سلامتی

افغان افواج نے ہلمند میں طالبان کی حمایت کرنے والے 30 القاعدہ ارکان کو ہلاک کر دیا

پاکستان فارورڈ

image

16 مئی کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ایک تصویر میں 215 ہویں میوند کور کے ارکان صوبہ ہلمند کے صدرمقام لشکرگاہ میں چل رہے ہیں۔ [میجر جنرل سید سمیع سادات/ٹویٹر]

لشکرگاہ – افغان نیشنل آرمی (اے این اے) کے ایک کمانڈر نے کہا کہ افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز (اے این ایس ڈی ایف) نے صوبہ ہلمند کے صدرمقام لشکرگاہ پر طالبان کے حملوں میں ایک اضافہ کے ردِّ عمل کے جزُ کے طور پر کم از کم 30 القاعدہ ارکان کو ہلاک کر دیا۔

تولو نیوز نے پیر (31 مئی) کو خبر دی کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران طالبان نے لشکر گاہ پر تقریباً 700 حملے کیے جن میں سے زیادہ تر شہر کے نواح میں پولیس اضلاع پر کیے گئے۔

اے این اے کی 215 ہویں میوند کور کے کمانڈر میجر جنرل سید سمیع سادات نے کہا کہ اس گروہ کو "القاعدہ جنگجوؤں کی مدد حاصل تھی"۔

انہوں نے تولو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، "القاعدہ جنگجوؤں نے ہمارے فوجیوں سے محازوں پر جنگ کی ہے۔ گزشتہ تین ہفتوں میں جنگ کے دوران ان میں سے کم از کم 30 ہلاک ہو گئے ہیں۔"

image

5 مئی کو جب لشکرگاہ، صوبہ ہلمند کے نواح میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین لڑائی کی وجہ سے داخلی طور پر بے گھر ہونے والے خاندان فرار ہو رہے ہیں، ایک پولیس اہلکار سڑک پر لگے ایک ناکے پر تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے افواج کے تیزی سے انخلاء کے باوجود امریکی جنگی جہاز طالبان کی جانب سے ملک کے جنوب میں ایک بڑی جارحانہ کاروائی کے خلاف افغان فورسز کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ [سیف اللہ زاہدی/اے ایف پی]

انہوں نے کہا کہ اے این ایس ڈی ایف نے القاعدہ ارکان کی شناختوں اور دیگر دستاویزات سے متعلق شواہد جمع کر لیے ہیں ۔

سادات نے 25 مئی کو ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی ایک آڈیو میں آزاد صحافی بلال سروری سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہلمند میں میدانِ جنگ … کافی سخت ہے، اور رواں برس مئی میں طالبان-امریکہ معاہدہ کے خاتمہ کے بعد سخت تر ہو گیا، اور طالبان نے لشکرگاہ شہر کے نوا اور نہرِ سراج کے اضلاع میں بڑے حملوں کا آغاز کر دیا۔"

انہوں نے کہا، "گزشتہ سات روز میں طالبان نے 390 سے زائد حملے کیے، جن میں سے زیادہ تر لشکرگاہ شہر پر مرکوز تھے، جبکہ تمام تر ہلمند اور جنوبی افغانستا سے تقریباً 3,000 جنگجو آدمی جمع کیے گئے تھے۔"

"لیکن وہ اپنے کسی بھی مقصد [میں] کامیاب نہ ہو سکے، اور انہیں خاصے جانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔"

سادات نے کہا کہ طالبان لشکرگاہ پر قبضہ حاصل کر کے، شہر کو قندھار سے علیحدہ کرنا اور متعدد شاہراہوں تک رسائی کو مسدود کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا، "وہ ان تینوں مقاصد میں بری طرح ناکام ہوئے۔"

سادات نے 26 مئی کو ٹویٹ کیا کہ یکم مئی سے اب تک، اے این ایس ڈی ایف نے 653 طالبان ارکان کو ہلاک اور 200 سے زائد کو زخمی کر دیا۔

انہوں نے لکھا، "اے این ایس ڈی ایف" نے نہ صرف ان 14 نام نہاد ریڈ یونٹس کا خاتمہ کیا، بلکہ ان کے میدانِ جنگ کے 31 کمانڈر بشمول نائب متوازی گورنر ہلاک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے 26 مئی کو یہ ٹویٹ بھی کیا، "معرکہٴ لشکرگاہ سے تین سبق حاصل ہوئے: (1 طالبان نے دوحہ مزاکرات کو عسکری جارحیت کے لیے تیاری کی غرض سے استعمال کیا اور اسے عسکریت پسندی کے لیے ایک آلہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ (2 افغان افواج طالبوں کو شکست دیں گی (3 مقامی افراد طالبان سے متنفر ہیں۔"

ان لڑائیوں نے لشکر گاہ اور اس کے گرد و نواح میں 4,500 خاندانوں کو بے گھر کیا، جن میں سے چند نے شہر کے محفوظ تر حصوں میں پناہ حاصل کی ہے۔

لشکر گاہ کے ایک نوخیز رہائشی، جس کا خاندان اپنے گھر سے فرار ہو گیا، لیکن وہ پیچھے رہ گیا، نے اس تشدد کی مذمت کی۔

اس نے تولو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس طرح سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ہم امن لانے کے لیے خدا سے دعاگو ہیں۔"

القاعدہ کے ساتھ تعلقات

حکام نے کہا کہ مئی میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو فورسز کے باقاعدہ انخلاء کے آغاز کے بعد سے صوبہ ہلمند میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ انخلاء 11 ستمبر سے قبل مکمل ہونے کی راہ پر ہے۔

درایں اثناء، گزشتہ ستمبر میں افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن مزاکرات کا آغاز ہوا، لیکن تسہیل کاری کے ذریعے مزاکرات کے آغاز کی بین الاقوامی کوششوں کے باوجود پیش رفت رک گئی ہے۔

طالبان نے طویل عرصہ سے "جہاد" مسلط کرنے کے لیے افغانستان میں غیر ملکی افوج کی موجودگی کا بہانہ بنائے رکھا۔

فروری 2020 میں واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے ایک امن معاہدہ کے جزُ کے طور پر اس گروہ نے القاعدہ اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا بھی عہد کیا۔

تاہم، مشاہدین کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے تشدد میں اضافہ، القاعدہ کے ساتھ اس گروہ کے مسلسل اتحاد اور افغان شہریوں پر "دولتِ اسلامیہٴ عراق وشام" (داعش) کے حملوں کے لیے اس کی برداشت طالبان کی منافقت کو نمایاں کرتی ہیں۔

میشرانو جرگہ کے ایک رکن محمّد آصف صدیقی نے اپریل کے اواخر میں کہا کہ افغان سیکیورٹی فورسز اور ایجنسیوں، اقوامِ متحدہ اور امریکہ، تمام کو تصدیق ہے کہ طالبان نے القاعدہ سے تعلقات ختم نہیں کیے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے طالبان نے القاعدہ کے ساتھ اپنے تضویری تعلقات برقرار رکھے اور انہیں مزید مستحکم کیا ۔

صدیقی نے کہا، "طالبان اور القاعدہ کے مشترکہ مقاصد ہیں ۔۔۔ اور وہ دشمنوں کے خلاف ایک دوسرے کی تکنیکی، عسکری، مالی اور انٹیلی جنس استعداد کو استعمال کرتے ہیں۔"

قومی نظامتِ سلامتی کے سربراہ احمد ضیاء سراج نے 27 اپریل کو عسکری کاروائیوں میں متعدد سنیئر القاعدہ ارکان کی حالیہ اموات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ انفرادی [کمانڈر سطح پر] یا مقامی سطح پر طالبان نے القاعدہ سے اپنے تعلقات قطع نہیں کیے ہیں ۔ "

انہوں نے کہا، "طالبان نے افغانستان میں تمام دہشتگرد گروہوں کو پناہ فراہم کر رکھی ہے ۔۔۔ طالبان کی حمایت کے بغیر، کوئی دہشتگرد گروہ کام نہیں کر سکتا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500