دہشتگردی

کوئٹہ میں لگژری ہوٹل پر طالبان کی بمباری نے چین کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

سیکورٹی کا عملہ اور رضاکار، 21 اپریل کو کوئٹہ میں سیرینا ہوٹل، کی پارکنگ میں پہنچ رہے ہیں، جہاں بم کا دھماکہ ہوا تھا۔ تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں 5 افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے۔ [بنارس خان/ اے ایف پی]

کوئٹہ -- تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں، چینی سفارت کار کی میزبانی کرنے والے پرتعیش ہوٹل پر، ہونے والے ہلاکت خیز حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ حکام نے جمعرات (22 اپریل) کو ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھا کر پانچ بتائی ہے۔

پولیس اور وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ بمبار نے بدھ کی رات کو اس وقت بم دھماکہ کیا جب وہ سرینا ہوٹل -- جو کہ فائیو سٹار ہوٹلوں کے ایک ایسے سلسلے کا حصہ ہے جو سفارت کاروں اور امدادی ایجنسیوں میں مشہور ہے -- کی پارکنگ میں ایک گاڑی کے اندر بیٹھا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کو ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں سیکورٹی کے اہلکار اور ہوٹل کا عملہ شامل تھا۔

طالبان نے کہا کہ سیکورٹی کا عملہ نشانہ تھا مگر بہت سے لوگوں کو اس بات پر یقین نہیں ہے۔

image

کوئٹہ میں 22 اپریل کو، چینی سفارت کار کی میزبانی کرنے والے پرتعیش ہوٹل پر ہونے والے خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے والے کے رشتہ دار، اس کی قبر پر فاتحہ پڑھ رہے ہیں۔ [بنارس خان/ اے ایف پی]

image

القاعدہ نے، اپنی ذرائع ابلاغ کی شاخ ال تہابت کے ذریعے، 21 اپریل کو کوئٹہ کے سیرینا ہوٹل پر حملہ کرنے پر، پاکستانی طالبان کو سراہا۔ [فائل]

پاکستان بلوچستان میں بہت سی نچلی سطح کی شورشوں سے جنگ کر رہا ہے جن کا آغاز اسلامیت پسند، علیحدگی پسند اور فرقہ ورانہ گروہوں نے کیا ہے اور جن میں سے کچھ علاقے میں چین کی موجودگی پرغصے میں ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وینگ وینبن نے بیجنگ میں کہا کہ جب بم دھماکہ ہوا تو چین کا وفد موجود نہیں تھا۔

پاکستان میں چین کے سفارت خانے میں زراعت کے کمشنر گو وین لینگ نے چین کے اخبار گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ بم دھماکہ ان کی واپسی کے متوقع وقت سے 10 منٹ پہلے ہوا۔

ہوٹل کے ایک گارڈ خدا بخش نے کہا کہ "میں کار پارکنگ سے گزر رہا تھا جب میں نے اچانک ایک زور دار آواز سنی اور میرے پاؤں کے نیچے زمین کانپ گئی"۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ "ہر کوئی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا اور میں بے ہوش ہو گیا"۔

ویک اینڈ پر ہونے والی شورش

گزشتہ کئی سالوں سے ٹی ٹی پی نے، افغان سرحد کے ساتھ اپنے ٹھکانوں، جہاں انہوں نے کئی قسم کے عالمی دہشت گرد گروہوں، جن میں القاعدہ بھی شامل ہے، کو پناہ فراہم کی ہے، سے پاکستان بھر میں شہری مراکز پر ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔

مگر ایک بہت بڑی عسکری مہم جس کا آغاز 2014 میں ہوا، نے گروہ کے کمانڈ اور کنٹرول ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جس سے پاکستان بھر میں عسکریت پسندوں کے تشدد میں ڈرامائی طور پر کمی واقع ہوئی۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کیا کہ "ہم اس عفریت کو دوبارہ ابھرنے کی اجازت نہیں دیں گے"۔

"ہم مکمل طور پر چوکنا ہیں اور تمام اندرونی اور بیرونی خطروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں"۔

القاعدہ نے، اپنی ذرائع ابلاغ کی شاخ ال تہابت کے ذریعے، بدھ کو طالبان کی طرف سے ہوٹل پر کیے جانے والے حملے کو سراہا۔

القاعدہ کی پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے ساتھ تعاون کرنے کی ایک تاریخ موجود ہے۔

مارچ کے آخیر میں، افغان اسپیشل فورسز نے، برصغیر پاک و ہند میں القاعدہ (اے کیو آئی ایس) کے ایک سینئر رکن کو طالبان کے ایک کمانڈر کے ساتھ، پکتیکا صوبہ میں ایک مہم کے دوران ہلاک کر دیا تھا جس سے دونوں گروہوں کے درمیان جاری تعلقات کا مزید ثبوت مل گیا تھا۔

چین کا استحصال، جبر پاکستانیوں کو اشتعال دلاتا ہے

سنکیانگ میں مسلمانوں سے بیجنگ کا غلط سلوک، چین مخالف جذبات کو پیدا کر رہا ہے جسے عسکریت پسند غلط طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ یہ تنبیہ سیکورٹی کے تجزیہ نگاروں اور حکام نے کی ہے۔

چین کے سنکیانگ کے علاقے میں "دوبارہ تعلیم دینے" کے چینی کیمپوں میں مسلمان خواتین کو منظم طور پر عصمت دری، تشدد اور جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ بات سابقہ قیدیوں اور ایک محافظ نے اس سال کے آغاز میں بی بی سی کے سامنے آشکار کی تھی۔

دریں اثناء، چینی حکام نے سنکیانگ میں تقریبا 16,000 مساجد کو شہید کیا ہے یا نقصان پہنچایا ہے اور یہ زیادہ تر گزشتہ تین سالوں کے دوران ہوا ہے۔ یہ بات آسٹریلیا کے اسٹریٹجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ایک تفتیشی رپورٹ سے پتہ چلی ہے۔

بلوچستان میں، چائینا-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) -- جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کا اہم حصہ ہے -- اور جس کے بارے میں بلوچستان کے شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس سے بہت کم فائدہ ہوا ہے کیونکہ زیادہ تر ملازمتیں باہر سے آنے والوں کو ملی ہیں، کے ذریعے علاقے میں آنے والے، چین کے کئی بلین ڈالروں، نے اشتعال کو مزید ہوا دی ہے۔

2019 میں، ایک مسلح شخص اس لگژری ہوٹل میں داخل ہوا جو سی پیک کے پرچم بردار منصوبے - - گوادر میں گہرے پانی کی بندرگاہ جس سے چین کو بحیرہ عرب تک اسٹریٹجک رسائی مل جائے گی -- کی نگرانی کر رہا تھا -- اور کم از کم آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا۔

بندرگاہ کے منصوبے نے خصوصی طور پر مقامی افراد کو اس لیے ناراض کیا کہ انہیں چینی کارکنوں کو تحفط دینے کے نام پر، ایک دیوار بنا کر ان کی اپنی بندرگاہ تک رسائی سے محروم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

مقامی افراد منصوبہ شدہ دیوار کے منصوبے کو اس لیے ناپسند کرتے ہیں کیونکہ اس سے گوادر ڈسٹرکٹ کے تین لاکھ سے زیادہ شہریوں کی نقل و حرکت میں مشکلات آ جائیں گی اور اس کے ساتھ ہی ماہی گیروں کو سمندر تک جانے کے ان کے معمول کے راستوں سے روک دیا جائے گا۔

اور گزشتہ جون میں، بلوچستان کے عسکریت پسندوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نشانہ بنایا جو جزوی طور پر چین کی کمپنیوں کی ملکیت ہے۔

بلوچستان لبریشن آرمی نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

پاکستان چین کی "بی" ریاست بن رہا ہے۔

جواب