سفارتکاری

روسی وزیرِ خارجہ کے دورۂ پاکستان سے روس کے ارادوں پر سوالات اٹھ گئے

از پاکستان فارورڈ

image

6 اپریل کو اسلام آباد میں پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی (بائیں) روسی وزیرِ خارجہ سرگی لیوروف سے ملاقات کرتے ہوئے۔ [شاہ محمود قریشی/ٹوئٹر]

اسلام آباد -- بدھ (7 اپریل) کے روز روسی وزیرِ خارجہ سرگی لیوروف نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور عسکری تعلقات پر مذاکرات کرنے کے لیے دو روزہ دورۂ اسلام آباد مکمل کیا، مگر مبصرین ماسکو کے اصل ارادوں کے متعلق حیران ہیں۔

نو برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ روسی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔

دورے سے قبل ایک بیان میں پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا، "دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان گفتگو کے دوران، پاک-روس تعلقات کی مکمل حد کا جائزہ لیا جائے گا اور متنوع شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مزید وسیع اور گہرا کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔"

وزارت کا کہنا تھا کہ علاقائی امن، خصوصاً افغان امن عمل، ایجنڈے میں چوٹی کے امور میں سے ایک تھا۔

image

6 اپریل کو اسلام آباد میں دو روزہ سرکاری دورے کے آغاز پر پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی (دائیں) روسی وزیرِ خارجہ سرگی لیوروف کا استقبال کرتے ہوئے۔ [پاکستانی وزارتِ خارجہ/ٹوئٹر]

لیوروف نے روسی صدارتی ایلچی برائے افغانستان ضمیر کابلوف کے ہمراہ، وزیرِ اعظم عمران کان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔

کریملن کے ارادوں پر سوالات

جبکہ عوامی طور پر ماسکو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں امن مذاکرات کا حامی ہے، اس کے اصل ارادے اندھیرے میں ہی ہیں۔

16 مارچ کو روس نے پاور بروکر کے طور پر اپنا کردار پکا کرنے کی کوشش کے جزو کے طور پر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کرنے کی کوشش کی تھی.

قطر میں منعقد ہونے والے، افغانوں کے مابین باضابطہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے، افغان وزارتِ خارجہ نے ماسکو میں ہونے والے اجلاس اور اس ماہ کے آخر کے لیے طے شدہ ترکی میں مجوزہ امن کانفرنس کو "دوحہ میں افغانستان امن مذاکرات کے لیے تکمیلی قرار دیا مگر اس کا متبادل نہیں"۔

گزشتہ چند برسوں میں، افغانستان میں روسی سرگرمی -- خصوصاً طالبان کے لیے اس کی حمایت -- میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

کریملن کا دعویٰ ہے کہ طالبان کے ساتھ اس کے روابط صرف "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کی علاقائی نشوونما کا مقابلہ کرنے اور طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ گفت و شنید کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ہیں۔

تاہم، یہ کوئی راز نہیں ہے کہ کریملن، افغان عوام کی جانب سے چکائی گئی قیمت سے قطع نظر، افغانستان میں سابقہ سویت یونین کی شرمناک شکست کا بدلہ لینے کا خواہشمند ہے۔

صدر ولادیمیر پیوٹن کے تحت، روسی حکومت کئی برسوں سے طالبان کے جواز کو پکا کرنے کے لیے انہیں سیاسی معاونت اور سفارتی معاونت فراہم کرتی رہی ہے، اور ان کی فوج کو مضبوط کرنے کے لیے تنظیم کو ہتھیار اور سرمایہ فراہم کرتی رہی ہے.

ماسکو کے مفادات کا تحفظ

یہ دورہ اس وقت بھی ہوا ہے جب روس کو سفارتی تنہائی اور شدید معاشی بحران کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ غیر قانونی طور پر کریمیا کو اپنے ساتھ منسلک کرنے سے لے کر غیر ملکی انتخابات میں ٹانگ اڑانے اور ملکی مخالفین کو زہر دینے تک، بہت سی کینہ توز سرگرمیوں کے لیے اس پر عائد پابندیاں ہیں۔

بذاتِ خود، ماسکو بڑی گرمجوشی سے اپنی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے اور دیگر ممالک کے ساتھ اتحاد بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

پاکستانی مبصرین ایک طویل عرصے سے روس کی حرکات کو بڑی باریک بینی سے دیکھتے رہے ہیں۔

بہترین حالات میں، ماسکو اپنی توانائی اور ہتھیار فروخت کرنے کے لیے خود کو تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بدترین حالات میں، ماسکو اپنے جغرافیائی و سیاسی شطرنج کے کھیل میں پاکستان کے دیگر تاریخی اتحادیوں کو ایک طرف لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔

جون 2018 میں، پشاور یونیورسٹی کے ایک لیکچرار، عبدالرحمٰن نے پاکستان اور روس کے درمیان سفارتی تعلقات کو بہتر ہوتے ہوئے دیکھنے کے بعد کہا تھا، "پاکستان کے لیے روسی پالیسی میں تبدیلی بہت واضح ہے".

ان کا کہنا تھا، "افغانستان میں اپنے کردار کی وجہ سے پاکستان نے روس کے لیے بہت اہمیت اختیار کر لی ہے۔"

افغانستان میں سویت چڑھائی اور اس وقت پاکستان کی باغی مجاہدین کو امداد کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا، "تاہم، جہاں تک افغانستان میں جنگ کا تعلق ہے تو دو سابقہ مخالفین کے لیے دو الگ الگ انتہاؤں پر ہونے کی تاریخ کی وجہ سے اپنے تعلقات میں بہتری دیکھنا ممکن نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف روس کا جھکاؤ "بحیرۂ عرب اور اس سے آگے تک رسائی حاصل کرنے کی اس کی خواہش" پر مبنی ہے۔

عبدالرحمٰن نے کہا، "پاکستان کے ساتھ تعلقات میں روس کی گرمجوشی کا واحد مقصد اس کے اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ روس کے ساتھ پاکستان کی دوستی اس کے چین، امریکہ، سعودی عرب اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچائے گی جن کے کئی دہائیوں سے پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط ہیں۔"

انہوں نے کہا، "پاکستان کے ساتھ روس کی مشغولیت باقی ماندہ دنیا کے ساتھ [اسلام آباد کے] روابط کو تباہ کن طور پر کم کر دے گی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500