https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/04/21/feature-03
سیاست

چین، روس اور ایران آزادیِ صحافت کو نقصان پہنچانے کے لیے عالمی وباء کو استعمال کر رہے ہیں

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن، 13 اپریل کو ماسکو کے مضافات میں ٹیلی کانفرنس کے ذریعے، روس میں کووڈ-19 کی عالمی وباء کی وسعت کے بارے میں میٹنگ میں شریک ہیں۔ [الیکسی ڈروزنن/ سپوتنک/ اے ایف پی]

سرگرم کارکنوں کے مطابق، کورونا وائرس کی عالمی وباء، دنیا بھر میں آزادیِ صحافت کے لیے خطرات کو بڑھا رہی ہے اور آمرانہ حکومتیں جن میںچین، روس اور ایران شامل ہیں، عالمی وباء کی تفصیلات کو دبا رہی ہیں۔

پیرس سے تعلق رکھنے والی تنظیم رپورٹرز وادوٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے اتوار (19 اپریل) کو جاری کی جانے والی آزادیِ صحافت کی سالانہ درجہ بندی میں کہا کہ عالمی وباء ان "بہت سے بحرانات کو اجاگر کر رہی ہے اور بڑھا رہی ہے" جو پہلے ہی آزادیِ صحافت پر سایہ ڈال رہے ہیں۔

آر ایس ایف کے سیکریٹری جنرل کرسٹوف ڈیلئیر نے منگل (21 اپریل) کو اے ایف پی کو بتایا کہ عالمی وباء نے بہت سی ریاستوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ "اس امر کا فائدہ اٹھائیں کہ لوگ اس وقت حیران پریشان اور نقل و حرکت کمزور ہو گئی ہے اور ایسے اقدامات نافذ کرنا ممکن ہو گیا جو کہ اس سے پہلے عام حالات میں اپنائے جانے ممکن نہیں تھے"۔

آر ایس ایف نے چین اور ایران کی حکومتوں پر جو کہ درجہ بندی کیے جانے والے 180 ممالک میں سے بالترتیب 177ویں اور173 ویں درجے پر ہیں، الزام لگایا کہ وہ کورونا وائرس کی بڑے پیمانے پر پھیلنی والی وباء کی خبروں کو سنسر کر رہی ہیں۔

ان الزامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ بیجنگ نے عالمی وباء کی ابتدائی وسعت کو چھپایا تھا، آر ایس ایف نے کہا کہ وہ "معلومات کے نظام کو بہت زیادہ زیرِ کنٹرول رکھنا جاری رکھے ہوئے ہے جس کے منفی اثرات کو کورونا وائرس کے صحت عامہ کے بحران کے دوران ساری دنیا کو منفی طور پر متاثر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے"۔

اس نے مزید کہا کہ کسی ملک کی درجہ بندی کا، کورونا وائرس کی عالمی وباء کے ردِعمل اور آزادیِ صحافت کو دبائے جانے کے درمیان "واضح تعلق" موجود تھا۔

ناروے سب سے زیادہ آزادیِ صحافت ہونے پر، گزشتہ چار سالوں کی طرح اس سال بھی سرِ فہرست رہا اور فن لینڈ اس سال بھی دوسرے نمبر پر رہا۔

'مضبوط لوگ اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں'

رپورٹ میں اس قانون کا حوالہ دیتے ہوئے، جو روس کے انٹرنیٹ کو باقی کی دنیا سے کاٹ دے گا، کہا گیا کہ صدر ولادیمیر پوٹن کی زیرِ حکومت کریملن بھی "انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے لیے زیادہ جامع طریقے استعمال کر رہا ہے"۔

روس کی حکومت کو آر ایس ایف کی درجہ بندی میں واں مقام حاصل ہے۔

آر ایس ایف نے کہا کہ "چین جیسی صورتِ حال کا روس میں پیدا ہو جانا بہت خطرناک ہے"۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے 21 اپریل کو ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ آر ایس ایف "ہمیشہ سے چین کے خلاف متعصب رہا ہے" اور مزید کہا کہ بیجنگ دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے اخباری نمائںدوں کو چین میں کام کرنے کے لیے خوش آمدید کہتا ہے "اگر وہ قوانین اور ضوابط کا دھیان رکھیں"۔

آر ایس ایف نے کہا کہ "مشرقی یورپ اور وسطی ایشیاء میں تقریبا ہر جگہ طاقت ور افراد خبروں اور معلومات پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں"۔

آر ایس ایف کا انتباہ یورپین یونین (ای یو) کی طرف سے یکم اپریل کو جاری کی جانے والی ایک تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے جو میں پتہ چلا تھا کہ چین اور روس دونوں کی حکومتیں کورونا وائرس کی عالمی وباء کے بارے میں غلط معلومات پھیلا رہی ہیں جس سے دنیا بھر میں انسانی جانوں کو خطرہ ہے اور جمہوری معاشروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

اسی دوران، دونوں حکومتوں کی طرف سے غلط معلومات کی مہمات میں ان کی اپنی حکومتوں کی بہت تعریفیں کی گئی ہیں جبکہ ان ممالک نے اس عالمی وباء کا مقابلہ کرنے کے لیے جو کارکردگی دکھائی ہے وہ قابلِ سوال ہے۔

مثال کے طور پر،روس کا پروپیگنڈا کووڈ -19 سے جنگ کرنے کے لیے ماسکو کی کارکردگی کی مدح سرائی کر رہا ہے، اگرچہ کہ روس میں حکام مُضطَربانَہ طور پر اس وباء کے خلاف اپنے ملک کو بند کر رہے ہیں جس کو ماننے میں انہوں نے پہلے ہی دیر کر دی ہے۔

ای یو کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دریں اثنا، چین میں پروپیگنڈا کرنے والے ووہان کی ویٹ مارکیٹ میں کووڈ -19 کے پہلی بار سامنے آنے کی ان خبروں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں تجویز کر رہے ہیںکہ اسے ووہان میں امریکہ کے فوجی لے کر آئے تھے یا یہ کہ اس کا آغاز اٹلی سے ہوا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)