https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/11/01/feature-01
| دہشتگردی

'مرتدین' کے متعلق ٹیلیگرام پر تنازعہ داعش-خراسان کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو آشکار کرتا ہے

از سلیمان

image

ٹیلیگرام پر داعش کی جانب سے پوسٹ کردہ ایک فوٹو میں اس کے جنگجوؤں کو ایک سمارٹ فون کے گرد جمع دکھایا گیا ہے۔ [فائل]

کابل -- سلام ٹائمز کی جانب سے دیکھے گئے ایک حالیہ ٹیلیگرام چیٹ کے لاگ کے مطابق، افغانستان میں "دولتِ اسلامیہ" کے ارکان میں سوشل میڈیا پر اس امر پر اختلاف بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ مرتد کسے تصور کرتے ہیں۔

پیغامات، جو 20 ستمبر سے پوسٹ ہونا شروع ہوئے تھے، اس معاملے پر اختلافات کا انکشاف کرتے ہیں آیا کہ دیگر عسکریت پسند گروہ -- اس معاملے میں، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) -- مرتد ہیں۔

دسمبر 2007 میں اپنے آغاز سے، ٹی ٹی پی کے افغان طالبان اور القاعدہ کے ساتھ روابط رہے ہیں، جو کہ دونوں ہی داعشجو پیروکاروں کے لیے مقابلہ کرتی ہےکے حریف ہیں اور بعض اوقات جھگڑے کرتے ہیں۔

image

گزشتہ اکتوبر میں داعش کے ارکان افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر فائرنگ کرتے ہوئے۔ داعش کے بہت سے ارکان تحریکِ طالبان پاکستان کے سابقہ ارکان ہیں۔ [فائل]

اکتوبر 2018 میں، ٹی ٹی پی نے 12 صفحات پر مشتمل ایک عملی ہدایت نامہ جاری کیا تھا جس میں ایک حصہ شامل تھا جو داعش کی خراسان شاخ (داعش-کے) کے ارکان کو مرتدین قرار دیتا تھا۔

حالیہ چیٹ لاگ میں، داعش کے ارکان کو اس بات پر مباحثہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے آیا کہ ٹی ٹی پی کے ارکان کافر ہیں۔

بحث کو سمیٹنے کی ایک کوشش میں، داعش-خراسان کے چینل کے ایک صارف "محمد بن قاسم" نے بعد ازاں ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں پیروکاروں کو انتباہ کیا گیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ارکان درحقیقت مرتد ہیں۔

مضمون میں سوال اٹھایا گیا، "پاکستان کے مرتد طالبان ۔۔۔ [داعش کے] محترم مجاہدہن کو کافر اور خوارج کہتے ہیں، تو افغان طالبان اور ان [ٹی ٹی پی] کے درمیان کیا فرق باقی رہ جاتا ہے؟"

"میں [داعش کے] ارکان سے کہتا ہوں کہ بنیادی ہدف کو مت بھولیں، اور ان منافقین کو آپ کے دلوں میں شکوک ۔۔ معاذ اللہ ۔۔ پیدا کر کے گمراہ نہ کرنے دیں۔"

اس میں حکم دیا گیا، "آپ کو بس یہ کرنا ہے کہ ان چینلوں کو چھوڑ دیں۔ دیگر مسلمانوں کو بھی ایسی سازشوں سے آگاہ کریں، اور کبھی بھی ان کی جانب سے لائے گئے امور پر تبادلۂ خیال نہ کریں۔"

ٹیلیگرام پر داعش-خراسان کے صارفین باقاعدگی کے ساتھ چینلوں اور گروپس میں "جاسوسوں" کی موجودگی پر بات کرتے ہیں، جس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ داعش کے منتظمین کو یہ جاننے میں دشواری پیش آ رہی ہے کہ کس پر بھروسہ کیا جائے۔

داعش-خراسان میں اختلافات

کابل میں سیاسی امور کے ایک تجزیہ کار، امان اللہ شارق کا کہنا تھا، "داعش کے قائدین اپنے ارکان کو متحد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ وہ سب متحد ہیں، مگر پاکستانی طالبان کو کافر قرار دینے کے متعلق ان کی متضاد آراء اور ان کی اسلام کی مختلف تشریحات ظاہر کرتی ہیں کہ داعش کے جنگجوؤں میں اندرونی اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔"

ابوبکر البغدادی، داعش کا امیر27 اکتوبر کو شام میں ایک خصوصی امریکی کارروائی میں ہلاک ہو گیا تھا۔

شارق نے کہا، "چونکہ وہ ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروہ میں عداوتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ مزید برآں، زمینی اور فضائی حملوں میں اضافے نے ہو سکتا ہے داعش کے جنگجوؤں کے درمیان اختلافات کو وسیع کر دیا ہو۔"

کابل میں سیاسی امور کے ایک تجزیہ کار اکبر جان پولاد نے کہا، "کچھ اطلاعات اور ثبوت ظاہر کرتے ہیں کہ بہت سے افغان جنہوں نے داعش کے ساتھ الحاق کا عہد کیا تھا، وہ ان سے ان کے انتہائی ظالمانہ حربوں کی وجہ سے الگ ہو گئے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ماضی میں، یہ تصور کیا جاتا تھا کہ داعش کے جنگجو ایک متحد قیادت کے ماتحت ایک گروہ میں منظم ہیں، مگر گروہ کے ارکان کے متضاد مؤقف ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک قیادت کے ماتحت نہیں ہیں۔"

پولاد نے مزید کہا، "ان کے ارکان کے مابین جھگڑے گروہ کے اندر اختلاف کے آغاز کی علامت ہیں۔"

وولیسائی جرگہ (پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں) میں صوبہ کنڑ کے ایک نمائندہ، نعمت اللہ کاریاب جنہوں نے اپنے وقت میں بطور ایک صحافی داعش کے قائدین سے بات چیت کی تھی، کے مطابق عدم اتفاق داعش-خراسان کے ارکان کے ماخذوں سے پھوٹتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق، افغانستان میں داعش کے تقریباً 70 فیصد جنگجو ٹی ٹی پی کے ایسے سابق ارکان ہیں جنہوں نے مسلسل کریک ڈاؤن سے پاکستان سے بھاگنے پر مجبور ہونے کے بعد شرکت کی تھی۔

کاریاب نے کہا، "داعش کے کافی ارکان مُصر تھے کہ افغانستان میں داعش کی قیادت پاکستانی طالبان کے حوالے کی جائے، مگر جب عراق، شام، مشرقِ وسطیٰ [میں کہیں سے بھی] اور چیچنیا سے داعش کے جنگجو افغانستان آئے، انہوں نے اس خیال سے اختلاف کیا، اور یہ وہ وقت تھا جب داعش کے جنگجوؤں کے مابین اختلافات پیدا ہونا شروع ہوئے۔"

پاکستانی قبائلی پٹی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا، "داعش کے زیادہ تر جنگجوؤں اور کمانڈروں جو افغانستان میں برسرِپیکار ہیں کا تعلق اورکزئی، باجوڑ، مہمند اور وزیرستان کے علاقوں سے ہے۔"

کاریاب نے کہا، "میرے خیال میں داعش پاکستانی طالبان کو اس وجہ سے کافر کہتی ہے کیونکہ ان [ٹی ٹی پی] کی ہمدردیاں افغان طالبان کے ساتھ ہیں ۔۔ جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں، داعش اور [افغان] طالبان متحرک طریقے سے ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔"

داعش کے اصولوں کی خلاف ورزی

20 ستمبر کی چیٹ کا لاگ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ داعش-خراسان کے ارکان میدانِ جنگ کے نقصانات پر بات کرنے کے تنظیمی اصول کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور غیر مجاز مواد بانٹ رہے ہیں۔

کابل میں ایک عسکری اور سیاسی امور کے تجزیہ کار، عزیز ستانکزئی نے کہا، "داعش کی پالیسی اور اصولوں کی بنیاد پر، تنظیم کے ارکان کو فیس بُک، ٹیلیگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر ایک مؤقف اختیار کرنے یا اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک دوسرے کو یا کسی دوسرے گروپ کو کافر قرار دینا اور باضابطہ صفحات پر بے ضابطہ فوٹو شائع کرنا داعش کے ارکان میں اتحاد اور نظم و ضبط کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔"

ستانکزئی نے کہا، "داعش کے ارکان کے ہاتھوں اپنی اموات کی تعداد کے متعلق معلومات اپنے ذاتی صفحات پر پوسٹ کرنا اور میدانِ جنگ میں ان کی اموات کے متعلق اظہارِ خیال کرنا ایسے واقعات ہیں جو داعش کے اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔"

امجد حسین، کراچی کے مقامی محقق جو ڈیجیٹل میڈیا پر عسکریت پسند تنظیموں کی نگرانی کرتے ہیں، نے کہا، "افغانستان اور پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت کارروائی نے داعش-خراسان کو بہت زیادہ کمزور کر دیا ہے، اور اس کے زیادہ تر کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد، تنظیم کے حامی مایوس ہو چکے ہیں اور اپنی مایوسی کا اظہار سوشل میڈیا اور فوری پیغامات کی سروسز جیسے کہ ٹیلیگرام پر کر رہے ہیں۔"

حسین نے کہا، "داعش-خراسان کے حامی جب دیگر حامیوں کو مرتد قرار دیتے ہیں تو وہ اندرونی اختلافات پر کھلے عام بات نہ کرنے کی تنظیم کی سخت پالیسی کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "ایسا لگتا ہے کہ خطے میں داعش-خراسان دھڑوں میں تقسیم ہونے کے کنارے پر ہے اور یہ کہ سوشل میڈیا پر اس کے حامیوں کے مابین آپسی جھگڑے زمین پر بھی شروع ہو سکتے ہیں۔"

افغان حکام کا کہنا ہے کہ داعش کو افغانستان میں بہت بڑے دھچکے لگے ہیں، اور دہشت گرد گروہ دفاعی قوتوں کا آمنے سامنے مقابلہ نہیں کر سکتا۔

وزارتِ دفاع کے ایک نائب ترجمان، فواد امان نے کہا، "گزشہ چند برسوں کے برعکس، داعش کچلی گئی ہے ۔۔۔ اور یہ تنظیم اب اس حالت میں نہیں ہے جس حالت میں ایک سال پہلے تھی۔"

انہوں نے کہا، "ہر گزرتے دن کے ساتھ، ان پر حملوں اور دباؤ کی سطح میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور محض چند حالیہ مہینوں میں، داعش کے سینکڑوں جنگجو دفاعی قوتوں کے ہاتھوں نیست و نابود ہو چکے ہیں۔"

[کراچی سے ضیاء الرحمان نے اس رپورٹ میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha