سیاست

ظریف کی لیک شدہ آڈیو سے فیصلہ سازی میں آئی آر جی سی کے غلبے کا پتہ چلتا ہے

پاکستان فارورڈ

image

آئی آر جی سی کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو یہاں، ایک نامعلوم تاریخ کی تصویر میں ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ 25 اپریل کو لیک ہونے والی ایک آڈیو فائل میں، ظریف کو سلیمانی اور حکومت کی طرف سے آئی آر جی سی پر کیے جانے والے خرچے پر تنقید کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ [ارنا]

ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف کے ساتھ انٹرویو کی ایک آڈیو فائل، جو اتوار (25 اپریل) کو ذرائع ابلاغ کے سامنے آئی، نے بین الاقوامی سطح پر، تمام سیاسی حلقوں میں ردِعمل پیدا کیا اور تنازعات، سازشی نظریات اور آراء کو جنم دیا۔

190 منٹ کی فائل، جسے 24 فروری کو لیے جانے والے ایک وڈیو انٹرویو سے لیا گیا ہے، اس وقت سامنے آئی جب ظریف، ویانا میں ہونے والے مذاکرات، جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر ایک بین الاقوامی معاہدے کو تازہ کرنا ہے، کے تیسرے دور سے پہلے، عراق کا دورہ کر رہے ہیں۔

انٹرویو کے دوران -- جو کہ زبانی تاریخ کے ایک منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد صدر حسن روحانی کی حکومت کے بارے میں زیادہ معلومات آشکار کرنا ہے -- ایران کے وزیرِ خارجہ نے بار بار زور دیا کہ کچھ مخصوص تبصرے آف دی ریکارڈ ہیں۔

اس سے پہلے کے ایک انٹرویو میں، ظریف نے کہا تھا کہ خارجہ پالیسی کے بارے میں کیے جانے والے فیصلوں میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ وہ لیک ہونے والی اس آڈیو فائل میں اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہیں۔

image

اس نامعلوم تاریخ کی تصویر میں قاسم سلیمانی (درمیان میں) کو دیگر اعلی ایرانی فوجی کمانڈروں اور راہنمائے اعلی علی خامنہ ای کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے کہا کہ سلیمانی سفارت کاری کے لیے سمجھوتہ نہیں کریں گے خواہ آئی آر جی سی کا موقف ایرانی سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کے لیے "200 فیصد" نقصان دہ کیوں نہ ہو۔ [ایران کی وزارتِ دفاع]

انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات جن کا نتیجہ 2015 کے جوہری معاہدے کی صورت میں نکلا تھا، جو مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے) کے نام سے جانا جاتا ہے، میں ان کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قدامت پسندوں میں سے بہت سے، امریکہ-ایران تعلقات کو معمول پر لانا نہیں چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ صدر محمود احمدی نژاد انہیں ناپسند کرتے تھے اور اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر کے طور پر انہیں عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے۔ ظریف نے کہا کہ "اوپری قوتیں" (راہنمائے اعلی علی خامنہ ای کی طرف اشارہ دیتے ہوئے) چاہتی تھیں کہ وہ اپنی ملازمت پر قائم رہیں۔

ظریف نے کہا کہ انہیں علم تھا کہ جب انہوں نے وزیرِ خارجہ بننے کے لیے روحانی کی پیشکش کو قبول کیا تو"وہ ایک ہیرو نہیں بلکہ شکار" بن جائیں گے۔

اس انٹرویو میں انہوں نے بار بار زور دیا کہ تہران میں حکومت، علاقائی موجودگی اور سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کی پالیسیوں کو ترجیح دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسیاں جو، آئی آر جی سی کی قدس فورس کے مرحوم کمانڈر قاسم سلیمانی نے ڈیزائن کیں اور ان کے بارے میں فیصلے کیے، سلیمانی کے دور میں انہیں مسلسل سفارت کاری پر ترجیح دی جاتی رہی تھی۔

سلیمانی نے سفارت کاری کو خطرے میں ڈال دیا

ظریف نے کہا کہ سلیمانی سفارت کاری کے لیے سمجھوتہ نہیں کرتے تھے خواہ آئی آر جی سی کا موقف ایران کی سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کے لیے "200 فیصد" نقصان دہ کیوں نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے مذاکرات کی روشنی میں، سفارتی قراردادوں کے طے پانے کے کئی ماہ بعد، سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے انہیں آگاہ کیا کہ ایران ایئر کی شام جانے والی پروازوں کی تعداد میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔

ظریف نے کہا کہ وہ اس حقیقت سے آگاہ نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کو نئے بوئنگ اور ایربس طیارے خریدنے کے لیے اجازت دی گئی تاکہ ایران کے ختم ہوتے ہوئے کمرشل بیڑے کی مدد کی جا سکے مگر ایران ایئر کو استعمال کرتے ہوئے، شام جانے والی پروازوں میں ایک دم سے ہونے جانے والے اضافے کے باعث، اس خریداری کو نقصان پہنچا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی کو بتائے بغیر، سوائے ایران ایئر کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے، سلیمانی نے فیصلہ کیا کہ شام کو جانے والی آئی آر جی سی کی پروازوں کے لیے ایران ایئر "مہمان ایئر کے مقابلے میں زیادہ محفوظ" ہے۔

سرکاری ملکیت یافتہ ایران ایئر اور منظور شدہ کیریئر مہمان ایئر، کی طرف سے غیر اعلانیہ پروازوں نے حالیہ سالوں میں، ان دونوں ایر لائنز کی طرف سے، ایرانی حکومت ایماء پر کی جانے والی مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔ ان فضائی کمپنیوں پر علاقے بھر کے شورش زدہ حصوں میں ہتھیار اور جنگجو لے جانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ظریف نے کہا کہ سیلمانی کی حرکت نے سفارتی تعلقات کو خطرے میں ڈالا اور مزید طیارے خریدنے کے منصوبے کے امکان کو ختم کر دیا۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ وہ سلیمانی سے ہفتے میں ایک بار ملاقات کرتے تھے مگر یہ ملاقاتیں ملکی معاملات پر بحث کرنے یا بات چیت کے لیے نہیں ہوتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بجائے، سلیمانی اپنی علاقائی پالیسیوں اور پسندیدگیوں کو، ترجیح کے لحاظ سے بیان کرتا۔

آئی آر جی سی پر خرچ کرنے کا 'فائدہ' نہیں ہے

ظریف نے ان قدامت پسندوں پر تنقید کی جو امریکہ اور اس کی بہت بڑی فوج سے بیگانگی اختیار کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کی طاقت میزائلوں یا عسکری سامان میں نہیں ہے اور یہ ایک کھلم کھلا حقیقت ہے کہ وہ عسکری قوت پر انحصار نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کا نقطہِ طاقت اپنے لوگوں کی حمایت ہونی چاہیے "جو کہ قومی سیکورٹی کے برابر ہے"۔

انہوں نے کہا کہ تہران کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے ایک "دو قُطبی اور سرد جنگ کے دور" کے نقطہ نظر کی بنیاد پر فیصلہ کی گئی اور رکھی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ آئی آر جی سی کی علاقائی موجودگی مستقل طور پر سفارت کاری کو متاثر کرتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے آئی آر جی سی کی علاقائی موجودگی پر "اس سے زیادہ خرچ کیا جتنا کہ اسے کرنا چاہیے تھا"۔ انہوں نے بعد میں کہا کہ "اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے"۔

ظریف نے کہا کہ نہ تو روحانی اور نہ ہی ان کی کابینہ کے ارکان، یا کوئی بھی سوائے آئی آر جی سی کے اعلی حکام کے، 8 جنوری 2020 کو یوکرین انٹرنیشنل ایر لائنز کی پرواز 752 کو گرائے جانے کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ واقعہ کے ایک دن کے بعد، ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اس کے بارے میں ٹوئٹ کریں اور اس بات سے انکار کریں کہ آئی آر جی سی نے اسے نشانہ بنایا تھا مگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب انہوں نے آئی آر جی سی کے حکام سے کہا کہ وہ روحانی کی کابینہ کو سچ کے بارے میں بتائیں تاکہ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی حل نکال سکیں، تو "وہ مجھے ایسے گھور رہے تھے جیسے میں توہینِ رسالت کر رہا ہوں"۔

چین ، روس کے نقصان دہ کردار

تہران کی طرف سے روس اور چین کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ مغرب، جس میں امریکہ بھی شامل ہے، سے بھی بات چیت کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، ظریف نے کہا کہ چین اور روس ایران کے ساتھ نہیں ہیں اور انہوں نے صرف اپنے مفادات کے لیے تہران کے ساتھ تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں۔

ظریف نے کہا کہ چین اور روس کی طرف سے، ایران کے امریکہ کے ساتھ تلخ تعلقات کو ترجیح دینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ ایران کو امریکہ کے لیے ایک "ترجیح" (مسئلہ) کے طور پر دیکھنا چاہیں گے تاکہ وہ واشنگٹن کی ترجیحات کی فہرست میں مزید نیچے چلے جائیں۔

انہوں نے ایران کے، مغرب کے ساتھ مذاکرات میں ماسکو کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا، یہاں تک کہ روس کے وزیرِ خارجہ سیرگی لاوروف نے 2015 میں سفارتی قراردادوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

ظریف نے کہا کہ لاوروف خفیہ طور پر کیری سے بات چیت کرنے کے لیے گئے مگر ظریف اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کرنے کے لیے بغیر اعلان کیے پہنچ گئے اور انہوں نے ان دونوں کو اکٹھا پایا۔

اس رات ماسکو جانے سے پہلے، لاوروف نے ظریف اور کیری کو بتایا کہ ایران اور امریکہ ایک مخصوص معاملے کے بارے میں کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکیں گے۔

ظریف نے کہا کہ اس کے جواب میں انہوں نے لاوروف کو بتایا کہ "اس معاملے سے ان کو کوئی (گالی) تعلق نہیں ہے"۔

انٹرویو سے قدامت پسند ناراض

لیک شدہ آڈیو میں ظریف کے تبصرے، خصوصی طور پر سلیمانی اور آئی آر جی سی کے بارے میں، نے ایران کے اندر قدامت پسندوں کو غصہ دلایا ہے اور جن میں سے کچھ نے ان پر غداری کا الزام لگایا ہے۔

ایران کی پارلیمنٹ (مجلس) کے قانون سازوں، جن میں سے اکثریت قدامت پسند ہے، نے لیک شدہ آڈیو فائل کے بارے میں تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ظریف کو "سلیمانی کی توہین" کرنے پر سزا دی جانی چاہیے۔

کچھ نے ظریف پر زیادہ حملہ کیا اور کہا کہ یوں لگتا ہے کہ وہ حکومت کی سرخ لکیروں سے ناواقف ہیں جبکہ بہت سے نمایاں قدامت پسندوں نے ان پر "مغرب زدہ" ہونے کا الزام لگایا ہے۔

انتہائی قدامت پسند روزنامہ کیہن، جس کے ایڈیٹر ان چیف کا ظریف نے اپنے انٹرویو میں ذکر کیا تھا، نے وزیرِ خارجہ پر سخت تنقید کی۔ (جے سی پی او اے کو بحال کرنے کے لیے 2021 میں ہونے والے مذاکرات کے دوران، کیہن کے ایک اداریہ میں ظریف کو تبدیل کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا)۔

پیر کو کیہن نے ظریف کے بارے میں ایک سخت اداریہ شائع کیا جس میں انہوں نے تجویز کیا کہ یہ آڈیو فائل جان بوجھ کر لیک کی گئی ہے۔

قدامت پسند اسلامی اتحاد پارٹی کے ترجمان نے ظریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نشاندہی کی کہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو آڈیو لیک کرنا کوئی چھوٹی سی غلطی نہیں ہے۔

دریں اثنا، اصلاحات پسندوں اور اعتدال پسندوں نے الزام عائد کیا کہ لیک کرنے والے، ویانا میں آئندہ کے مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے اسے ظریف کے خلاف بدنام کرنے کی ایک مہم قرار دیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ کے نقادوں کا کہنا ہے کہ چونکہ ظریف نظام کا ایک حصہ ہیں اس لیے انہیں اس پر تنقید کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اگر انہیں حکومت کے کچھ حصوں سے اختلاف ہے تو انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔

ظریف، وزارتِ خارجہ کا ردِعمل

جمعرات کو، ظریف نے انسٹاگرام پر ایک مختصر جھلکی لگائی جس میں براہ راست انٹرویو کا تذکرہ نہیں کیا گیا تھا۔ بظاہر زبانی تاریخ کے منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہمیں خدا اور لوگوں کے بارے میں سوچنا چاہیے اور تاریخ کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے"۔

اس کے علاوہ منگل کو روحانی نے لیک شدہ انٹرویو کے بارے میں پہلی بار ردعمل کا اظہار کیا اور انٹیلیجنس کی وزارت کو حکم دیا کہ وہ لیک کرنے والے کا پتہ لگائے۔ حکومت نے کہا کہ فائل کو "چوری" کیا گیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے اس سے پہلے لیک شدہ آڈیو فائل کو "منتخب" اور "منقطع" کے طور پر بیان کیا تھا۔

وزارت نے کہا کہ اگر متعلقہ تنظیمیں اتفاق کریں گی تو وہ مکمل انٹرویو شائع کرے گی جس کے بارے میں اس کا دعوی ہے کہ وہ "سات گھنٹے" طویل تھا۔ اس نے زور دیا کہ ظریف نے اس کے دوسرے، غیر شائع کردہ حصوں میں مبینہ طور پر سلیمانی کی تعریف کی ہے۔

انٹرویو کے اختتام پر، انٹرویو کرنے والے نے یہ تجویز کرتے ہوئے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ مستقبل کےصدر یا نائب صدر ہوں یا اپنے پاجامے میں اپنے گھر میں بیٹھے ہوں، ظریف سے کہا کہ وہ تاریخ کے لیے مستقبل کے بارے میں کچھ کہیں۔

اس کے جواب میں ظریف نے اپنے لیے کہیں اور ہونے کے ایک امکان کو تجویز کیا -- دھاری دار ڈانگری میں -- قید کیے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500