سلامتی

القاعدہ، طالبان رہنماؤں کی اکٹھی ہلاکت دونوں تنظیموں کے جاری روابط کا ثبوت ہے

از سلیمان

image

23 مارچ کو شائع ہونے والی اس فوٹو میں طالبان جنگجوؤں کو ایک نامعلوم مقام پر عسکری مشق میں حصہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ [طالبان]

کابل -- صوبہ پکتیکا میں ایک کارروائی کے دوران افغان خصوصی افواج نے برصغیر ہند میں القاعدہ (اے کیو آئی ایس) کے ایک پرانے رکن کو ایک طالبان کمانڈر کے ساتھ ہلاک کر دیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں تنظیموں کے درمیان روابط مزید جاری ہیں۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر این ڈی ایس کے ایک اہلکار نے کہا، "نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کی خصوصی یونٹوں نے صوبہ پکتیکا کے ضلع گایان میں ایک پہلے سے طے شدہ اور پیچیدہ کارروائی میں، اے کیو آئی ایس کے ایک منصوبہ ساز اور پرانے رکن دولت بیگ تاجکی، المعروف ابو محمد التاجکی کو طالبان کمانڈر حضرت علی، المعروف حمزہ مہاجر کے ہمراہ ہلاک کر دیا"۔

این ڈی ایس کی جانب سے منگل (30 مارچ) کے ایک بیان کے مطابق، مہاجر وزیرستان، پاکستان کا رہنے والا تھا۔

جمعہ (2 اپریل) کو ذرائع نے بتایا، دونوں دہشت گردوں کی موت پچھلے ہفتے ہوئی تھی۔

image

القاعدہ کے ایک پرانے رکن دولت بیگ تاجکی، عرف ابو محمد التاجکی کو 10 مارچ کو جاری ہونے والی این ڈی ایس کی ویڈیو کے ایک سکرین شاٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

image

افغان نیشنل آرمی کا ایک جوان 3 فروری کو، صوبہ قندھار کے ضلع ارغنداب میں ایک فوجی آپریشن کے دوران راکٹ سے پھینکا جانے والا گرنیڈ تھامے ہوئے پوزیشن لے رہا ہے۔ [جاوید تنویر/اے ایف پی]

اہلکار نے کہا کہ دونوں افراد طالبان اور القاعدہ کے درمیان رابطے کے لیے مرکزی افراد تھے اور مشترکہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اس نے مزید کہا، "وہ طالبان کو تربیت دینے، سرمایہ فراہم کرنے اور مسلح کرنے کے لیے ذمہ دار تھے اور حال ہی میں موسمِ گرما کے حملوں کی منصوبہ بندی شروع کی تھی"۔

ذریعے نے کہا کہ طالبان کی حفاظت میں، التاجکی اور علی نے زابل، غزنی، خوست اور پکتیکا صوبوں میں طالبان جنگجوؤں کو تربیت دی تھی، اس کا مزید کہنا تھا کہ "وہ ان تربیتوں کو تمام صوبوں میں طالبان کی دیگر چھاؤنیوں تک وسیع کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے"۔

ذریعے نے مزید کہا، "طالبان اور القاعدہ کے درمیان روابط پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں۔"

"یہ دوحہ معاہدے کے بعد طالبان کے زیرِ تسلط علاقوں میں ہلاک ہونے والا القاعدہ کا تیسرا بڑا رکن ہے، جو طالبان اور القاعدہ کے درمیان تزویراتی روابط کو واضح طور پر اجاگر کرتا ہے۔

اگرچہ فروری 2020 کے دوحہ معاہدے کے تحت، طالبان نے امریکہ سے عہد کیا تھا کہ وہ القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں سے اپنے روابط منقطع کر لیں گے، افغان حکام، اقوامِ متحدہ (یو این) اور امریکہ نے طالبان کو معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔

3 فروری کی رپورٹ میں اقوامِ متحدہ نے کہا کہ طالبان نے القاعدہ کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہیں.

اس میں کہا گیا کہ افغانستان کے 11 صوبوں، بشمول ننگرہار، بدخشاں، خوست، غزنی، ہلمند، کنڑ، قندوز، لوگر، نورستان، پکتیا اور زابل، میں القاعدہ کے فعال ارکان کی تعداد 200 اور 500 کے درمیان ہے، جو طالبان کی زیرِ کفالت کام کر رہے ہیں۔

یکساں نظریئے کے پیروکار

حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے بڑے ارکان کی طالبان کے زیرِ تسلط علاقوں میں اور ان کی چھاؤنیوں، جہاں ان کا تعاقب کیا گیا تھا اور انجامِ کار ہلاک کر دیا گیا تھا، میں موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ تنظیم نے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ روابط منقطع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ایک سیاسی تجزیہ کار اور سابق گورنر نورستان، تمیم نورستانی نے کہا، "افغانستان میں القاعدہ کی ایک مضبوط اور فعال موجودگی ہے، جو باقاعدگی کے ساتھ جاوزجان، سرِ پُل، بدخشاں اور بہت سے جنوبی صوبوں میں مصروفِ عمل ہیں۔"

نورستانی کا کہنا تھا، "طالبان نے ناصرف القاعدہ کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہیں بلکہ انہیں مضبوط بھی کیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "القاعدہ کے بڑے ارکان نے طالبان کے لیے حکمتِ عملیاں تیار کیں، اور انہیں مشورے دیئے، سرمایہ دیا، مسلح کیا اور تربیت دی۔ ہماری اطلاعات کی بنیاد پر، القاعدہ نے خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے حال ہی میں طالبان کے لیے 300 سے زیادہ ڈرون خریدے ہیں۔ طالبان انہیں سرکاری علاقوں اور اپنے اہداف کی تصویریں کھینچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔"

نورستانی نے مزید کہا، "طالبان کے امن قائم کرنے کی صورت میں القاعدہ نئے محاذ کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس نے اس بارے میں طالبان کے فیلڈ کمانڈروں کے ساتھ معاہدے کر لیے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیم کے ایران کے ساتھ بھی قریبی روابط ہیں اور اس نے طالبان کے تہران کے ساتھ تعلقات کو پروان چڑھانے میں بھی مدد کی ہے۔

کابل میں ایک سیاسی تجزیہ کار، اسحاق اتمر نے کہا، "القاعدہ ہلمند، غزنی، فرح اور دیگر علاقوں میں موجود ہے اور طالبان کے زیرِ تسلط علاقوں میں القاعدہ کمانڈروں کی ہلاکت ظاہر کرتی ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے ساتھ روابط منقطع نہیں کیے ہیں۔"

اتمر نے کہا، "القاعدہ اور طالبان یکساں نظریئے اور اصول کے پیروکار ہیں۔ پکا ثبوت نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں گروہوں کے مضبوط روابط ہیں

"طالبان اگر سو بار بھی دعویٰ کریں کہ انہوں نے القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط منقطع کر لیے ہیں، وہ جھوٹ بول رہے ہوں گے اور ایسا نہیں کریں گے۔"

غیرملکی جنگجوؤں کے ساتھ تعاون

کابل کے مقامی ایک سیاسی تجزیہ کار، غلام سخی احسانی نے کہا، "دوحہ معاہدے کے بعد طالبان نے القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط کو چھپانے کی کوشش کی تھی، مگر ابھی تک ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جو بتاتا ہو کہ انہوں نے القاعدہ کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرنے کے بارے میں سوچا بھی ہو۔"

احسانی نے کہا، "اس کے برعکس، طالبان نے نے مزید سہولت کاری کی ہے اور افغانستان میں غیر ملکی جنگجوؤں کی سرگرمیوں کے لیے ایک پلیٹ فارم قائم کیا ہے، اور ان کے قریبی تعاون سے دہشت گرد حملے کر رہے ہیں۔"

احسانی کا کہنا تھا کہ طالبان کی چھاؤنی میں طالبان کمانڈر کے ساتھ التاجکی کی ہلاکت ایک مضبوط طالبان-القاعدہ تعلق کا مظاہرہ کرتی ہے۔

کابل میں ایک سیاسی تجزیہ کار، احمد سعیدی نے کہا، "القاعدہ ایک عالمی دہشت گرد نیٹ ورک ہے جس کے پاس کافی عسکری، مالی اور تکنیکی وسائل اور قابلیتیں ہیں۔ طالبان ان وسائل اور قابلیتوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ طالبان کے القاعدہ کے ساتھ قریبی اور مضبوط روابط ہیں۔"

"طالبان کے ساتھ 10،000 سے زیادہ غیرملکی جنگجو ہیں۔"

سعیدی نے کہا، "طالبان کی جانب سے القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے ساتھ روابط منقطع کرنے کا مطلب ہے ان [طالبان] کا خاتمہ۔ طالبان کبھی بھی القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے ساتھ روابط منقطع نہیں کریں گے۔"

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500