معیشت

چینی منصوبے سے کراچی کے پانچ لاکھ شہریوں کی نقل مکانی طے

زرق خان

image

ایک فائل فوٹو میں کراچی کا ایک علاقہ مچھر کالونی دکھایا گیا ہے۔ کراچی کے ساحل کی ترقی کے لیے پاکستان اور چین کا ایک مشترکہ منصوبہ بنا کسی تعاون کے مچھر کالونی کی پانچ لاکھ سے زائد آبادی کو بے گھر کر دے گا۔ [زرق خان]

پاکستان اور چین کا ایک مشترکہ منصوبہ نہ صرف پانچ لاکھ باشندوں کو بے گھر کرے گا اور محفوظ شدہ جنگلات کو نقصان پہنچائے گا، بلکہ صوبہ سندھ میں نسلی شورش کو بھی ہوا دے گا۔

اسلام آباد اور بیجنگ نے 23 ستمبر کو براہِ راست چینی سرمایہ کاری سے کراچی کوسٹل کمپری ہنسیو ڈیویلپمنٹ زون (کے سی سی ڈی زیڈ) منصوبے پر دستخط کیے۔

اس معاہدے پر تقریباً دو برس کے وقفے سے چین-پاکستان معاشی راہداری (سی پی ای سی) کی جائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے 10 ویں اجلاس میں دستخط ہوئے۔

یہ منصوبہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام (بی آر آئی) کے ایک ہراول منصوبہ، سی پی ای سی کا جزُ ہے۔

image

کراچی پورٹ ٹرسٹ کی واپس لی گئی زمین پر کراچی کوسٹل کمپری ہنسیو ڈیولپمنٹ زون کا ایک ماڈل۔ [وزارتِ بحری امور]

پاکستانی وزارتِ بحری امور نے 25 ستمبر کو ایک بیان میں کہا، "کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مغربی کھڑے پانی کے دلدلی علاقوں میں تقریباً 640 ہیکٹر (1,581 ایکڑ) بازیاب شدہ رقبے پر تعمیر ہونے والا کے سی سی ڈی زیڈ نہ صرف پاکستان بلکہ تمام تر خطے کے لیے ایک ہراول منصوبہ ہو گا۔"

وزارت نے کہا کہ 3.5 بلین ڈالر کا یہ منصوبہ گردونواح کی بستیوں میں مقیم 20,000 سے زائد خاندانوں کی نقل مکانی کا باعث بنے گا۔

تاہم، مچھر کالونی کے پانچ لاکھ سے زائد باشندوں کی جانب اشارہ کرنے والے شہری منصوبہ سازوں اور حقوق کے فعالیت پسندوں کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں باشندوں کی وسیع اکثریت کے لیے کوئی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔

کراچی اربن لیب سے منسلک ایک شہری منصوبہ ساز محمد توحید نے کہا کہ کے سی سی ڈی زیڈ قدیم ترین غیرسرکاری آبادیوں میں سے ایک، مچھر کالونی کے تمام تر علاقہ کا دعویٰ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس کالونی کی تمام تر آبادی نقل مکانی کرے گی، انہوں نے مزید کہا کہ "حکومت کے پاس نقل مکانی کا کوئی جامع منصوبہ نہیں۔"

توحید نے کہا، "مچھر کالونی میں باشندوں کی اکثریت بنگالی اور روہنگیا مہاجرین ہیں، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اس علاقہ میں مقیم ہیں۔ ان میں سے اکثر کسی ریاست کے شہری نہیں اور ان کے پاس شہریت کی دستاویزات نہیں ہیں۔"

مچھر کالونی کے ایک سماجی کارکن منہاج الدین نے کہا، "اگرچہ ہم بدترین صورتِ حال میں رہ رہے ہیں، تاہم ہم حکام کو اجازت نہیں دیں گے کہ ترقی کے نام پر ہمیں ہمارے گھروں سے اٹھا کر باہر پھینک دیں۔"

انہوں نے کہا حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رہائشیوں کی نقل مکانی کرانے کے بعد متبادل رہائش یا معاوضہ فراہم نہیں کیا۔

نسلی شورش کو بڑھاوا

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ – مقامیوں پر اثر کی پروا کیے بغیر چینی کمپنیوں کی جانب سے مقامی وسائل کے استحصال کے ساتھ – سندھ اور بلوچستان کے صوبوں میں چینی رسوخ میں تیزی سے اضافہ بدامنی پیدا کر رہا ہے۔

سندھ کی ایک نسلی سیاسی جماعت سندھ ترقی پسند جماعت کے رہنما قادر مگسی نے ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ خفیہ طور پر کے سی سی ڈی زیڈ جیسے منصوبے شروع کرنے پر حکومت پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا حکومت کو چاہیئے کہ تفصیلات کو عام کرے۔

مگسی نے کہا، "ہم ترقیاتی عمل کی مخالفت کر رہے ہیں، اور سندھ کی زمین پر قبضہ کی نہ اجازت دی جانی چاہیئے نہ اسے برداشت کیا جانا چاہئیے۔"

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر پولیس افسر نے کہا، "بی آر آئی سے منسلک منصوبے، جیسا کہ کے سی سی ڈی زیڈ اس چین مخالف جذبہ کو مزید ابھاریں گے جسے سندھی نسلی عسکریت پسند صوبے میں استعمال کر رہے ہیں ۔"

گزشتہ برس صوبہ سندھ میں بی آر آئی سے منسلک منصوبوں پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر بشمول سندھودیش ریولیشنری آرمی (ایس آر ے)، پاکستان نے تین سندھی عسکریت پسند گروہوں پر پابندی عائد کر دی ۔

جولائی 2020 میں ملک میں چینی مفادات پر حملے کرنے کے لیے تشکیل پانے والے بلوچستان کے علیحدگی پسند گروہوں کے ایک جتھے بلوچ راجی آجوئی سانگھڑ (بی آر اے ایس) کے ساتھ ایس آر اے نے اشتراک کیا ۔

اس پولیس آفیسر نے کہا، "ایک دہائی طویل انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کے ذریعے پاکستان کی نفاذِ قانون کی ایجنسیاں ملک میں طالبان کی عسکریت پسندی پر قابو پانے میں کامیاں ہوئی ہیں۔"

"لیکن کے سی سی ڈی زیڈ سمیت حکومت کے منصوبے، چینی بیڑوں کی گہرے پانی میں ماہی گیری کو برداشت کرنا اور صحرائے تھر کے خطے میں بی آری آئی سے منسلک منصوبوں کی وجہ سے ناانصافی ملک میں نسلی شورش کی ایک نئی لہر کو بھڑکا رہے ہیں۔"

محفوظ شدہ جنگلات کو خطرہ

درایں اثناء، متعلقہ ماحولیاتی فعالیت پسندوں کے مطابق، کے سی سی ڈی زیڈ منصوبہ خطے میں نہایت اہم مینگروو جنگلات کو تباہ کر دے گا۔

یہ پہلی بار نہیں ہو گی کہ بی آر آئی منصوبے ماحولیاتی تبدیلی میں کردار ادا کریں گے اور مقامی آبادی کو صحت کے شدید مسائل کی زد میں لے آئیں گے ۔

انہوں نے تنبیہہ کی مینگرووز کے ذریعے بننے والی قدرتی رکاوٹ کو ممکنہ نقصان، تقریباً دو کروڑ کی آبادی کے شہر، کراچی کو تند طوفانوں اور سونامیوں سے مزید خطرے کی زد میں لے آئے گا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک ماہرِ ماحولیات اور صحافی آفیہ سلمان نے 26 ستمبر کو رہائشیوں سے مینگروزکی بیخ کنی کے خلاف لڑائی کے لیے تیار رہنے کے لیے کہتے ہوئے ٹویٹ کیا، "اس علاقہ میں مینگرووز ہیں۔۔۔ یہ محفوظ شدہ جنگلات ہیں۔"

انہوں نے اسی ٹویٹ میں کہا کہ کے سی سی ڈی زیڈ کے منصوبہ ساز"#SC [پاکستانی عدالتِ عظمیٰ] کے اس فرمان کے خلاف جا رہے ہیں جس میں اس نے کے پی ٹی [کراچی پورٹ ٹرسٹ] کو کسی بھی قسم کی تعمیر [ایس آئی سی] کی سرگرمی کرنے کی اجازت نہ دی اور حکم دیا کہ درست کی گئی زمین کو صرف شجرکاری کے لیے استعمال کیا جائے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500