https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/06/23/feature-02
دہشتگردی

حالیہ حملوں کے بعد حکام نے سندھی عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن سخت کر دیا

ضیاءالرّحمٰن

image

13 مئی کو کراچی میں رینجرز موٹرسائیکل سواروں کی تلاشی لے رہے ہیں۔ صوبہ سندھ میں رینجرز پر حملوں کے بعد کالعدم سندھی عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن سخت تر کر دیا گیا ہے۔ [ضیاءالرّحمٰن]

کراچی – 19 جون کو تمام تر صوبہ سندھ میں رینجرز پر حملوں کے بعد نفاذِ قانون کی ایجنسیوں نے – سندھودیش لبریشن آرمی (ایس ایل اے) سمیت – حال ہی میں کالعدم قرار دیے جانے والے سندھی عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی کاوشین تیز تر کر دی ہیں۔

ایس ایل اے نے کراچی، گھوٹکی اور لاڑکانہ میں رینجرز کے دو ارکان سمیت چار پاکستانیوں کی موت اور درجنوں کے زخمی ہونے کا باعث بننے والے تین حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی۔

کراچی کے علاقہ لیاقت آباد میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے ضرورت مند شہرویوں میں ہنگامی نقد رقوم تقسیم کرنے والے ایک حکومتی مرکز کے باہر ایک دستی بم پھٹنے سے ایک شخص جاںبحق ہو گیا۔ پولیس نے کہا کہ اس تنصیب کے تحفظ پر معمور رینجرز بنیادی ہدف تھے۔

جداگانہ طور پر ضلع گھوٹکی میں ایک ریلوے سٹیشن پر رینجرز کی ایک گاڑی کے قریب ایک ریموٹ کنڈرولڈ بم پھٹنے سے دو رینجرز اور ایک شہری جاںبحق ہوئے۔

image

13 مئی کو کراچی میں ریجنرز ڈیوٹی پر دکھائے گئے ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

image

گزشتہ 12 نومبر کو حیدرآباد میں جیے سندھ قومی محاذ-اریسار کے ارکان اپنے ساتھیوں میں سے ایک کی جیل سے رہائی کے لیے مارچ کر رہے ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

لاڑکانہ میں ایک دھماکے میں ایک میڈیکل کالج کے باہر کھڑی رینجرز کی گاڑی کو ہدف بنایا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے 19 جون کو ہونے والی دہشتگردی کی ان کاروائیوں کی مذمت کی اور ان سانحات سے متعلق مقامی حکام سے ایک رپورٹ طلب کر لی۔

سندھ پولیس کے شعبہٴ اندادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے ایک سنیئر عہدیدار راجہ عمر خطاب نے کہا کہ ہر واقعہ میں بنیادی ہدف ریجنرز اہلکار تھے۔

انہوں نے کہا کہ 19 جون کی جائے وقوعہ پر سے ایک بم ڈسپوزل سکواڈ اور فارینزیک ماہرین نے دھماکہ خیز مواد کے باقیات سمیت شواہد اکٹھے کیے ہیں۔

وائرس لاک ڈاؤن کا استحصال

سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے 19 جون کو سندھ رینجرز اور سی ٹی ڈی سمیت نفاذِ قانون کی متعدد ایجنسیوں کے عہدیداران کے ساتھ علاقائی سلامتی کی صورتِ حال پر ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔

شاہ نے صوبائی پولیس سربراہ کو حالیہ دھماکوں کی ایک جامع تفتیش کرنے کی ہدایات دیں۔

اجلاس میں شریک نفاذِ قانون کے عہدیدار نے اپنی شناخت خفیہ رکھے جانے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا، "اجلاس کے شرکاء نے اتفاق کیا کہ عسکریت پسند گروہ نفاذِ قانون کی ضلعی ایجنسیوں کے پہلے سے مصروف ہونے اورکروناوائرس بحران کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔"

اس عہدیدار نے کہا کہ شاہ نے نفاذِ قانون کی تمام ایجنسیوں کو دہشتگرد گروہوں پر کریک ڈاؤن اور صوبے بھر میں گشت تیز کرنے کے لیے اپنی مربوط کاوشوں کو مستحکم کرنے کا کہا۔

انہوں نے کہا کہ نفاذِ قانون کی ایجنسیوں نے مجرموں کو تلاش کرنے کی ایک کوشش میں صوبے بھر میں حال ہی میں کالعدم ہونے والے سندھی گروہوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں ملزمان کو اٹھالیا ہے۔

مئی میںپاکستان کی وزارتِ داخلہ نے صوبہ سندھ میں دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر جیے سندھ قومی محاذ اریسار (جے ایس کیو ایم-اے)، ایس ایل اے اور سندھودیش ریولوشنری آرمی (ایس آر اے) کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

ایس ایل اے جیے سندھ متحدہ محاذ (جے ایس ایم ایم) کا دہشتگرد محاذ ہے، جسے پہلے ہی 2013 میں کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ ایس ایل اے کی سربراہی کرنے والا شفیع برفات خودساختہ جلا وطنی میں یورپ میں مقیم ہے۔

درایں اثناء، 2015 میں مالیاتی اور قیادت سے متعلقہ تنازعات پر ایس ایل اے سے الگ ہو کر ایس آر اے سامنے آیا۔ دونوں گروہ صوبے بھر میں تشدد اور ٹارگٹڈ کلنگ میں ملوث رہے ہیں اور انہوں نے سیکیورٹی فورسز، ریل کی پٹڑیوں، قدرتی گیس کی پائپ لائنز اور بجلی کے کھمبوں پر حملہ کیا یا انہیں سبوتاژ کیا۔

ایس ایل اے اور ایس آر اے عسکریت پسندوں نے نفاذِ قانون کی ایجنسیوں کی جانب سے کریک ڈاؤن کو چقمہ دینے کے لیے ایک سندھی النسل سیاسی گروہ جے ایس کیو ایم-اے کے پرچم کو استعمال کیا۔

جوابی کارروائی

سندھ سی ٹی ڈی کے خطاب نے کہا کہ دہشتگردی کی حالیہ کاروائیاں "تین سندھی عسکریت پسند گروہوں کو کالعدم قرار دیے جانے اور ان پر کریک ڈاؤن کی جوابی کاروائی ہو سکتی ہیں۔"

عسکریت پسندوں کے تعاقب میں رینجرز بطورِ خاص نمایاں رہے ہیں۔

ستمبر 2013 میں جب اس وقت کی وفاقی حکومت نے متعدد جرائم پیشہ اور کالعدم عسکریت پسند گروہوں – بشمول تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) – کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن کا اعلان کیا تو رینجرز کو اس آپریشن میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کا کہا گیا۔

کراچی میں سیکیورٹی کے امور کو کور کرنے والے ایک صحافی، ثاقب صغیر نے کہا، "اس کے آغاز ہی سے نفاذِ قانون کی ایجنسیوں، بطورِ خاص رینجرز نے کامیابی کے ساتھ طالبان عسکریت پسندوں، جرائم پیشہ گینگز، فرقہ ورانہ گروہوں اور نسلی سیاسی جماعتوں کی عسکری شاخوں کو ہلا کر رکھ دیا۔"

انہوں نے کہا کہ کامیاب سیکیورٹی آپریشنز کی وجہ سے کراچی میں ٹارگٹڈ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)