سفارتکاری

روس افغانستان میں جوابی توازن کے عمل سے خود کو ناکامی سے بچا رہا ہے

از پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

طالبان جنگجو 18 اگست کو کابل میں ایک سڑک کنارے کھڑے ہیں۔ [وکیل کوہسار/اے ایف پی]

ماسکو - اگرچہ بہت سے ممالک افغانستان سے اپنے سفارت خانے اور عملے کو خالی کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، روس کا دعویٰ ہے کہ وہ وہیں ٹھہرا ہوا ہے۔

کابل پر طالبان کے قبضے کے ایک دن بعد، روسی وزارت خارجہ کے 16 اگست کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان دارالحکومت میں حالات "مستحکم" ہو رہے ہیں اور طالبان نے "امن عامہ کی بحالی" شروع کر دی ہے۔

سفیر دمتری زیرنوف نے کہا کہ طالبان پہلے ہی روسی سفارت خانے پر پہرہ دے رہے تھے اور ماسکو کو ضمانت دی تھی کہ عمارت محفوظ رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے روسیوں کو یقین دلایا تھا کہ ان کے سفارت کاروں کا "بال بھی بیکا نہیں ہو گا۔"

image

2020 میں پوسٹ کی گئی ایک تصویر میں طالبان عسکریت پسند افغانستان میں نامعلوم مقام پر روسی ساختہ ہتھیاروں سے فائرنگ کی مشق کرتے ہوئے۔ [فائل]

image

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف ، طالبان امن مذاکرات کار شیر محمد عباس ستانکزئی (درمیان میں) اور افغانستان میں ایران کے اس وقت کے سفیر محمد رضا بہرامی (دائیں) نومبر 2018 میں ماسکو میں ایک تصویر بنواتے ہوئے۔ [یوری کادوبنوف/اے ایف پی]

تاہم ، دن گزرنے کے ساتھ ساتھ طالبان پر روسی اعتماد کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بدھ (25 اگست) کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حکم پر چار روسی فوجی طیاروں نے 500 سے زائد روسی اور وسط ایشیائی شہریوں کو افغانستان سے نکالا۔

یہ اقدام افغانستان کے بارے میں ملکی مؤقف میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

متعصب اسلام پسند گروپ کے 1980 کی دہائی میں سوویت ریاستوں کے خلاف جنگ - جس میں تقریبا 15 15000 سوویت فوجی مارے گئے تھے - میں اس کی اصلیت کا پتہ لگ جانے کے باوجود اب اس گروپ کے بارے میں روس کا نظریہ عملی ہے۔

تین دہائیوں کے بعد، بظاہر دردناک ماضی سے بے پرواہ، کریملن نے طالبان کی بین الاقوامی ساکھ کو کئی بار ماسکو میں مذاکرات کے لیے میزبانی دے کر بڑھایا ہے -- اس حقیقت کے باوجود کہ روس میں یہ ممنوعہ دہشت گرد تنظیم ہے۔

یہ تقرر بھی کریملن کو کم از کم سنہ 2015 سے طالبان کو اسلحہ اور فنڈنگدینے سے نہ روک پایا -- ایک ایسا رشتہ جس نے ہو سکتا ہے کہ ماسکو کو اپنا سفارت خانہ کھلا رکھنے کے لیے حوصلہ دیا ہو۔

زیرنوف نے 17 اگست کے آخر میں کابل میں طالبان سے ملاقات کی، جس کی انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک "مثبت اور تعمیری" ملاقات کہہ کر تعریف کی۔

وسط ایشیاء میں کریملن کے مفادات کا تحفظ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد تنازع کو پڑوسی وسط ایشیائی ممالک میں پھیلنے سے روکنا ہے، جہاں روس کے فوجی اڈے قائم ہیں۔

ماسکو کی زیرِ قیادت مشترکہ سلامتی معاہدہ تنظیم (سی ایس ٹی او) کے سابق سیکرٹری جنرل نکولائی بوردیوزہ نے کہا، "اگر ہم چاہتے ہیں کہ وسطی ایشیاء میں امن ہو تو ہمیں طالبان سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔"

کئی وسط ایشیائی ممالک کی جانب سے نیٹو افواج کو نقل و حمل میں معاونت کی پیشکش کے باوجود، طالبان نے اپنے شمالی پڑوسیوں کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے بارے میں ان کے کوئی غلط ارادے نہیں ہیں۔

زیرنوف نے کہا کہ طالبان نے ماسکو کو یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس چاہتا ہے کہ افغانستان "دنیا کے تمام ممالک" کے ساتھ پرامن تعلقات رکھے اور "طالبان نے پہلے ہی ہم سے یہ وعدہ کیا تھا"۔

لیکن کریملن نے جمعرات کے روز افغانستان میں طالبان کی حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ یہ فیصلہ کرنے سے پہلے تنظیم کے طرز عمل کی نگرانی کرے گا۔

چونکہ طالبان اس موسم گرما میں افغانستان میں آگے بڑھ رہے تھے، روس نے اپنے اتحادی ازبکستان اور تاجکستان کے ساتھ جنگی کھیل کھیلے اور خود کو وسطی ایشیا کا محافظ دکھایا -- طالبان کو فنڈنگ اور اسلح دینے کی اپنی تاریخ کے باوجود۔

وسط ایشیا کے ایک محقق آرکدے دوبنوف نے کہا کہ ماسکو اب اس خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے کہا، "مختلف حدوں تک، ماسکو کی مدد کو قبول کرنا ان ممالک کا فرض ہو گا، لیکن کوئی بھی اپنی سلامتی کے لیے اپنی خودمختاری کا تبادلہ نہیں کرنا چاہے گا۔"

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے تین وسط ایشیائی پڑوسیوں -- ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان -- کے اس تنازعہ کے لیے مختلف نقطۂ نظر ہیں۔

ازبکستان اور ترکمانستان نے طالبان کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے اور امکان ہے کہ وہ طالبان کی حکمرانی کو تسلیم کریں گے، جبکہ تاجکستان کی عسکریت پسندوں کے ساتھ کوئی مشغولیت نہیں رہی۔

'دوستانہ اور تعاون کرنے والے' اتحادی

روس کا طالبان کے ساتھ مکالمہ کئی سالوں کی چاپلوسی کا ثمر ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جولائی میں طالبان کو ایک "طاقتور قوت" قرار دیا تھا۔ اس وقت، وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے مذاکرات میں غیرمستحکم پیشرفت پر افغان حکومت کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔

کریملن کے افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی ضمیر کابلوف نے 16 اگست کو ایخو موسکوی ریڈیو سٹیشن کو بتایا، "یہ ایسے ہی نہیں ہے کہ ہم گزشتہ سات سالوں سے طالبان تحریک سے رابطے قائم کر رہے ہیں۔"

اس تعلق پر کئیوں نے ناک بھوں چڑھائی ہے، سوویت افغان جنگ کے پیش نظر جسے دونوں فریق بھولنے کے لیے بیتاب دکھائی دیتے ہیں۔

کارنیگی ماسکو سینٹر کے الیگزینڈر بونوف نے کہا، لیکن روس نے فرض کر لیا ہے کہ طالبان 1990 کی دہائی سے تبدیل ہو چکے ہیں، جب انہوں نے القاعدہ کو پناہ دی تھی۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "ماسکو مجاہدین کی اس شکل کو اپنے دشمن کے طور پر نہیں دیکھتا۔"

بیجنگ نے بھی طالبان کو مبارکباد دینے کے لیے رابطہ کرنے میں جلدی کی کیونکہ کابل میں غیر یقینی صورتحال کا راج تھا۔

چین طالبان کے ساتھ "دوستانہ اور تعاون کرنے والے" تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے تیار ہے، یہ بات 16 اگست کو ایک سرکاری ترجمان نے کہی تھی۔

وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چونینگ نے صحافیوں کو بتایا، "طالبان نے بار بار چین کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی امید کا اظہار کیا ہے اور وہ افغانستان کی تعمیرِ نو اور ترقی میں چین کی شرکت کے منتظر ہیں۔"

بیجنگ کی طالبان کی قبولیت کے تزویراتی مضمرات بھی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کابل میں ایک تعاون کرنے والی حکومت چین کی بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری(بی آر آئی) کی افغانستان اور وسطی ایشیائی جمہوری ممالک میں توسیع کی راہ ہموار کرے گی۔

دیگر اہداف کے علاوہ، بی آر آئی کا مقصد غریب تر ممالک کے قدرتی وسائل کو چینی مفاد کے لیے نکالنے اور بھیجنے میں سہولت کاری کرنا ہے۔

دریں اثناء طالبان چین کو یا تو براہِ راست یا پھر پاکستان کے ذریعے بیجنگ کا قریبی اتحادی، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کا ایک ناگزیر ذریعہ سمجھ سکتے ہیں۔

سہولت کے اس اتحاد میں، طالبان سنکیانگ میں لاکھوں مسلمانوں پر چین کے جبر کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں، جبکہ بیجنگ طالبان کے عسکری نظریئے اور افغان حکومت کا تختہ الٹنے کی پُرتشدد مہم پر بہت کم بات کر رہا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500