سلامتی

القاعدہ اور طالبان کے درمیان قریبی تعلقات کے شواہد میں اضافہ

از سلیمان

image

طالبان کے شریک بانی ملا عبدل غنی برادر (درمیان میں) اور طالبان کے وفد کے دوسرے ارکان، 18 مارچ کو ماسکو میں افغانستان کے بارے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں جس کا مقصد افغان تنازعہ کا ایک پرامن حل تلاش کرنا ہے۔ [الیگزینڈر زیمیلیانیچینکو/ اے ایف پی]

کابل -- افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے درمیان قریبی تعلقات کی موجودگی کے بارے میں شواہد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے باجود اس امر کے کہ اس نے اس دہشت گرد گروہ سے تعلقات ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

افغان حکام، اقوامِ متحدہ (یو این) اور امریکہ نے طالبان پر الزام لگایا ہے کہ وہ فروری 2020 کے دوحہ معاہدے، جس کے تحت طالبان نے القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد گروہوں سے تعلقات ختم کرنے کا عہد کیا تھا، کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

گزشتہ منگل (27 اپریل) کو ہونے والی ایک نیوز کانفرنس کے دوران، افغان نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کے سربراہ احمد ضیاء سراج نے کہا کہ اگرچہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں کہ وہ القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر لے گا مگر افغان حکومت کو اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس نے حقیقت میں ایسا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "طالبان نے تمام دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں پناہ گاہیں فراہم کی ہیں --- طالبان کی مدد کے بغیر کوئی دہشت گرد گروہ کام نہیں کر سکتا"۔

image

اس تصویر میں، جو کہ 23 مارچ کو شائع ہوئی، طالبان کے جنگجو نامعلوم مقام پر ہونے والی ایک عسکری مشق میں شرکت کر رہے ہیں۔ [طالبان]

image

امریکی سروس ارکان، 17 مارچ 2020 کو، ریزولوٹ سپورٹ مشن کی مدد کرتے ہوئے، افغانستان میں ایک نامعلوم جگہ پر حدود کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ امریکہ نے افغانستان سے واپس چلے جانے کے فیصلے کا اعلان کرکے، طالبان کے ساتھ کیا اپنا وعدہ پورا کیا ہے مگر شواہد تجویز کرتے ہیں ہیں کہ طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے ہیں خصوصی طور پر جہاں تک القاعدہ سے تعلقات ترک کرنے کا سوال ہے۔ [امریکی فضائیہ]

سراج نے القاعدہ کے بہت سے سینئر ارکان کی عسکری مہمات میں ہونے والی حالیہ ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ "ہمارے پاس اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے تعلقات ابھی بھی مضبوط ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ بات صاف عیاں ہے کہ طالبان نے القاعدہ کے ساتھ، نہ تو انفرادی (کمانڈروں کی سطح پر) اور نہ ہی مقامی سطح پر، تعلقات ختم کیے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ طالبان کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات اہم پالیسی بنیادوں پر قائم ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "القاعدہ کے بہت سے جنگجو جنہیں میدانِ جنگ میں ہلاک یا گرفتار کیا گیا تھا، نے تسلیم کیا ہے کہ انہیں طالبان کی طرف سے بھرپور تحفظ اور مدد فراہم کی جا رہی تھی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "طالبان اور القاعدہ کے درمیان تعلقات صرف نظریاتی مسئلہ نہیں ہے، یہ اس سے آگے ہیں -- انہوں نے غیر منقسم خاندانی (شادیوں سے) تعلقات قائم کر لیے ہیں"۔

افغان پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا، میشرانو جرگہ کے ایک رکن محمد آصف صدیقی نے کہا کہ افغان نیشنل سیکورٹی فورسز اور ایجنسیوں، اقوامِ متحدہ اور امریکہ نے اس بات کی تصدیق دیکھی ہے کہ طالبان نے القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات ختم نہیں کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کی بجائے، طالبان نے القاعدہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید بڑھایا اور مضبوط کیا ہے۔

صدیقی نے کہا کہ "طالبان اور القاعدہ کے مشترکہ مقاصد اور مفادات ہیں --- اور وہ ایک دوسرے کی تکنیکی، عسکری، مالی اور انٹیلیجنس کی صلاحیتوں کو اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں"۔

صدیقی کے مطابق، امریکہ نے افغانستان سے واپس چلے جانے کا اعلان کر کے، طالبان کے ساتھ کیے اپنے وعدے کو پورا کیا ہے مگر بدقسمتی سے طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے ہیں خصوصی طور پر جہاں تک القاعدہ سے تعلقات ختم کرنے کا سوال ہے۔

"امریکہ اور بین الاقوامی برادری کو دھوکہ دیتے ہوئے، طالبان انتظار کر رہے ہیں کہ غیر ملکی افواج چلی جائیں تاکہ وہ القاعدہ کی مدد سے افغانستان میں دوبارہ سے اقتدار پر قبضہ کر لیں"۔

کابل سے تعلق رکھنے والے، افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے مقامی پولیس اور فوجی امور کے تجزیہ کار، جنرل (ریٹائرڈ) سکندر اصغری نے کہا کہ طالبان اور القاعدہ کے درمیان نظریاتی اور خونی تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کبھی بھی القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات ختم نہیں کریں گے بلکہ اس کی بجائے وہ انہیں مزید مضبوط بنائیں گے۔

اصغری کے مطابق، القاعدہ تین مرکزی میدانوں میں طالبان کو مدد فراہم کرتی ہے -- پہلے تو مالی شعبہ ہے کیونکہ القاعدہ ایک بین الاقوامی گروہ ہے جس کے پاس بہت وسیع مالی وسائل ہیں، دوسرا شعبہ عسکری تربیت کا ہے کیونکہ القاعدہ کے ارکان نے مختلف ممالک سے تربیت حاصل کر رکھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تیسرے، القاعدہ کے ارکان کو بڑے اور پیچیدہ حملے جیسے کہ 11 ستمبر 2001 کا دہشت گردانہ حملہ، کرنے کا تجربہ ہے اور وہ طالبان کے جنگجوؤں کو ایسے حملوں کی تربیت دے سکتے ہیں۔

طالبان میں پُھوٹ

تازہ ترین انتباہ اس وقت آیا جب خفیہ اطلاعات نے تجویز کیا کہ طالبان کے اندر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

افغان نیشنل سیکورٹی کے مشیر حمد اللہ موحب نے 16 اپریل کو ہونے والی ایک آن لائن کانفرنس، جس کی میزبانی ہندوستان نے کی تھی، کہا کہ طالبان اب چار دھڑوں میں تقسیم ہو چکے ہیں اور ہر دھڑہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔

محب کے مطابق، ایک دھڑے کی قیادت ملا عبدل غنی برادر کر رہے ہیں جو کہ افغانستان میں طالبان کے شریک بانی ہیں، ایک کی قیادت طالبان کے عسکری سربراہ ملا محمد یعقوب، ایک کی قیادت طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کر رہے ہیں اور ایک حقانی نیٹ ورک ہے۔

محب نے کہا کہ "افغانستان میں جنگ کا خاتمہ کرنے کے لیے، ہمارے لیے صرف ایک دھڑے کے ساتھ ہی نہیں بلکہ طالبان تحریک کے باقی تینوں دھڑوں کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنا لازمی ہو گا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "طالبان کے کچھ عناصر ایسے ہیں جو امن مذاکرات میں شامل ہونے کے خواہش مند ہیں۔ تاہم، اگر ہم ایک جامع امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں تمام اطراف کو شامل کرنا ہو گا"۔

این ڈی ایس کے سربراہ سراج نے طالبان تحریک کے اندر اختلافات کی تصدیق کی۔

سراج نے کہا کہ "ملا برادر اور طالبان کے دوسرے کمانڈروں کے درمیان سخت کشیدگی ہے۔ اس کیشدگی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے"۔

عسکری معاملات کے تجزیہ نگار ظاہر عظیمی، جو ریٹائرڈ فوجی افسر ہیں اور جن کا تعلق کابل سے ہے، نے کہا کہ "جہاں تک نظریات اور مقاصد کا تعلق ہے، حقانی نیٹ ورک کے اعتدال پسند طالبان کمانڈروں کے ساتھ اختلافات ہیں۔ ہر دھڑہ اپنے مقاصد اور مفادات کی پیروی کرتا ہے"۔

عظیمی نے مطابق، طالبان کے انتہاپسند دھڑے کی قیادت حقانی نیٹ ورک کے پاس ہے جو عسکری ذرائع سے جنگ کو جیتنا اور اپنے نظریات کی بنیاد پر حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاہم، طالبان کے اعتدال پسند دھڑے افغانستان کی صورتِ حال کو سمجھتے ہیں اور انہیں یقین نہیں ہے کہ جنگ کو عسکری طریقے سے جیتا جا سکتا ہے۔ اس لیے وہ ایک وسیع قومی حکومت قائم کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔

کابل سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ نگار معظم کاظمی نے کہا کہ "طالبان متحد نہیں ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کا ایک حصہ جو روس اور ایران سے جڑا ہوا ہے اور جسے ان ملکوں سے سرمایہ اور سامان ملتا ہے، کا امن اور جنگ کے بارے میں متحدہ موقف ہے، طالبان کا ایک اور حصہ جسے علاقے کے دوسرے ممالک کی حمایت حاصل ہے، کا موقف مختلف ہے۔

کاظمی نے کہا کہ "پھر طالبان کے اندر وہ لوگ ہیں جو صرف اپنی نسل اور دھڑے کے مفادات میں دلچسپی رکھتے ہیں"۔

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500