https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/03/04/feature-03
| سلامتی

سندھ میں داعش کے اہم راہنماؤں کی ہلاکت کو گروہ کے لیے بڑے دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

ضیاء الرحمان

image

پولیس کے اہلکار 3 مارچ کو کراچی میں سڑک پر گاڑیوں کا معائینہ کر رہے ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[

کراچی -- سندھ پولیس نے "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کے دو راہنماؤں کو ہلاک کر دیا جو صوبہ سندھ میں کام کر رہے تھے اور اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

شکارپور ڈسٹرکٹ، صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران نے 28 فروری کو دو عسکریت پسندوں -- مولوی عبداللہ بروہی اور عبدل حفیظ پندرانی -- کو بلوچستان کے علاقے سبی میں فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کر دیا۔

سندھ کے افسران کو ہمسایہ صوبہ میں کاروائی کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

image

شکارپور پولیس کے سربراہ ساجد عامر سیدوزئی (دستاویزات پکڑے ہوئے) 28 فروری کو شکارپور میں داعش کے دو راہنماؤں کی ہلاکت کا اعلان کر رہے ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[

image

صوبہ سندھ کے انسدادِ دہشت گردی کے ڈپارٹمنٹ کی ریڈ بُک (دکھائی گئی) میں داعش کے راہنما عبدل حفیظ پندرانی کا نام، تصاویر اور تفصیلات دکھائی گئی ہیں، جو 28 فروری کو پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے۔ ]ضیاء الرحمان[

بروہی اور پندرانی، صوبہ سندھ میں داعش کے بالترتیب چیف اور ڈپٹی چیف تھے۔ یہ بات شکارپور پولیس کے سربراہ ساجد عامر سیدوزئی نے بتائی۔ وہ 2010 سے سندھ اور بلوچستان میں بہت سے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کے باعث مطلوب تھے۔

سیدوزئی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ عسکریت پسند راہنماؤں کی ہلاکت "قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی، شمالی سندھ کے علاقے میں عسکریت پسندوں پر ان کے جاری کریک ڈاؤن کے سلسلے میں بہت بڑی کامیابی ہے"۔

صوبہ سندھ کے پولیس چیف ڈاکٹر سید کلیم امام نے 28 فروری کو ان دو عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے والی پولیس ٹیم کے لیے 2 ملین روپے ( 14,000 ڈالر) کے انعام کا اعلان کیا۔

ایک ہلاکت انگیز دہشت گرد گروہ

عسکریت پسندوں کا گروہ جس کی قیادت داعش کے دو راہنما کر رہے ہیں، گزشتہ جولائی میں مستانگ ڈسٹرکٹ، بلوچستان میں عوامی نیشنل پارٹی کے سیاسی جلسے میں خودکش دھماکہ کرنے کے ذمہ دار تھے جس سے 149 پاکستانی ہلاک ہو گئے جن میں سراج ریسیائی بھی شامل ہیں۔

اس نے فروری 2017 میں لال شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملہ بھی کیا تھا۔ صوفی بزرگ کے مزار پر ہونے والے دھماکے میں 85 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

دیگر حملوں میںکوئٹہ میں پولیس کے ٹریننگ سینٹر پر اکتوبر 2016 میں ہونے والا حملہ، جس میں 60 سے زیادہ کیڈٹ ہلاک ہو گئے تھے اور جنوری 2015 میں شکارپور کی شیعہ مسجد میں ہونے والا خودکش دھماکہ جس میں 61 افراد ہلاک ہو گئے تھے، شامل ہیں۔

یہ گروہ سیاست دن ڈاکٹر عارف جتوئی، نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ اور روحانی شخصیات پیر حسین شاہ اور پیر سید حاجن شاہ پر ہونے والے خودکش حملوں میں بھی ملوث تھا۔ جتوئی اور پیر حسین شاہ قتل کی ان کوششوں میں بچ گئے تھے۔

پندرانی اور بروہی دونوں ہی سندھ کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ کی ریڈ بک میں شامل تھے جس میں مطلوب ترین عسکریت پسندوں کے نام، تصاویر اور تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ سندھ کی صوبائی حکومت نے پندرانی پر 10 ملین روپے ( 72,000 ڈالر) کا انعام رکھا تھا جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ دہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ ساز ہے اور بروہی کے لیے 5 روپے (36,000 ڈالر) کا انعام رکھا گیا تھا۔

شکار پور میں 2015 میں ایک شعیہ مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے نمازی کے رشتہ دار عامر حسین نے کہا کہ عسکریت پسند راہ نما جیسے کہ پندرانی اور بروہی نے صوبہ سندھ کے مذہبی اور فرقہ ورانہ تَکثیریت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مگر وہ اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ شہریوں، مذہبی علماء اور سول سوسائٹی نے مل کر دہشت گردی کے ان کاموں کی مذمت کی"۔

حسین کے مطابق، مثال کے طور پر صوبہ بھر میں سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنوں نے مذہبی جگہوں اور مزاروں کا، انہیں نشانہ بنائے جانے کے کچھ دنوں کے بعد دورہ کیا تاکہ اتحاد کا مظاہرہ کیا جا سکے۔

17 فروری کو، وسیع تعداد میں امن کے سرگرم کارکنوں جن کا تعلق مختلف مذہبی عقیدوں سے تھا، نے لال شہباز قلندر کے مزار کا دورہ کیاتاکہ متاثرین کو یاد کیا جا سکے اور خودکش حملے کی دوسری برسی کے موقع پر اپنی اٹھ کھڑے ہونے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جا سکے۔

فنکاروں جن میں شیما کرمانی جو کہ کراچی سے تعلق رکھنے والی فنکارہ اور سرگرم کارکن ہیں، نے دھمال ڈالا جو کہ صوفیانہ موسیقی اور رقص کا جشن ہے۔

داعش کے لیے دھچکا

تجزیہ نگاروں کے مطابق دو عسکریت پسند راہنماؤں کی موت سے علاقے میں داعش کو نقصان پہنچے گا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی جو کہ سندھ میں عسکریت پسندی کو کور کرتے ہیں، نے کہا کہ پندرانی جو سندھ-بلوچستان کے سرحدی علاقے میں ایک اہم عسکری کمانڈر کے طور پر ابھرے تھے، وہاں پر امن و امان کی صورتِ حال کو نقصان پہنچا رہے تھے۔

سہیل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ان کی ہلاکت درحقیقت علاقے میں عسکریت پسند گروہ کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے"۔

کراچی کے انسدادِ دہشت گردی کے پولیس افسر راجہ عمر خطاب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پندرانی نے کھلم کھلا داعش میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا تھا مگر لگتا ہے کہ اس کے سندھ اور بلوچستان مین داعش اور دیگر فرقہ ورانہ گروہوں سے تعلقات تھے جیسے کہ لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے)"۔

ایل ای جے داعش کے ساتھ اتحاد کرنے کے لیے مشہور ہے۔

خطاب نے کہا کہ پندرانی کا مزاروں اور شیعہ برادری کو نشانہ بنانے کا طریقہ کار، داعش کی طرف سے عراق اور شام میں کیے جانے والے بم دھماکوں سے مماثل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایل ای جے کے مختلف راہنماوں کی ہلاکت، جیسے کہ جولائی 2015 میں ملک اسحاق اور جنوری 2017 میں آصف چھوٹو، نہ صرف ایل ای جے بلکہ داعش کے لیے بھی، پاکستان میں اس کے ارادوں کے لیے بڑا دھچکا تھی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
6
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

فاروق امجد بُٹر صاحب زبردست ہیں۔۔۔

جواب