے طور پر، چین نے پہلے ہی بحرِ ہند کے ساتھ ساتھ بندرگاہوں کا ایک سلسلہ تعمیر کر لیا ہے، جس سے بحیرۂ جنوبی چین سے نہر سویز تک ایندھن بھرنے اور دوبارہ سپلائی کرنے والے اسٹیشنوں کا سلسلہ تخلیق کیا گیا ہے۔

اس "سمندری شاہراہِ ریشم" کے ساتھ ایک بڑی بندرگاہ گوادر، پاکستان میں ہے، لیکن بیجنگ کی طرف سے مقامی کارکنوں اور ماحول کو نظر انداز کرنے نے اس معاہدے کو خراب کر دیا ہے۔

گوادر کا بی آر آئی کا ایک بڑا حصہ بننا متوقع ہے، لیکن اس منصوبے کے پیمانے -- اور پاکستانی حکومت نے بیجنگ سے اربوں ڈالر کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے جو قرض لیا ہے -- اس نے اسے خطرناک صورتحال میں ڈال دیا ہے۔

بلوچستان میں کشیدگی کا ایک بڑا ذریعہ گہرے سمندر میں چینی ٹرالروں سے جڑا ہوا ہے جو مقامی ماہی گیروں کی روزی روٹی چھین رہے ہیں.

بی آر آئی پر ایک گہری نظر بیجنگ کے قدرتی وسائل پر اجارہ داری اور چین سے بحیرۂ روم تک، بشمول مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور افریقہ کے مقامات پر فوجی عزائم کو وسعت دینے کے مقصد کو ظاہر کرتی ہے۔

اس مقصد کے لیے، چین نے حالیہ برسوں میں مصر میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے -- 7 بلین ڈالر سے زیادہ -- لیکن تجزیہ کار متنبہ کرتے ہیں کہ اہم مقامات اور اقتصادی شعبوں میں چینی شمولیت کی اس سطح کے سنگین طویل مدتی نتائج ہو سکتے ہیں۔

خاص طور پر تشویش کی بات یہ ہے کہ چین نہر سویز کے اقتصادی علاقے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

مزید برآں، بیجنگ کے سنکیانگ میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک -- بشمول نسل کشی، تشدد، جنسی تشدد، جبری مشقت اور من مانی حراست کے الزامات -- نے چین مخالف جذبات کو ہوا دی ہے۔

عراقی بھی چینی اقتصادی سرمایہ کاری کی قدر پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

مثال کے طور پر، ستمبر 2019 میں ہونے والے 20 سالہ عراقی-چینی معاہدے پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔

یہ معاہدہ اس خیال پر مبنی ہے کہ چین 10 بلین ڈالر کا قرضہ فراہم کرے گا جو چین کو عراقی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اضافی طور پر ادا کیا جائے گا۔ یہ قرض عراق میں بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کی مالی معاونت کرے گا۔

معاہدے پر اعتراض کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے عراقی تیل کو طویل عرصے کے لیے چین کے پاس رہن رکھا جائے گا اور عراق کو چین کے قرضوں میں ڈوبا رہنے دے گا۔

دوسروں کو خدشہ ہے کہ چین کے ساتھ قریبی تعلقات صرف ایرانی حکومت کو فائدہ پہنچائیں گے، جو عراقی معیشت کی قیمت پر اپنے مفادات کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

قرضوں کا انبار

وسطی ایشیا کے کئی ممالک نے خود کو اسی طرح کے مشکل حالات میں پایا ہے۔

چین نے ترکمانستان کی گیس کی صنعت کی ترقی کے لیے اربوں کی سرمایہ کاری کی ہے، اور خود کو برآمدات کے لیے ملک کی پہلی منزل کے طور پر قائم کیا ہے۔

ملک میں بیجنگ کے اہم منصوبے وسطی ایشیا-چین پائپ لائن ہیں، جو مشرقی ترکمانستان سے شروع ہوتی ہے اور ازبکستان اور قازقستان سے ہوتی ہوئی چین تک پہنچتی ہے، اور دنیا کی دوسری سب سے بڑی گیس فیلڈ، گلکینیش میں ایک کثیر المنزلہ ترقیاتی منصوبہ ہے۔

سنہ 2011 میں ملک کے دورے کے دوران، چائنا ڈویلپمنٹ بینک (سی ڈی بی) کے اس وقت کے صدر، ژیانگ شاؤ لیانگ نے کہا کہ بینک نے ترکمانستان کو منصوبوں کے لیے 8.1 بلین ڈالر کا قرض دیا تھا۔

گزشتہ جون میں، ترکمن حکومت اور سی ڈی بی نے اعلان کیا کہ قرضوں کی مکمل ادائیگی کر دی گئی ہے، لیکن چینی قرضوں کی شرائط کو خفیہ رکھنے کے ساتھ، حکام نے اس رقم کا کوئی حوالہ نہیں دیا کہ ترکمانستان نے کتنی رقم یا کب ادا کی ہے۔

مزید معلومات کے بغیر یہ جاننا ناممکن ہے کہ ترکمانستان نے چین کو اپنے قرضوں کی ادائیگی کیسے کی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک امکان یہ ہے کہ ترکمانستان چین کو اپنی ریکارڈ برآمدات سے آمدنی حاصل نہیں کر رہا ہے۔ بلکہ، گیس کی فروخت بیجنگ پر واجب الادا اربوں ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی قرضوں کی غلامی بھی کرغیزستان کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق، گزشتہ مارچ تک، کرغیزستان کا غیر ملکی قرضہ 5 بلین ڈالر تھا، جس کا سب سے بڑا حصہ -- 40 فیصد سے زیادہ -- چائنا ایگزم بینک کا ہے۔

سنہ 2020 میں، کورونا وائرس عالمی وباء سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے، کرغیز حکومت نے بار بار چینی حکام سے کہا کہ وہ قرضوں کی شرائط میں نرمی کریں -- کم از کم ادائیگی کی آخری تاریخ میں توسیع ہی کر دیں۔

بیجنگ نے تقریباً ایک سال تک ان درخواستوں کو نظر انداز کیا، بالآخر نومبر 2020 میں اگلے چار سالوں میں 2020 کی ادائیگی کو ٹکڑوں میں کرنے پر اتفاق کیا۔ لیکن اس "رعایت" کے بدلے میں، اس نے قرض کے 2 فیصد کے حساب سے فیس وصول کی۔

بحران زدہ افغانستان میں، مبصرین نے پچھلی حکومت کے خاتمے کے بعد سے چین کی بڑھتی ہوئی "امداد" کو اقتصادی اور سیاسی طور پر کمزور ملک کو بیجنگ پر انحصار کرنے کی کوشش کے طور پر جوڑ دیا ہے تاکہ وہ ملک کے تخمینہ شدہ 1 ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھا سکے.

کیا آپ اس امر سے متعلق خدشات رکھتے ہیں کہ پاکستان میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہو گا؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500