حقوقِ انسانی

چینی پشت پناہی والے منصوبوں میں پاکستانی مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر بڑھتا ہوا احتجاج

پاکستان فارورڈ

image

15 ستمبر کو مزدور ضلع ناران، خیبر پختونخوا میں سُکی کناری ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے ایک چینی کمپنی کے انچارج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے۔ [پاکستان فارورڈ]

اسلام آباد -- مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چینی کمپنیاں مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور ان مقامات پر حفاظتی تدبیروں کو نظرانداز کر رہی ہیں جو بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹو (بی آر آئی) کا حصہ ہیں۔

چینی سرمایہ کاری والے منصوبوںمیں ایسی بدسلوکیوں نے ملک بھر میں احتجاج میں اضافہ کیا ہے۔

15 ستمبر کو، سینکڑوں مزدوروں نے ضلع مانسہرہ، خیبرپختونخوا میں سُکی کناری ہائیڈرو پاور اسٹیشن کی تعمیر کے چینی کمپنی کے انچارج کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے مرکزی ناران-مانسہرہ روڈ کو بلاک کر دیا۔

1.8 بلین ڈالر (297 بلین روپے) مالیت کے توانائی کے ایک اس منصوبے کا مرکزی ٹھیکیدار، چائنا غزوبا گروپ کمپنی لمیٹڈ، ایک تعمیراتی فرم جس کا مرکزی دفتر ووہان، چین میں ہے۔

image

سنہ 2018 میں مزدور خانیوال کے قریب ایم 4 موٹروے کے ایک حصے پر کام کرتے ہوئے۔ [پاکستان فارورڈ]

image

25 اگست کی ایک فوٹو میں ضلع مانسہرہ میں چینی کمپنی کی ایک عمارت دکھائی گئی ہے۔ [پاکستان فارورڈ]

مزدوروں کی ایک تنظیم، شاہین لیبر یونین کے رہنماء، سید صلاح الدین شاہ نے کہا کہ خطے میں کورونا وائرس کی عالمی وباء پھوٹنے سے قبل کئی معاہدے کرنے کے باوجود، کمپنی نے مزدوروں کو بنیادی حقوق دینے سے انکار کر دیا ہے اور ان میں سے بہت سوں کو ملازمت سے نکال دیا ہے۔

ضلع مانسہرہ کی انتظامیہ نے آخرکار مزدوروں کو احتجاج ختم کرنے اور سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دینے پر قائل کر لیا۔

شاہ نے کہا، "سرکاری حکام نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے کہ چینی کمپنی مزدوروں کے ساتھ اپنے معاہدے سے انحراف نہیں کرے گی اور نکالے گئے مزدوروں کو فوری طور پر واپس ملازمت پر رکھے گی۔"

سینکڑوں مزدوروں نے ایسے ہی ایک احتجاج کا اہتمام مئی میں ایک چینی کمپنی کے خلاف کیا تھا جس نے ان کے جائز حقوق دینے سے انکار کیا تھا اور انہیں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن کے دوران کام کرنے پر مجبور کیا تھا۔

اپریل 2015 میں، چینی اور پاکستانی حکام نے درجنوں معاہدوں پر دستخط کیے تھے جن کے نتیجے میں اگلی دہائی میں 46 بلین ڈالر (7.6 ٹریلین روپے) کی چینی سرمایہ کاری ہونی ہے۔ مزید حالیہ منصوبے اب اس رقم کو 60 بلین ڈالر (9.9 ٹریلین روپے) تک لے آئے ہیں۔

بدسلوکیاں جاری

چین کی پشت پناہی والے منصوبوں میں مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیاں ایک عام سی بات ہے۔

سنہ 2019 میں نیدرزلینڈ کی لیڈن یونیورسٹی کی جانب سے شائع کردہ ایک تحقیق کے مطابق، ایک واقعہ میں، چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے جزو کے طور پر تعمیر کردہ، ایک 309 کلومیٹر طویل موٹروے، ایم 4 موٹروے کی تعمیر کے دوران، آجر نے تعمیراتی مزدوروں کے حقوق غصب کیے۔

مزدوروں کے ساتھ عملی انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے، تحقیق میں کہا گیا، "بھرتیاں عام طور پر زبانی کلامی تھیں ۔۔۔ حقوق کی ضمانت دینے کے لیے کوئی معاہدے نہیں کیے گئے تھے۔"

"مزدوری کی ادائیگیوں میں مسائل تھے، جن میں سے بیشتر طے شدہ مزدوری سے کم ادائیگی کے تھے؛ کچھ کی تنخواہ میں کٹوتی ہوئی تھی یا دیر سے ادا کی گئی تھی۔"

مزدوروں نے بتایا کہ انہیں کوئی حفاظتی آلات فراہم نہیں کیے گئے نہ ہی کوئی تربیت دی گئی۔

مزدور رہنماؤں کے مطابق، بہت سی چینی کمپنیوں نے مزدوروں کو کووڈ-19 لاحق ہونے سے بچانے کے لیے کسی حفاظتی تدبیر کا اطلاق نہیں کیا تھا۔

مزدوروں کے حقوق کی ایک ملک گیر تنظیم، پاکستان فیڈریشن آف بلڈنگ اینڈ ووڈ ورکرز (پی ایف بی ڈبلیو ڈبلیو)، نے چین کے تعمیراتی منصوبوں پر کام پر رکھے گئے مزدوروں کی صحت اور سلامتی پر اپنی تشویشوں کا اظہار کیا ہے۔

پی ایف بی ڈبلیو ڈبلیو کے ایک رہنماء، عاصم عادل نے کہا، "جبکہ پاکستان کے زیادہ تر حصے میں لاک ڈاؤن تھا، کئی مقامات پر کام کی کئی سائٹوں نے کام کرنا جاری رکھا، بشمول سُکی کناری ہائیڈرو پاور اسٹیشن اور کاروٹ ہائیڈرو پاور اسٹیشن۔"

کاروٹ ہائیڈرو پاور اسٹیشن چین کا بجلی کی پیداوار کا ایک اور منصوبہ ہے جو ضلع راولپنڈی، صوبہ پنجاب میں دریائے جہلم، اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی میں ہے۔

عادل نے کہا کہ کچھ سائٹوں پر حفاظتی تدابیر ناپید ہیں۔

عادل کا کہنا تھا، "ان سائیٹوں میں سے کسی پر بھی کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کا انتظام نہیں تھا ۔۔۔ کام پر اور مزدوروں کے کیمپوں میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنا تقریباً ناممکن تھا، اور ذاتی حفاظت کا سامان ابھی بھی ناکافی ہے۔"

بڑھتے ہوئے چینی اثرورسوخ پر تشویشیں

بنیادی ڈھانچے کے ایسے منصوبوں نے ناصرف پاکستانی مزدوروں کو خطرے میں ڈالا ہے، بلکہ ملک میں چینی اثرورسوخ پر تشویشوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔

قانون سازوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں چینی اثرورسوخ میں متواتر اضافہ -- جس میں چینی کمپنیاں مقامی باشندوں پر اثر کی پرواہ یا تشویش کے بغیر مقامی وسائل کا استحصال کر رہی ہیں-- صوبے میں سنگین بدامنی کو مہمیز دے رہا ہے۔

بلوچستان کے ضلع چاغی کے سیندک کے علاقے میں، چینی کمپنیوں نے بغیر کسی مقامی، ملکی یا بین الاقوامی نگرانی کے تانبے اور سونے کے ذخائر نکال لیے ہیں۔

مقامی باشندوں اور سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے برعکس، چینی کمپنیوں نے ضلع چاغی میں تعلیم، صحت یا بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری نہیں کی۔

صوبہ سندھ میں بی آر آئی سے منسلک منصوبوں پر صحرائے تھر کے علاقےمیں مکینوں کی جانب سے مظاہرے کیے گئے جب مطالعات نے یہ ظاہر کیا کہ اس پہل کاری کے تحت کوئلے کی کان کنی کے منصوبوں سے جنوبی ایشیاء میں بہت فضائی آلودگی ہو گی اور مقامی آبادی کو صحت کے سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔

دریں اثناء، بلوچستان میں بڑھتے ہوئے چینی اثرورسوخ پر اشتعالنے بلوچ اور سندھی عسکریت پسند تنظیموں کو ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کرنے پر مجبور کیا ہے، جس سے ان تشویشوں میں اضافہ ہو رہا ہے کہ متحد گروپ خطے میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کر دیں گے۔

بلوچ راجی آجوئی سانگر (براس) نے جولائی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ براس اور سندھو دیش ریوولوشنری آرمی اب مل کر کام کر رہی ہیں "خطے میں موجودہ منظرنامے کی روشنی میں کیونکہ دونوں [بلوچوں اور سندھیوں] کو بڑھتے ہوئے چینی اثرورسوخ پر شدید تحفظات ہیں۔"

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟
تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500