احتجاج

گوادر میں احتجاجی مظاہروں سے چینی اثر و رسوخ پر بڑھتے ہوئے خدشات اجاگر

از زرک خان

image

گوادر کے ہزاروں باشندے 15 نومبر سے چینی منصوبوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ [جماعت اسلامی]

اسلام آباد -- گوادر میں احتجاج پاکستانیوں کی اپنی روزمرہ کی زندگیوں پر چینی اثر و رسوخ پر تشویش کا تازہ ترین اشارہ ہے.

بلوچستان کے جنوب مغربی ساحل پر واقع بندرگاہی شہر کے چین کی بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری (بی آر آئی) کا ایک بڑا حصہ بننے کی توقع ہے، جو پاکستان کو تجارت اور ایسے ترقیاتی منصوبوں کے لیے کھولے گا جنہیں بہت سے پاکستانی اپنے ملک کے لیے نقصان دہ اور چین کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔

ہزاروں باشندے 15 نومبر سے "گوادر کو اس کے حقوق دو" مہم میں حصہ لے رہے ہیں، جو مقامی اور چینی ٹرالروں کی جانب سے گہرے سمندر میں غیر قانونی ماہی گیری اور ان حفاظتی چوکیوں پر مقامی لوگوں کو ہراساں کیے جانے کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ایسے منصوبوں کے راستے میں ہیں جو چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ ہیں۔

جماعت اسلامی پاکستان کے مقامی رہنما مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں مظاہرین نے پانی اور بجلی کی قلت کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور گوادر میں باڑ لگانے کی ممکنہ مخالفت کا اظہار کیا ہے جس کا مقصد چینی امداد سے چلنے والے منصوبوں کو اُن بلوچ علیحدگی پسندوں سے بچانا ہے جو سی پیک کے مخالفت ہیں۔

image

فروری 2020 میں گوادر کا ایک ماہی گیر اپنا ماہی گیری کا جال تیار کرتے ہوئے۔ [زرک خان/پاکستان فارورڈ]

جنوری میں ایک صوبائی عدالت نے پاکستانی حکام کو گوادر میں بندرگاہ کے ارد گرد خاردار باڑ لگانے سے روک دیا تھا جس کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس سے ضلع کے 300,000 سے زائد رہائشیوں کی نقل و حرکت پیچیدہ ہو جائے گی اور ماہی گیروں کو سمندری رسائی کے مقامات تک پہنچنے سے روک دیا جائے گا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ سی پیک سے منسلک منصوبے گوادر کے رہائشیوں کی زندگیوں میں بہتری نہیں لائے اور نہ ہی ان سے پانی اور بجلی کی طویل قلت کو حل کرنے میں مدد ملی ہے۔

ماہی گیروں کے نمائندے بشیر ہوت، جو 15 نومبر سے روزانہ کی بنیاد پر مظاہروں میں شریک ہو رہے ہیں، نے کہا، "گوادر میں چین کی موجودگی نے مقامی باشندوں کو اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بنا دیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ مقامی باشندے غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ہوت نے مزید کہا، "احتجاجی مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گوادر کے رہائشی پاکستانی حکام کو اپنی نقل و حرکت کو محدود کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔"

گوادر کے ایک تاجر صفدر بلوچ نے کہا، "گوادر کو تجارت کا مرکز بنانے اور رہائشیوں کے لیے ترقیاتی منصوبوں میں مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بجائے، چین پاکستانی حکام کو بندرگاہی شہر کو سیکیورٹی زون بنانے اور رہائشیوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم ترقی کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہم ترقی کے نام پر ہونے والے استحصال پر خاموش نہیں رہیں گے"۔

ڈان نے حال ہی میں جاری احتجاج پر ایک اداریئے میں لکھا، "گوادر بندرگاہ کو طویل عرصے سے سی پیک کے تاج میں جڑے موتی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، لیکن اس عمل میں، یہ شہر ایک سیکورٹی ریاست کا عملی اظہار بن گیا ہے"۔

ملک بھر میں تشویش پھیل رہی ہے

گزشتہ چند برسوں میں بیجنگ نے پاکستان کے ساتھ کئی ارب ڈالر کے معاہدے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے کیے ہیں، جس سے چینی اثر و رسوخ پر تشویش پائی جاتی ہے اور چین کے اپنے شہریوں کو پاکستانی کارکنوں سے زیادہ تنخواہ دینے کے عمل سے ناراضگی پیدا ہوتی ہے.

مبصرین کے مطابق، بیجنگ مقامی وسائل کا استحصال کر رہا ہے اور اسے اپنے اقدامات کے مقامی آبادی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہے۔

بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے سیندک میں چینی کمپنیوں نے بغیر کسی مقامی، قومی یا بین الاقوامی نگرانی کے تانبے اور سونے کے ذخائر نکالے ہیں۔

مقامی باشندوں اور سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی قانون کے برعکس چینی کمپنیوں نے ضلع چاغی میں تعلیم، صحت یا بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری نہیں کی۔

صوبہ سندھ میں بی آر آئی سے منسلک منصوبوں پر تھر کے صحرائی علاقے کے رہائشیوں کی طرف سے احتجاج بھی کیا گیا ہے جب مطالعات سے پتہ چلا کہ پروگرام کے تحت کوئلے کی کان کنی کے منصوبے جنوبی ایشیاء میں فضائی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہوں گے اور مقامی آبادی کو صحت کے سنگین خطرات سے دوچار کریں گے۔

بلوچستان میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ پر غصے نے بلوچ اور سندھی عسکریت پسند تنظیموں کو ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کرنے کی ترغیب دی ہے، اس تشویش کو ہوا دیتے ہوئے کہ مشترکہ گروپ خطے میں پُرتشدد سرگرمیاں بڑھا دے گا۔

بلوچ راجی آجوئی سانگر نے جولائی 2020 میں ایک بیان میں کہا تھا کہ بلوچ راجی آجوئی سانگر (براس) اور سندھو دیش کی انقلابی فوج اب "خطے کے موجودہ منظر نامے کی روشنی میں مل کر کام کر رہے ہیں کیونکہ دونوں [بلوچ اور سندھیوں] کو بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ پر شدید تحفظات ہیں"۔

کراچی میں، عسکریت پسندوں نے نومبر 2018 میں چینی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا ، جس میں چار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

جون 2019 میں، کراچی میں بھی چار دہشت گردوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا ، جس میں تین محافظ پہرے دار اور ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ بلوچستان لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک چینی کنسورشیم پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 40 فیصد کا مالک ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500