https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/05/12/feature-01
جرم و انصاف |

وبا کے دوران پاکستانی افواج عسکریت پسند گروہوں پر محتاط نظر رکھے ہوئے

ضیاء الرّحمٰن

image

22 اپریل کو کراچی پولیس کا ایک اہلکار احتیاطی اقدام کے طور پر اپنے ساتھی کا درجہٴ حرارت چیک کر رہا ہے۔ [ضیاءالرّحمٰن]

کراچی – نفاذِ قانون کی ایجنسیاں عسکریت پسندوں اور یہاں تک کہ مجرمانہ گروہوں کے خلاف بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ سیکیورٹی اہلکار کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے انسداد میں حصّہ لے رہے ہیں۔

17 اپریل کو کراچی کے ضلع غربی میں چھاپوں کے دوران نیم فوجی رینجرز اور سندھ پولیس کے شعبہٴ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نےلشکرِ جھنگوی سے تعلق رکھنےکے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیا۔

سمیع اللہ (المعروف ارشد) اور محمّد جعفر (المعروف برکات اور افتخار) کے طور پر شناخت ہونے والے یہ ملزمان ریڈ بک میں درج تھے، جو کہ نہایت مطلوب عسکریت پسند ملزمان کی ایک فہرست ہے، اور ان کے سر پر ان کی گرفتاری کا باعث بننے والی معلومات فراہم کرنے پر 50 لاکھ روپے (31,000) ڈالر کا انعام تھا۔

یہ جوڑینفاذِ قانون کے اہلکاروں پر حملوں، فرقہ ورانہ ٹارگٹڈ قتل اور کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی اور احمدیہ کمیونیٹی کے ارکان کے قتل کے سلسلہ میں مطلوب تھی۔

image

21 مارچ کو ایک نیوز کانفرنس میں کراچی پولیس ایک کالعدم گروہ کے ارکان سے بازیاب شدہ اسلحہ اور گولہ بارود کی نمائش کر رہی ہے۔ [ضیاءالرّحمٰن]

image

22 اپریل کو لاک ڈاؤن کے دوران کراچی پولیس کے اہلکارایک دکان کے باہر معاشرتی فاضلے کا نفاذ کر رہے ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

درایں اثناء، سنیئر سپرانٹنڈنٹ عرفان بہادر نے کہا کہ، کراچی پولیس کے سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) اور فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی نے 19 اپریل کو گلستانِ جوہر کے علاقہ میں ایک مشترکہ چھاپہ مارتے ہوئےبرِ صغیر میں القاعدہ (اے کیو آئی ایس) کے چار عسکریت پسندوں کو گرفتار کر لیا۔

انہوں نے کہا، "گرفتار عسکریت پسندوں کی شناخت محمّد عمر، محمّد بلال (المعروف فدا)، محمد وسیم اور محمد عامر کے طور پر کی گئی، انہوں نے مزید کہا کہ ان چاروں نے افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی۔"

انہوں نے کہا کہ ان ملزمان نے مستقبل میں حملوں کے لیے پاکستان سٹاک ایکسچینج، شہری عدالتوں اور پولیس تربیتی مرکز سمیت متعدد حساس مقامات کی جاسوسی کر رکھی تھی۔

ایس آئی یو ہی نے 21 اپریل کو پاک کالونی کے علاقہ میں ایک اور چھاپے کے دوران ایک کالعدم جرائم پیشہ گروہ عوامی امان کمیٹی کے ساتھ مربوط ہونے کے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

بہادر نے کہا کہ انور (المعروف کوجاگ)، ماجد (المعروف کالو)، محمّد سہیل، اور ریاض گولیمار کے طور پر شناخت کیے گئے زیرِ حراست افراد متعدد سخت جرائم کے سلسلہ میں مطلوب تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے قبضہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی بازیاب کرایا گیا۔

عسکریت پسندوں کی جانب سے کرونا وائرس کا استعمال

سیکیورٹی تجزیہ کاروں اور حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں یہ ادراک کرتے ہوئے کرونا وائرس بحران کو استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہیں کہ نفاذِ قانون کی ایجنسیوں کی توجہ دوسری جانب مبذول ہے۔

وزارتِ داخلہ نے 9 مئی کو سندھ پولیس کو ایک تجویز ارسال کی، جس میں تنبیہ کی گئی تھی کہ دہشتگرد گروہ اہم سیکیورٹی تنصیبات، عمارات، عوامی مقامات اور عوامی اجتماعات پر حملہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس میں صوبائی حکام کو ان کے سیکیورٹی انتظامات بڑھانے کا کہا گیا۔

تجویز میں کہا گیا، "وہ [دہشتگرد گروہ] دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈیز) گاڑیوں پر مبنی دیسی ساختی دھماکہ خیز آلات (وی بی آئی ای ڈیز) اور دہشتگردی کی دیگر تکنیکیں استعمال کر سکتے ہیں۔"

ڈان نے 21 اپریل کو اے کیو آئی ایس کے ملزمان کی گرفتاریوں سے متعلق خبر دی، "حقیقت یہ ہے کہ عسکریت پسند اور پر تشدد مجرم، ہر دو اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ سیکیورٹی اہلکار لاک ڈاؤن سے متعلقہ فرائض میں پہلے سے مصروفِ کار ہیں، اسی لیے سیکیورٹی مشینری کو دہشتگردی اور بڑے پیمانے پر تشدد کے اقدامات سے بچنے کے لیے ایسے عناصر پر کڑی نگاہ جاری رکھنی ہو گی۔"

"دولتِ اسلامیہ" (داعش) نے مارچ کے وسط میں اپنے اخباری مراسلے النباء میں اپنے پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ کوئی رحمدلی نہ دکھائیں اور کرونا وائرس کی وبا کے دوران حملے کریں۔

ہمسایہ افغانستان میں حکام کی جانب سے کرونا وائرس وبا کی بیخ کنی کے لیے کام کے دوران افغان طالبان کے شدید ترحملے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ عسکریت پسند گروہ افغان شہریوں کی زندگیاں جہنم بنانے کے لیے مسلسل پرعزم ہے۔

اپنی شناخت پوشیدہ رکھے جانے کی شرط پر اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سینیئر انٹیلی جنس عہدیدار نے کہا، "عسکریت پسند گروہوں پر کریک ڈاؤن جاری کھنے پر توجہ اور ارتکاز کسی حد تک کم ہو جائے گا کیوں کہ نفاذِ قانون کا زیادہ تر عملہ کرونا وائرس کو محدود کرنے کی حکومتی کاوشوں میں مدد کر رہا ہے۔"

تاہم، پاکستانی حکام اس امر کے معترف ہیں کہ پاکستان میں عسکریت پسند گروہ اس بحران کو استعمال کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کراچی میں گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "یہی وجہ ہے کہ نفاذِ قانون کی ایجنسیاں اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورکس کا استعمال کرتے ہوئے از خود اقدامات کے تحت چھاپے مار رہی ہیں اور انہیں حالیہ دونوں میں کامیابی ملی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
8
تبصرے 3
تبصرہ کی پالیسی

ارے ضیاءالرّحمٰن، آپ نے اپنے نام کے ساتھ یوسفزئی لکھنا کیوں چھوڑ دیا؟ پینٹاگون کا یہ ویب پورٹل پٹھان مکالہ نویسوں کے لیے جلد ڈالر بنانے کی خوب جگہ ہے

جواب

hamari law agencies b bohat Acha kam kr rahi hain. tab hi awam sakoon r aman se apne citys main achi zindagi guzar rahe hain. Salam h tamam forses ke jawano ko.

جواب

تمام غلط باتیں پھیلانے والی پولیس حکومت میں نمبر بنانا چاہتی ہے۔

جواب