صحت

400,000 سے زائد 'اضافی اموات' روس کی کووڈ-19 کی پردہ پوشی پر انگلی اٹھاتی ہیں

از پاکستان فارورڈ

image

کووڈ-19 کی جاری عالمی وباء کے دوران، 16 نومبر 2020 کو ماسکو کے نواح میں، کومونارکا میں ایک ہسپتال کے ہنگامی حالات کے کمرے سے ذاتی حفاظتی سامان پہنے ایک طبی اہلکار رخصت ہوتے ہوئے۔ [نتالیہ کولیسنکوفا / اے ایف پی]

سمارا، روس -- نیویارک ٹائمز کی ایک تحقیق میں دکھایا گیا ہے کہ گزشتہ برس روس میں اموات معمول سے 28 فیصد زیادہ تھیں، جس سے صدر ولادیمیر پیوٹن کے یہ دعوے جھوٹ ہو جاتے ہیں کہ ملک نے کورونا وائرس کا مقابلہ بیشتر ممالک سے بہتر انداز میں کیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اپریل اور دسمبر 2020 کے درمیان، روس میں کووڈ-19 سے ہونے والی اموات کی تعداد 57،002 تھی۔

دی نیویارک ٹائمز نے 10 اپریل کو خبر دی تاہم، شرح اموات کے تاریخی اعداد و شمار کا ایک تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ برس عالمی وباء کے دوران 362،302 اموات معمول سے سے زائد ہوئیں.

روس کے سرکاری محکمۂ شماریات، روستات، جو تمام وجوہات کی بناء پر ہونے والے اموات کا میزان تیار کرتا ہے، کے مطابق، اس سال جنوری اور فروری کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی وباء کی ابتداء کے بعد سے "اضافی اموات" کی تعداد اب 400،000 سے کہیں اوپر ہے۔

image

کووڈ-19 سے حفاظت کے لیے چہرے پر ماسک لگائے ایک شخص 8 مارچ کو ماسکو میں چہل قدمی کرتے ہوئے۔ [یوری کادوبنوف/اے ایف پی]

image

روس کی کووڈ-19 کی امیدوار ویکسین کے لیے ایک تشہیری ویڈیو میں سپتنک پنجم کو بیماری کا صفایا کرتے ہوئے ایک سیارے کے طور پر دکھایا گیا ہے جو کورونا وائرس سے متاثرہ گلوب کے گرد گردش کر رہا ہے۔ [روسی براہِ راست سرمایہ کاری فنڈ]

ان "اضافی اموات" میں کووڈ-19 اور دیگر وجوہات سے ہونے والی اموات شامل تھیں، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ بیشتر عالمی وباء سے متعلقہ معلومات جو کریملن سے باہر آتی ہیں ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا.

ماسکو میں ایک آزاد ماہرِ آبادیات، الیکسئی راکشا نے کہا کہ کورونا وائرس کی شرح اموات کے لحاظ سے، "اس سے بدتر ترقی یافتہ ملک ملنا مشکل ہے۔ حکومت ان حقائق کے اجاگر ہونے سے بچنے کے لیے جو کچھ کر سکتی ہے وہ کر رہی ہے۔"

لوگوں کی جانوں پر پراپیگنڈہ

پچھلے سال کے زیادہ حصے میں، کریملن کی توجہ بذاتِ خود وائرس سے لڑنے کی بجائے عالمی وباء کے تعلقاتِ عامہ کو جیتنے کے پہلو پر مرکوز رہی ہے -- جس میں بھاری بھرکم پراپیگنڈہ کوشش روسی ساختہ سپتنک پنجم ویکسین کو آگے بڑھانے کے لیے کی گئی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد کو کم بتانے نے عوام کو وائرس کے خطرات اور ویکسین لگوانے کی اہمیت کے متعلق اندھیرے میں رکھا ہے۔

اس نے کریملن سے باہر آنے والی کسی بھی معلومات، بشمول سپتنک پنجم کی تاثیر پر عوامی بھروسے کو تباہ بھی کیا ہے۔

"لوگ معروضی حالات سے واقف نہیں تھے۔ اور اگر آپ معروضی حالات سے واقف نہیں ہوتے، تو آپ خوفزدہ نہیں ہوتے،" یہ کہنا تھا اولگا کگرلٹسکایا کا، جن کے والد، ایک نیم طبی پیشہ ور، جنوب مغربی روس کے ایک نسبتاً خوشحال شہر، سمارا میں ایک ہسپتال کے کورونا وارڈ میں داخل ہونے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔

سرکاری طور پر بتائی جانے والی موت کی وجہ "متعدی نمونیہ، غیر صریح" تھی۔

اس پردہ پوشی سے ناراض کگرلٹسکایا، سوشل میڈیا پر ان کے غصے کے وائرل ہونے اور سمارا کے گورنر کی جانب سے مداخلت کے بعد اپنے والد کی موت کی وجہ تبدیل کروا کر کووڈ-19 کروانے میں کامیاب ہوئیں۔

سمارا میں پچھلے برس سرکاری طور پر کورونا وائرس سے صرف 606 اموات بتائی گئیں لیکن سنہ 2020 میں 10،596 اضافی اموات ہوئیں -- جو کہ گزشتہ برس کی شرح اموات سے 25 فیصد زیادہ ہے۔

ابھی بھی حکام مُصر ہیں کہ اعداد و شمار درست ہیں۔

سمارا کے وزیرِ صحت ارمن بینیان نے کہا، "مطبوعہ اعداد و شمار قابلِ بھروسہ ہیں"۔

تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے علاقے میں ہونے والی بیشتر اضافی اموات کا تعلق کسی نہ کسی طرح عالمی وباء سے تھا۔ مثال کے طور پر، کووڈ-19 کے ایک مریض کو پڑنے والا دل کا دورہ سرکاری گنتی میں شمار نہیں ہو گا۔

'آپ کسی پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتے'

اعداد و شمار میں یہ ہیرا پھیری اور وائرس کے خطرات کے متعلق حکومت کی جانب سے دانستہ غلط بیانی نے عالمی وباء کے متعلق کریملن کی پیغام رسانی پر روسیوں کی گہری بے اعتمادی میں اضافہ کیا ہے.

آزاد لیواڈا مرکز کی جانب سے گزشتہ اکتوبر میں کروائے جانے والے رائے عامہ کے جائزے میں پتہ چلا کہ زیادہ تر روسی کورونا وائرس کے کیسز کے بارے میں خود اپنی حکومت کے میزان پر یقین نہیں کرتے۔

سوالات پوچھے جانے والے 61 فیصد جنہیں کریملن کے اعداد و شمار پر اعتماد نہیں ہے، میں سے 28 فیصد کا کہنا ہے کہ تعداد بہت زیادہ بتائی گئی ہے اور 33 فیصد کا کہنا ہے کہ تعداد بہت کم بتائی گئی ہے۔

حتیٰ کہ کریملن کی سپتنک پنجم کی مارکیٹنگ کے لیے ایک بھاری بھرکم پراپیگنڈہ مہم کے ساتھ بھی -- جس میں وسط ایشیاء، لاطینی امریکہ، افریقہ اور حتیٰ کہ کچھ یورپی ممالک میں بھی ویکسین کی آمد کا جشن منایا گیا -- رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے میں ویکسین پر گہری اور بڑھتی ہوئی بداعتمادی کا اظہار کیا گیا ہے.

اگست میں، جب پیوٹن نے بہت زیادہ گاجے باجے کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ روس کووڈ-19 کی ویکسین بنانے والا "پہلا" ملک تھا -- طبی آزمائشیں مکمل ہونے سے پہلے ہی -- سوالات پوچھے گئے 38 فیصد روسیوں نے کہا کہ وہ ویکسین لگوائیں گے اور 54 فیصد نے کہا کہ نہیں لگوائیں گے۔

تین ماہ بعد، سپتنک پنجم پر اعتماد میں اضافہ ہونے کی بجائے، لیواڈا مرکز کے رائے عامہ کے جائزے نے اس کے برعکس ظاہر کیا: 36 اسے فیصد لگوائیں گے؛ 59 فیصد نہیں لگوائیں گے۔

فروری میں، 62 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ویکسین لگوانے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے۔

رائے عامہ کے بالکل حالیہ جائزے نے ظاہر کیا کہ نصف سے زائد روسیوں -- 58 فیصد -- کو کووڈ-19 لگنے کا خوف نہیں ہے، جو کہ گزشتہ سال میں بلند ترین شرح ہے۔

5 دسمبر کو وی ٹائمز پر شائع ہونے والے رشین فیڈریشن میڈکس نیٹ ورک پول کے مطابق، روسی طبی اہلکاروں کو بھی سپتنک پر بھروسہ نہیں ہے، جس میں 50 فیصد کا کہنا ہے کہ ان کا کورونا وائرس کے خلاف ویکسین لگوانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

21 فیصد سے زائد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ روس کے اپنے ملک میں بنائے گئے ٹیکے کی بجائے غیر ملکی ساختہ ویکسین لگوانے کو ترجیح دیں گے۔

سمارا کی اینا پوگوزیفا نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ عالمی وباء کے متعلق کس بات پر یقین کریں۔

اس کی والدہ، جو وضع حمل کی ماہر امراضِ نسواں تھی، نومبر میں ایک سی ٹی سکین کی بنیاد پر کووڈ-19 کے سلسلے میں ہسپتال داخل کروائے جانے کے بعد انتقال کر گئی تھی۔ دیگر بہت سوں کی طرح، اس کی موت کی سند پر بھی کورونا وائرس کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔

پوگوزیفا درخواست کر رہی ہے کہ اس کی والدہ کی موت کی وجہ تبدیل کی جائے۔

لیکن وائرس کی تباہ کاری کو اتنی قریب سے محسوس کرنے کے بعد بھی، پوگوزیفا کا کہنا تھا کہ وہ ویکسین نہیں لگوائے گی۔

اس نے دی نیویارک ٹائمز کو بتایا، "کس بدبخت کو معلوم ہے کہ انہوں نے اس میں کیا ملا رکھا ہے؟ آپ کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتے، خصوصاً جب ایسی صورتحال ہو۔"

کریملن کی مقبولیت میں کمی

17 فروری کو ایسٹونیا کے غیر ملکی جاسوسی کے محکمے (ای ایف آئی ایس) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، زمینی حقائق سے غیر متزلزل، روس کورونا وائرس کی عالمی وباء سے ایک جغرافیائی و سیاسی افزائش کے لیے پُرامید ہے.

رپورٹ میں کہا گیا، "کریملن کو یقین ہے کہ عالمی وباء دو رجحانات میں تیزی لائے گی جنہیں فروغ دینے کے لیے روس خود بھی مصروفِ عمل ہے: بین الاقوامی تعلقات میں کثیر قطبی تغیر اور عالمی سٹیج پر مغربی اثر و رسوخ میں کمی"۔

پیوٹن کو توقع ہے "عالمی وباء مغرب کو مجبور کر دے گی کہ وہ داخلی پالیسی اور معاشی مسائل پر توجہ دے، عوامیت پسند اور انتہاپسند تحریکوں کے ظہور کا سبب بنے گی، اور آخرکار مغربی معاشروں کے اقدار پر مبنی اور ادارہ جاتی اتحاد کو تباہ کر دے گی"۔

اس میں مزید کہا گیا، "روس ان رجحانات کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے شعلوں پر تیل چھڑکنے کے لیے تیار ہے۔"

ان شعلوں کو ہوا دینے کے لیے، کریملن نے اپنی ویکسین سپتنک پنجم کی تشہیر کرنے کی ایک بڑی پراپیگنڈہ مہم شروع کر دی ہے، ان مہمات کے ساتھ ساتھ جن میں مغرب کی تیار کردہ ویکسینز کو بدنام کیا جاتا ہے۔

کریملن کی غلط بیانی کی مہمات زیادہ تر روس سے باہر کے سامعین کو ہدف بناتی ہیں، جبکہ ملک کے اندر بڑھتی ہوئی غربت، حد سے زیادہ بدعنوانی، انتہائی عدم مساوات اور سیاسی استحصال پیوٹن کی قیادت پر عدم اطمینان کو بڑھا رہے ہیں۔

ای ایف آئی ایس کا کہنا تھا کہ روسی حکومت نے اپنے سیاسی، معاشی اور عسکری اثر و رسوخ کو اپنے چھوٹے ہمسایہ ممالک جن میں سے بہت سے سابقہ سویت سٹیٹس ہیں، کو غیر مستحکم کرنے، اور ان کے یورو-اٹلانٹک تنظیموں میں انضمام کو روکنے کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔

جغرافیائی و سیاسی کھیل بیلاروس میں، کریمیا اور یوکرین میں ڈون باس کے علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں -- جہاں روس فوجیں جمع کر رہا ہے، جارجیا کے ابخازیا اور جنوبی اوسیتیا، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ناگورنو-کراباخ تنازعہ، اور کرغیزستان میں گزشتہ برس سیاسی بدامنی میں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500