سلامتی

امن مذاکرات میں سستی کے دوران، طالبان کی طرف سے اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے پروپیگنڈا کا استعمال

اے ایف پی

image

حقانی نیٹ ورک، جسے ان گنت افغان شہریوں کو ہلاک کیے جانے والے حملوں کے سلسلے کا ذمہ دار ہونے کی وجہ سے ایک دہشت گرد گروہ تصور کیا جاتا ہے، کے بانی جلال الدین حقانی کی زندگی کے بارے میں بنائی گئی دستاویزی فلم سے لیا گیا ایک اسکرین شاٹ۔ طالبان نے اس فلم میں انہیں ایک "عظیم مصلح" دکھانے کی کوشش کی ہے۔ [فائل]

کابل -- جیسے جیسے افغان امن مذاکرات سستی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں، طالبان اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کی ایک کوشش، جس میں اپنے انتہائی مشتدد ساتھی، حقانی نیٹ ورک کی بحالی بھی شامل ہے، میں اپنے آپ کو حکومت بنانے کے اہل ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغانستان میں 19 سال سے جاری جنگ کے دونوں فریقین کے مذاکرات کار ستمبر کے آغاز سے قطر میں ملاقاتیں کر رہے ہیں اور وہ اگلے سال امریکہ اور غیر ملکی افواج کے چلے جانے کے بعد ملک کے لیے تفصیلی خاکہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوحہ کے پرتعیش ہوٹل میں مذاکرات کی سست رفتاری، افغانستان میں حقیقی طور پر موجود افراتفری کی غیر حقیقی عکاسی ہے۔

جیسے جیسے عسکریت پسند میدانِ جنگ میں برتری، جس میں گزشتہ ماہ ہلمند صوبہ میں ایک بڑا حملہ بھی شامل ہے، کے لیے کوشش کر رہے ہیں طالبان کی پروپیگنڈا شاخ سوشل میڈیا پر پیغامات اور ویڈیوز کا ایک مسلسل سلسلہ اور ایک شاطر ویب سائٹ پر ایسی خبریں شائع کرنا جاری رکھے ہوئے ہے جس میں انہیں اچھے حکمرانوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

image

طالبان کے ارکان 20 اکتوبر کو شائع کی جانے والی اس تصویر میں، افغانستان کے ایک کیمپ میں جنگی تربیت کے دوران دیکھے جا سکتے ہیں۔ [فائل]

طالبان کی ٹاسک فورس کو کابل میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہ "بدامنی اور بدعنوانی" سے عوام کو بچا سکیں۔ یہ بات ایک حالیہ پروپیگنڈا مضمون میں بتائی گئی۔

اس سال فیس بک پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں، کرونا وائرس کے افغانستان پہنچنے کے بعد، اس کے ارکان کو سرجیکل ماسک پہنے ہوئے ہینڈ سینیٹائزرز تقسیم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اگرچہ وہ اکثر ٹیلی کمیونیکیشن کے ٹاور اور سرکاری عمارات کو اڑا دیتے ہیں مگر عسکریت پسند ویٹس ایپ پر اپنے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں جیسے کہ سڑکوں اور آب پاشی کے نظام کے بارے میں دعوے پھیلا رہے ہیں۔

صدر اشرف غنی کے ایک ترجمان صدیق صدیقی نے اس بظاہر تضاد کو اجاگر کیا۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ "ایک طرف وہ بھاری چارے، ہمدردی، خدمت، انسانیت، اتحاد اور مسلمانوں میں پیار محبت کی باتیں کر رہے ہیں"۔

"دوسری طرف وہ بے گناہ شہریوں کو جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کو ہلاک اور زخمی کر رہے ہیں"۔

اپنے 1996 سے 2001 کے دورِ اختیار میں، طالبان نے ایک سفاکانہ اسلامیت پسند حکومت چلائی تھی جس میں عورتوں کو گھر سے نکلنے پر سزا دی جاتی، تفریح پر پابندی لگائی گئی اور سرعام کوڑے لگانے اور پھانسی دینے کو معمول بنایا گیا تھا۔

حقانی "ایک عظیم مصلح"

غالباً تعلقاتِ عامہ کو بہتر بنانے کی سب سے ڈرامائی کوششحقانی نیٹ ورک کے گرد ہے جو کہ طالبان کی متشدد شاخ ہے اور جس پر افغانستان کی جنگ میں بدترین مظالم کرنے کا الزام ہے۔

ایک نئی دستاویزی فلم جس میںجلال الدین حقانی، جس کے نام سے یہ گروہ موسوم ہے، کی زندگی کے بارے میں بتایا گیا ہے، میں اسے ایک "عظیم مصلح" کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس نے پہلے سوویت یونین اور پھر امریکیوں کے خلاف جنگ کی۔

امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے 2012 میں دہشت گرد گروہ قرار دیا جانے والا اور پاکستان کے سیکورٹی کے اداروں سے تعلقات کا شبہ رکھنے والا حقانی نیٹ ورک، غیر ملکی افواج اور افغان شہریوں پر حملوں کے ایک سلسلے سے جڑا ہے جس میں 2017 میں کابل میں جرمنی کے سفارت خانے کے قریب ہونے والا ٹرک بم دھماکہ بھی شامل ہے جس میں 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس فلم میں حقانی کی آرکائیو فوٹیج دکھائی گئی ہے جو کہ 2018 میں ہلاک ہو گیا تھا اور دعوی کیا گیا ہے کہ وہ اپنے سابقہ گڑھ، صوبہ خوست میں ایک کارگر منتظم تھا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس فلم کا مقصد حقانی کو ایک "تمثیل" کے طور پر متعارف کروایا جائے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ "ہم اپنے مستقبل کے راہنماؤں اور نوجوان مجاہدین کو ان کا طرزِ زندگی، ان کی قربانیاں اور ان کی تقاریر دکھانا چاہتے ہیں"۔

طالبان اور حقانی 'ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں'

تھنک ٹینک کرائسس گروپ کے افغانستان کے لیے تجزیہ کار اینڈریو واٹکنز نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ فلم ہلاکت خیز اور ایک وقت میں نیم خودمختار حقانی نیٹ ورک کی نئی ساکھ بنانا چاہتی ہے اور اسے ایک زیادہ وسیع طالبان تحریک کے ساتھ متحد کرنا چاہتی ہے۔

حامیوں اور بیرونی دنیا کو یہ دکھانے میں طالبان کا "صاف طور پر کوئی ایجنڈا ہے" کہ دونوں گروہ" ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں"۔

واٹکنز نے کہا کہ "ہو سکتا ہے کہ وہ ماضی میں نہ ہوں مگر اب وہ ہیں۔ اور طالبان کی طرف سے حقانی نیٹ ورک کے سردار کا جشن منانا اس بات کو یقینی ثابت کرتا ہے"۔

فروری میں، سراج الدین حقانی جو کہ حقانی کے بیٹوں میں سے ایک ہیں اور اب حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور طالبان کے نائب راہنما ہیں، نے دی نیویارک ٹائمز میں ایک اداریہ لکھا تھا۔

سراج الدین نے لکھا کہ طالبان ایک "نئے شمولیتی سیاسی نظام" سے اتفاق کرنے کے لیے تیار ہیں۔

طالبان کی طرف سے اپنے آپ اور حقانی نیٹ ورک کو موثر حکمرانوں کے طور پر پیش کرنا، تعلقاتِ عامہ کی ابتدائی کوششوں سے بالکل مختلف ہیں جب عسکریت پسندوں نے ایسی ویڈیوز بنائی تھیں جن میں خودکش بمباروں کو دکھایا گیا تھا اور مغربی افواج پر حملوں کو فخر سے پیش کیا تھا۔

واٹکنز نے کہا کہ ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے کوششوں میں اضافہ براہ راست امن مذاکرات سے جڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بڑھا لیا ہے اور وہ اب حیرت انگیز پیمانے پر انہیں بنا رہے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500