https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/11/22/feature-01
دہشتگردی |

البغدادی کی ہلاکت کے بعد داعش-خراسان سیکیورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں غیر محفوظ

از ضیاء الرحمان

image

اکتوبر میں پولیس کراچی میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دیتے ہوئے۔ [ضیاء الرحمان]

کراچی -- دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پچھلے ماہ "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کے امیر ابوبکر البغدادی کی ہلاکت نے پاکستان اور افغانستان میں اس دہشت گرد تنظیم کو کمزور کر دیا ہے، جس سے یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہو گئی ہے۔

داعش کا روپوش امیر 26 اکتوبر کو شمال مغربی شام میں امریکی خصوصی فورسز کے رات کے ایک چھاپے میں داعش کے دیگر بہت سے جنگجوؤں کے ہمراہ مارا گیا تھا۔

چھاپے کے اختتام پر البغدادی ایک سرنگ میں گھیرا گیا تھا، جہاں اس نے خودکش جیکٹ پھاڑ دی تھی،جس سے وہ خود اور اس کے تین بچے ہلاک ہو گئے۔

image

ستمبر میں ایک راہ چلتا شخص صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور میں ایک شیعہ امام بارگاہ پر ستمبر 2015 میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تصاویر دیکھتے ہوئے۔ ان قتلوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ [ضیاء الرحمان]

اس کی ہلاکتدہشت گردی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہےناصرف دنیا بھر میں بلکہ پاکستان اور افغانستان میں بھی، جہاں تنظیم نے جنوری 2015 میں اپنی خراسان شاخ کا اعلاج کیا تھا، جو داعش-خراسان کے نام سے معروف ہے۔

اپنے قیام کے بعد کے برسوں میں، داعش-خراسان نے پاکستان اور افغانستان میں چند مہلک ترین حملے کیے، جن میں خاص طور پر مساجد اور عوامی مقامات پر سینکڑوں بے گناہ شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

پاکستان اور افغانستان میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف سخت کارروائیاں کرتے ہوئے ردِعمل دیا، جن میں داعش-خراسان کے بہت سے ارکان مارے گئے اور گرفتار ہوئے۔

اسلام آباد کے مقامی قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے کے اعلیٰ اہلکار جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات چیت کی، ان کا کہنا تھا، "البغدادی کی ہلاکت داعش-خراسان کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔"

اہلکار، جو کہ خود بھی پاکستان میں داعش کے خلاف کوششوں میں شامل رہے ہیں، نے کہا، "اس [البغدادی] کی ہلاکت تنظیم کے پاکستان میں ساتھیوں کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے، جو کہ پہلے ہی سخت کارروائی اور داخلی تنازعات میں پھنسے ہوئے تھے۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حالیہ مہینوں میں پاکستان میں داعش-خراسان کے بہت سے رہنماؤںکو ہلاک کیا ہے۔ حکام نے تعلیمی اداروں میں ممکنہ بھرتی کاروں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے، تنظیم کے اثرورسوخ کا مقابلہکرنے کی بھی کوششیں کی ہیں۔

دریں اثناء، سرحد پار، افغان وزارتِ دفاع نے 16 نومبر کو اعلان کیا تھا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران داعش-خراسان سے تعلق رکھنے والے 600 سے زائد جنگجوؤں نے ہتھیار ڈالے تھے۔

وزارت کا کہنا تھا، "پاکستان سے ملحقہ افغان خطے میں حال ہی میں صفائی کی وسیع کارروائیاں شروع کی گئی تھیں، جس نے داعش-خراسان کے جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔"

افغان ذرائع ابلاغ نے، وزارتِ دفاع کے حوالے سے کہا، "جن جنگجوؤں نے ہتھیار ڈالے تھے ان میں پاکستانی، وسط ایشیائی اور ایرانی شامل تھے۔"

صوبہ ننگرہار میں ایک قبائلی عمائد، حاجی طُور سلیمان خیل نے کہا کہ داعش-خراسان کے سینکڑوں جنگجوؤں کا حال ہی میں ہتھیار ڈالنا ظاہر کرتا ہے کہ البغدادی کی ہلاکت نے افغانستان میں تنظیم کے جنگجوؤں کے حوصلوں کو مزید توڑ دیا ہے۔

سلیمان خیل نے کہا، "فوجی آپریشنوں کی وجہ سے دہشت گرد تنظیم ننگرہار اور کنڑ صوبوں میں پہلے ہی اپنی قوت اور علاقے سے محروم ہو چکی ہے۔"

داعش خطے میں

داعش-خراسان کی کمزور حالت تنظیم میں رنگ رنگ کے جنگجوؤں کے انتخاب کو اجاگر کرتی ہے۔

پاکستان میں، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بہت سے جنگجوؤں نے داعش-خراسان میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ ٹی ٹی پی متواتر فوجی دباؤ، چوٹی کے رہنماؤں کی ہلاکتوں اور گرفتاریوں، اور اندرونی تنازعات کے تحت کمزور ہوتی رہی ہے۔

ٹی ٹی پی کے کچھ کمانڈر جو داعش-خراسان میں شامل ہو گئے تھے پاکستانی فوج کی جانب سے جون 2014 میں شمالی وزیرستان اور دیگر ہر جگہ شروع کیے جانے والے آپریشن ضربِ عضب میں اپنی پناہ گاہیں تباہ ہونے کے بعد پہلے ہی افغانستان فرار ہو گئے تھے۔

پاکستان کی شیعہ مخالف کالعدم تنظیم، لشکرِ جھنگوی نے بھی داعش-خراسان کے ساتھ الحاق کیا تھا اور بنیادی طور پر پاکستان میں صوفی مزارات اور شیعہ امام بارگاہوں کو ہدف بنا کر حملے کرنے کے لیے ہاتھ ملایا تھا۔

افغانستان میں، افغان طالبان سے الگ ہونے والے رہنماؤں، مقامی جرائم پیشہ عناصر اور افغانستان میں روپوش ٹی ٹی پی کے سابقہ رہنماؤں نے داعش-خراسان کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔

کراچی کے مقامی ایک صحافی جو خطے میں عسکری گروہوں پر نظر رکھتے ہیں، منیر احمد شاہ نے کہا، "پاکستان اور افغانستان میں داعش-خراسان کے موجودہ ساتھیوں میں سے بیشتر کا ماضی میں القاعدہ کے ساتھ الحاق تھا، مگر مئی 2011 میں پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موت کے بعد، القاعدہ ختم ہونا شروع ہو گئی۔"

شاہ نے کہا، "القاعدہ کے زوال سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والی تنظیم داعش تھی، اور القاعدہ کے خطے میں اتحادیوں نے داعش میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔"

شاہ نے کہا، تاہم دونوں ممالک میں داعش-خراسان کی طاقت متواتر کم ہوئی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس سال کے شروع میں مشرقِ وسطیٰ میں داعش کی مرکزی علاقائی شکست کے بعد اور البغدادی کی ہلاکت نے عسکری تنظیم اور اس کی دنیا بھر میں موجود شاخوں کو مزید نقصان پہنچایا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ داعش مشرقِ وسطیٰ میں اپنے علاقے سے محروم ہونے کے بعد اپنے تشخص کی تعمیرِ نو کی کوشش کرتی رہی ہے۔

مئی میں، داعش نے اعلان کیا تھا کہ اس نے پاکستان میں ایک "صوبہ ہند"قائم کر لیا ہے۔ یہ اعلان ہندوستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں ایک حملے کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبول کیے جانے کے بعد کیا گیا تھا۔

تاہم اس کے بعد سے، بگڑتی ہوئی قسمت کے باوجود بھی تنظیم کے پروفائل کو اٹھانے کی ایک کوشش میںداعش نے گزشتہ چند ماہ میں پاکستان میں بہت سے دہشت گرد حملوں اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کی جھوٹی ذمہ داری قبول کی ہے۔

سائٹ (SITE) خفیہ گروپ، جو دہشت گردی کے خطرات پر نظر رکھتا ہے، کی ڈائریکٹر، ریٹا کاز نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ نئے صوبے کے اعلان سے، داعش "عراق اور شام میں اپنے نقصانات کے بعد دنیا بھر میں بغاوتیں کروانے اور ان کی بنیادوں کو نئی ساخت شکل دینے کی متلاشی ہے، یہ پاکستان سے بھی بھرتی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔"

شاہ نے کہا کہ "'خراسان' صوبے کو حصوں میں توڑنا اور اپنے صوبائی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ظاہر کرتا ہے کہ داعش عالمی سطح پر اپنی قوت سے محرومی کو چھپانا چاہتی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha