سلامتی

ماسکو میں نئے امن مذاکرات کے آغاز نے روس کے ارادوں پر سوالات اٹھائے ہیں

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

بہت سے افغان سیاست دان، جن کی سربراہی قومی مفاہمت کی کونسل کے چیرمین عبداللہ عبداللہ (درمیان میں) کر رہے ہیں، 17 مارچ کو ماسکو جانے کے لیے کابل سے روانہ ہو رہی ہے۔ [عبداللہ عبداللہ]

کابل -- افغان حکومت کے نمائںدے اور طالبان جمعرات (18 مارچ) کو ماسکو میں ملاقات کریں گے، جو کہ اس وقت جاری امن عمل کا ایک حصہ ہے مگر مشاہدین اس دعوت نامے پر، روس کی نیت کے بارے میں شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔

اگرچہ ماسکو عوامی طور پر دعوی کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں امن مذاکرات کا حامی ہے مگر کریمیلن کے اصل مقاصد مشکوک ہیں۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران، روس کی افغانستان میں سرگرمی -- خصوصی طور پر طالبان کی حمایت کے لیے -- میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ کریمیلن کا دعوی ہے کہ وہ گروہ سے صرف اس لیے تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے تاکہ وہ "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کی علاقے میں پیش رفت کو روک سکے اور طالبان کی حصلہ افزائی کرے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں۔

تاہم، یہ کوئی راز نہیں ہے کہ کریملین سرد جنگ کے دوران، سابقہ سوویت یونین کی افغانستان میں ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینا چاہتا ہے، اور اسے اس جنگ کے لیے افغان عوام کی طرف سے پیش کی جانے والی قیمت کا کوئی احساس نہیں ہے۔

image

پولیس اہلکار اس جگہ پر پہنچ رہے ہیں جہاں 21 فروری کو کابل میں ہونے بم دھماکوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور دیگر پانچ زخمی ہو گئے تھے۔ [اے ایف پی]

ولادیمیر پوٹن کے تحت، روس کی حکومت کئی سالوں سے طالبان کو سیاسی اور سفارتی امداد فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ اپنی قانونی حثیت کو بڑھا سکیں اور اس کے علاوہ وہ گروہ کو ہتھیار اور سرمایہ فراہم کرتی رہی ہے تاکہ وہ اپنی عسکریت حثیت کو مضبوط کر سکیں۔

مشکوک سفارت کاری کی تاریخ

افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا کہ ماسکو میں ملاقات اور ترکی میں اپریل میں ہونے والی تجویز کردہ امن کانفرنس، "دوحہ میں ہونے والے افغانستان کے امن کے مذاکرات کے لیے امدادی حثیت رکھتی ہے اور یہ اس کا متبادل نہیں ہے"۔

طالبان نے ماسکو کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کی اور اس کے لیے جانے والے وفد کی سربراہی طالبان کے نائب بانی ملا عبدل غنی برادر کریں گے۔

ماضی میں روس کی طرف سے طالبان کی ضیافتوں نے طالبان کے راہنماؤں کے لیے تصویریں کھنچوانے کے مواقع سے زیادہ کوئی نتیجہ پیش نہیں کیا ہے۔

روس کی حکومت نے طالبان کے راہنماؤں اور دیگر فریقین کی، ماسکو میں کئی مواقع پر کھلے عام میزبانی کی ہے جس میں 28 جنوری کو ہونے والا دورہ بھی شامل ہے جس نے افغان عوام میں غصہ پیدا کیا۔

افغان مظاہرین نے طالبان کے جنوری کے ماسکو کے دورہ کے بعد، ان کی مذمت کی کہ وہ بے گناہ افغان عوام کی ہلاکت کو جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ طالبان کے سیاسی راہنما ماسکو اور تہران میں پر تعیش ہوٹلوں میں اپنے قیام سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

ہرات شہر کے ایک رہائشی صدیق اسلام یار نے اسے اس طرح بیان کیا کہ طالبان، افغان شہریوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کراس جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے، اپنے مددگار ممالک سے اگلے احکامات لینے کے لیے چلے گئے تھے۔

روس نے فروری 2019 میں بھی طالبان کو نام نہاد امن مذاکرات میں شرکت کرنے کے لیے بلایا تھا۔ ان مذاکرات میں افغان حکومت کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

نومبر 2018 میں طالبان کے ساتھ ہونے والی سابقہ "امن کانفرنس" طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کو باضابطہ شکل دینے کے بیان کردہ مقصد، کو حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اس کی بجائے اس نے اس بات کے مزید شواہد پیش کیے کہ طالبان کے دھڑوں میں مزید پھوٹ پڑ گئی ہے اور روس افغان معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ شام میں بھی، ماسکو نے اوپری سطح پر، خانہ جنگی کا خاتمہ کرنے کے لیے بہت سی سفارتی کانفرنسوں کی سربراہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس جنگ میں لاکھوں لوگ جان گنوا بیٹھے ہیں اور لاکھوں شامی شہریوں پر ناقابلِ بیان مصائب طاری ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود روس کی طرف سے امن کی ہر کوشش ناکام ہوئی ہے۔ کئی سالوں کے دوران، روس اپنے تنگ قومی مفادات کے حصول کے لیے شام میں مزید دھنس گیا ہے جبکہ شام کے شہری اس تنازعہ کے نقصانات کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

افغانستان میں جاری تشدد

بہترین طور پر، روس کی سیاسی اور مادی امداد سے طالبان بلواسطہ طور پر افغانستان بھر میں متشدد حملے کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں جا کا نتیجہ ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کی صورت میں نکلا ہے۔

بدترین طور پر، ماسکو جانتے بوجھتے ہوئے، طالبان کے غیر اشتعال انگیز متشدد اور مظالم کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔

دونوں صورتوں میں ہی، غیر ملکی امدد سے، حالیہ مہینوں میں طالبان کی سرگرمیوں اور حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ افغان حکومت اور بین الاقوامی برادری، نیک نیتی سے امن معاہدہ کے لیے مذاکرات کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حالیہ ترین تشدد میں، منگل کو، بھاری طور پر مسلح افراد نے پلِ خمری میں بغلان یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ کو لے جانے والی بس پر فائرنگ کر دی۔

یونیورسٹی کے ڈین عبدل قادر مہان نے کہا کہ "ایک طالبِ علم اور ڈرائیور ہلاک ہو گئے جبکہ چھہ اساتذہ زخمی ہوئے"۔

حکام نے کہا کہ پیر کو، پانچ خواتین اور ایک بچہ ہلاک اور دیگر 17 افراد اس وقت زخمی ہو گئے جب کابل میں شام کے رش کے اوقات میں، ایک بس جو کہ افغان حکومت کے ملازمین کو لے کر جا رہی تھی، کو بم کا نشانہ بنایا گیا۔

ٹیلی کمیونیکیشن کی وزارت کے ترجمان نصرت اللہ نصیری نے کہا کہ یہ دھماکہ ممکنہ طور پر "چپکنے والے بم" سے کیا گیا جو بم سے چپکایا گیا تھا۔

پولیس نے کہا کہ اتوار کو، کابل میں گاڑیوں میں دو بم دھماکے ہوئے جن میں تین افراد ہلاک اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

حکام نے کہا کہ جمعہ کو ہرات شہر میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور دیگر 47 زخمی ہو گئے۔

ہرات کے صوبائی گورنر کے ترجمان جلانی فرہاد نے کہا کہ اس دھماکے میں رات کو 10 بجے پولیس ہیڈکواٹر کو نشانہ بنایا گیا جس سے درجنوں گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین، بچے اور سیکورٹی کا عملہ شامل ہے۔

صدر اشرف غنی نے ہرات کے بم دھماکوں کا ذمہ دار طالبان کو قرار دیا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ طالبان نے "ہمارے لوگوں کے خلاف اپنی غیر قانونی جنگ اور تشدد جاری رکھا ہوا ہے" اور "ایک بار پھر دکھا دیا ہے کہ وہ موجودہ بحران کے پرامن حل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں"۔

طالبان نے جمعہ کو ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ کسی بھی گروہ نے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500