سفارتکاری

متعدد کراچی کے جزائر کی ترقی کے پیچھے چین کے قومی مفادات دیکھ رہے ہیں

ضیاءالرّحمٰن

image

ماہی گیری کی صنعت کے کارکنان، سول سوسائٹی کے فعالیت پسندوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے چینی سرمایہ کاری کے ساتھ بنڈل اور ڈِنگی جزائر پر ایک شہر تعمیر کرنے کے وفاقی حکومت کے منصوبے کے خلاف 14 اکتوبر کو کراچی میں کشتیوں کی ایک ریلی میں شرکت کی۔ [ضیاءالرّحمٰن]

تاہم کشتیوں کی اس ریلی کے منتظم اور پاکستان فشرفولک فورم (پی ایف ایف) کے سربراہ محمّد علی شاہ نے کہا کہ یہ جزائر ہزاروں ہیکٹر مینگرو جنگلات کے حامل ہیں۔

گزشتہ ماہ پی ایف ایف اور سندھ اور بلوچستان میں ماہی گیروں کے حقوق کی دیگر تنظیموں نے چین کی گہرے سمندر میں جال کھینچنے والی کشتیوں کی آمد پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے روزگار کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور مقامی بحری ماحولیاتی نظام کو تباہ کر رہی ہیں۔

بلوچ راجی اجوئی سانگر (بی آر اے ایس) نے جولائی میں ایک بیان میں کہا کہ "خطے میں حالیہ صورتِ حال کے پیشِ نظر، بی آر اے ایس اور سندھودیش ریولوشنری آرمی مل کر کام کر رہے ہیں کیوں کہ [بلوچ اور سندھی] ہر دو کو بڑھتے ہوئے چینی رسوخ پر شدید تحفظات ہیں۔"

کراچی – کراچی کے قریب دو جزائر کی ترقی میں چینی سرمایہ کاری کا امکان پاکستان میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے رسوخ پر بے چینی کو بھڑکا رہا ہے۔

image

ماہی گیری کی صنعت کے کارکنان، سول سوسائٹی کے فعالیت پسندوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے چینی سرمایہ کاری کے ساتھ بنڈل اور ڈِنگی جزائر پر ایک شہر تعمیر کرنے کے وفاقی حکومت کے منصوبے کے خلاف 14 اکتوبر کو کراچی میں ایک ریلی میں شرکت کی۔ [ضیاءالرّحمٰن]

image

فروری میں ایک ماہی گیر گوادر میں سمندر کنارے بیٹھا ہے۔ بلوچستان کے ایک ساحلی شہر گوادر میں ماہی گیروں نے چینی کشیتوں کی آمد کے خلاف احتجاج کیا۔ [بشکریہ ضیاءالرّحمٰن]

2 ستمبر کو وفاقی حکومت نے پاکستان آئی لینڈز ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈنینس جاری کیا، جس کا مقصد ملکی عملداری کے پانیوں میں موجود ویران جزائر کو ترقی دے کر شہروں میں بدلنا ہے۔ ان جزائر میں کراچی کے قریب بنڈل اور ڈنگی، جو بھاندر اور بڈّو کے نام سے بھی معروف ہیں، شامل ہیں۔

یہ آرڈننس ان دو جزائر کو وفاق کے زیرِ انتظام کرتا ہے، جو کہ ایک ایسا اقدام ہے جس پر مقامی اور صوبائی حکومتوں نے تنقید کی۔

15 اکتوبر کو سینکڑوں ماہی گیروں، سول سوسائٹی کے گروہوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے کراچی میں کشتیوں کی ایک ریلی منعقد کی جو اس ترقی اور منصوبے میں چینی رسوخ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ابراہیم حیدری سے ان جزائر تک گئی۔

اس احتجاج کے بعد، اسی روز سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نے کہا کہ یہ دو جزائر پرکشش سیّاحتی مقام بن جائیں گے، یہ اقدام منصوبے کا جزُ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ بیجنگ نے ان جزائر کو ترقی دینے میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس امر سے متعلق وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے اسماعیل نے کہا، "ہمارا اندازہ ہے کہ اس منصوبے پر 50 بلین ڈالر [8.1 ٹرلین روپے] [سرمایہ کاری] ہو گی"، انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے انجنیئرز سے تعمیراتی کارکنان اور ان سے بڑھئیوں سمیت تقریباً 150,000 ملازمتیں مہیا ہوں گی۔

مقامی وسائل کا استحصال

شاہ نے کہا، "یہ جنگلات مچھلیوں اور جھینگوں کی نرسری ہیں، جبکہ کراچی سے ٹھٹہ تک یہ خلیجیں ماہی گیری کے زخیز مقمات ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ جزیروں کی ترقی اور شہر کی تعمیر ماحول کو نقصان پہنچائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ماہی گیری کی صنعت کے 800,000 کارکنان کے روزگار بھی ختم ہو جائیں گے، جنہیں شدید غربت کا سامنا ہو گا۔

سیاسی اور سماجی فعالیت پسندوں کو خدشہ ہے کہ جس طرح وفاقی حکومت—جو اکثر بیجنگ کے زیرِ اثر دیکھی گئی ہے— نے اچانک کراچی کے قریب ان دو جزائر کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکومت ان جزائر پر سرمایہ کاری کرنے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

سندھی حقوق کے ایک گروہ جیئے سندھ تھنکرز فورم کے نائب صدر ظفر سہیتو نے 13 اکتوبر کو ایک ٹویٹ میں کہا، "ہم آپ کو اپنی زمینیں چین کی کمیونسٹ جماعت کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔"

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کا ایک نمایاں حصّہ ملک کے سمندروں پر مرکوز ہے۔

روزنامہ کاوش نے 13 اکتوبر کو خبر دی کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں وزارتِ بحری امور کو گہرے سمندر میں کان کنی کے لیے ایک چینی کمپنی کے ساتھ ایک نئے معاہدے سے مطلع کیا۔

مشاہدین اور قانون سازوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں گہرے پانیوں کی ایک بندرگاہ—گوادر میں چین کے ہراول منصوبہ— پر پیش رفت صوبے میںشدید بدامنی کا باعث بن رہی ہے کیوں کہ بیجنگ مقامی افراد پر اثر کی فکر یا اندیشہ کیے بغیر مقامی وسائل کا استحصال کر رہا ہے۔

گوادر کی بندرگاہ، جہاں رازداری کے بھیس میں متعدد مشتبہ عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں، پر چینی فوج کے ارادوںسے متعلق بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

چینی ماہی گیری کی کشتیاں بین الاقوامی پانیوں میں دست اندازی کرنے اور ماحول کو نقصان پہنچانے والے متنازع طریقے استعمال کرنے اور مقامی افراد کو روزگار سے محروم کرنے کے لیے معروف ہیں۔

چین کے بڑھتے ہوئے رسوخ سے متعلق خدشات

گزشتہ چند برسوں میں حکومتِ چین نے پاکستان کے ساتھ کثیر بلین ڈالر کے بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جس سے ملک میں چینی رسوخ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔

بلوچستان میں ضلع چاغی کے علاقہ سینڈک میں چینی کمپنیوں نے بنا کسی مقامی، قومی یا بین الاقوامی نگرانی کے تانبے اور سونے کے ذخائر نکالے ہیں۔

مقامی باشندوں اور سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی قوانین کے برعکس، چینی کمپنیوں نے ضلع چاغی میں تعلیم اور صحت یا بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری نہیں کی۔

تحقیقات میں یہ امر ظاہر ہونے کے بعد، کہ بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام (BRI) کے تحت کوئلے کی کان کنی کے منصوبے جنوبی ایشیا میں وسیع پیمانے کی فضائی آلودگی ثابت ہوں گے اور مقامی آبادی کو صحت سے متعلق شدید خدشات کی زد میں لے آئیں گے، صوبہ سندھ میں اس سے منسلک منصوبوں کوتھر کے صحرائی خطے کے باشندوں کی جانب سے احتجاج کا سامنا ہے۔

درایں اثناء، بلوچستان میں بڑھتے ہوئے چینی رسوخ پر غم و غصہ بلوچ اور سندھی عسکریت پسند تنظیموں کے ایک دوسرے سے اتحاد کرنے کا باعث بنا، اور اس سے یہ خدشات مزید بھڑکے کہ مشترکہ گروہ خطے میں پرتشدد سرگرمیوں میں اضافہ کرے گا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

بہت اچھے

جواب