دہشتگردی

عسکریت پسند رہنما کا کہنا ہے کہ آئی آر جی سی پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی حمایت کر رہی ہے

از زرق خان

جیش العدل جنگجو گروپ کے ارکان۔ [فائل]

جیش العدل جنگجو گروپ کے ارکان۔ [فائل]

ایرانی عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے سرکردہ رہنما نے کہا کہ ایرانی حکومت، پاکستانی عسکریت پسند گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور انہیں پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے ایرانی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔

جیش العدل کے ترجمان حسین بلوچ نے نومبر میں مڈ اسٹون سینٹر فار انٹرنیشنل افیئرز (ایم سی آئی اے)، جو کہ برطانیہ میں قائم سیکیورٹی تھنک ٹینک ہے، کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کے بلوچ عسکریت پسند گروہوں کے ایسے رہنما اور پیادہ سپاہی، جنہوں نے پاکستانی فوجی کی کارروائیوں سے فرار ہونے کے بعد، ایران میں پناہ لی تھی "ایرانی حکومت اور آئی آر جی سی [سپاہِ پاسداران انقلاب اسلامی] کے جال میں پھنس چکے ہیں" اور "اس حکومت کا آلہ کار" بن چکے ہیں"۔

بلوچ نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس تحفظ کے بدلے میں، آئی آر جی سی پاکستانی عسکریت پسند گروہوں، جیسے کہ بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور بلوچستان ریپبلکن آرمی (بی آر اے) کو ایرانی سنی بلوچ گروپوں کے رہنماؤں اور اراکین کو قتل کرنے اور ان پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

بلوچ نے جون 2021 میں "اپنے ایک اڈے پر آئی آر جی سی فورسز کی حمایت سے، [پاکستانی بلوچ عسکریت پسندوں کے ذریعے] مربوط مشترکہ حملے" کا حوالہ دیا۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اڈہ پاکستان میں ہے یا ایران میں ہے۔ انہوں نے ایران کے علاقے بام پشت میں جیش العدل فورسز پر 2017 میں بی ایل ایف اور بی آر اے کے حملے کو بھی بیان کیا۔

ایران کی بلوچ اقلیت کے ساتھ غداری

تہران کا ساتھ دیتے ہوئے، بی ایل ایف اور بی آر اے ایک ایسی حکومت کو مضبوط کر رہے ہیں جو ایران میں ان کے اپنے ہی بھائیوں کو نشانہ بناتی ہے۔

بلوچ نے کہا کہ بی ایل ایف کے سربراہ اللہ نذر اور بی آر اے کے سربراہ براہمداغ بگٹی نے جیش العدل کے خلاف بیانات جاری کیے ہیں اور ایران میں جیش العدل پر 2017 کے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بلوچ نے کہا کہ " بدقسمتی سے، اپنی کمزوریوں کی وجہ سے، یہ [پاکستانی عسکریت پسند] گروپ آئی آر جی سی کے بلا معاوضہ سپاہی بن گئے ہیں۔"

جیش العدل، 2012 میں تشکیل دی گئی، ایک سنی تنظیم ہے جس نے ایلیٹ ایرانی فوجیوں کے خلاف کیے جانے والے بم دھماکوں اور اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ وہ سیستان اور بلوچستان میں سنی مسلمانوں اور نسلی بلوچوں کے خلاف، ایرانی امتیازی سلوک کا مقابلہ کر رہا ہے۔

پاکستانی حکام کو دہشت گرد حملوں میں ملوث، کالعدم بلوچ عسکریت پسند گروہوں سے تعلق رکھنے والے متعدد عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے بعد، پہلے ہی ایسے شواہد مل چکے ہیں کہ عسکریت پسند پاکستان پر حملوں کے لیے ایران میں موجود محفوظ پناہ گاہیں استعمال کر رہے ہیں ۔

بلوچستان کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 28 اکتوبر کو ضلع خاران میں ایک مشترکہ چھاپہ مار کر، بی ایل اے کے رکن شفقت اللہ جھلانزئی کو گرفتار کیا تھا جو کہ مبینہ طور پر، بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس نور محمد مسکانزئی کے قتل میں ملوث تھا۔

محمد کو 14 اکتوبر کو صوبہ بلوچستان کے شہر خاران میں ایک مسجد میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

سی ٹی ڈی کی طرف سے جاری کردہ اور پاکستان فارورڈ کی طرف سے دیکھے گئے ایک ویڈیو بیان میں، جھلانزئی نے اعتراف کیا کہ اس نے ایران کے سیستان و بلوچستان صوبے کے علاقے سروان میں عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کی تربیت حاصل کی تھی۔

فروری میں ہونے والے حملوں کے بعد، پاکستانی حکام نے تہران پر الزام عائد کیا کہ وہ عسکریت پسند گروپوں کو اپنے علاقے میں موجود محفوظ مقامات سے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

بی ایل اے کے عسکریت پسندوں نے 2 فروری کو بلوچستان کے اضلاع نوشکی اور پنجگور میں فوجی چوکیوں پر دوہرے حملے کیے۔ بی ایل ایف نے 25 جنوری کو ضلع کیچ میں 10 سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا۔

اُس وقت کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے مارچ میں قومی اسمبلی کے سوالات کے جواب میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ کالعدم عسکریت پسند گروپ سیستان اور بلوچستان کے راستے دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔

واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک، جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن نے مارچ میں کہا کہ پاکستانی عسکریت پسند گروہ "اپنے ساتھ ایران کے نرم رویہ سے مستفید ہوتے ہیں کیونکہ ایرانی سیکورٹی فورسز نے انہیں اور دیگر بلوچ [بلوچ ] باغی گروپوں کو تحفظ اور پناہ دی ہے"۔

تھنک ٹینک نے اپنی مارچ کی رپورٹ میں کہا کہ پاکستانی گروہوں نے اس تحفظ کو جیش العد پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

بدامنی کو ہوا دینا

حالیہ برسوں میں، سرحد پار سے ہونے والی نسلی اور فرقہ وارانہ عسکریت پسندی اور پاکستانی معاملات میں ایرانی مداخلت کی وجہ سے، تہران کے ساتھ اسلام آباد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔

آئی آر جی سی نے زینبیون بریگیڈ بنائی، جو پاکستانی شہریوں پر مشتمل ایک ایسی ملیشیا ہے جسے 2014 میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں شام میں لڑنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ جولائی میں، پاکستانی حکومت نے باضابطہ طور پر زینبیون بریگیڈ کو دہشت گردی کی سرگرمیوں، خاص طور پر پاکستان کے اندر، حریف فرقے کے علماء کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

اگرچہ زینبیون بریگیڈ پر ابھی تک پاکستان میں پابندی عائد نہیں کی گئی ہے مگر حکومت نے 2016 اور 2020 میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت، دو غیر معروف شیعہ تنظیموں، انصار الحسین اور اس کی شاخ خاتم الانبیاء کو، شامی جنگ میں بھرتی کے ساتھ اُن کے تعلقات پر کالعدم قرار دے دیا تھا۔

فروری میں ہونے والے ایک سیکورٹی کریک ڈاؤن میں، پاکستانی حکام نے منی لانڈرنگ کرنے والے پاکستانی شہریوں اور ایرانی انٹیلی جنس کے درمیان روابط کا پتہ لگایا ۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 9 فروری کو کراچی میں قائم ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن، جو کہ گھروں کے لیے قرضہ فراہم کرنےوالا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ذیلی ادارہ ہے، کے ایک سینئر اہلکار کو گرفتار کیا۔

ڈان کی خبر کے مطابق، اہلکار کو "ایرانی انٹیلی جنس کے لیے ہنڈی اور حوالات کا کاروبار کرنے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔"

کراچی میں ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق، یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب حکام نے کراچی میں حوالات اور ہنڈی کے کاروبار کے ایک گروہ کا پردہ فاش کیا اور 13 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا اور کروڑوں روپے کے برابر غیر ملکی اور مقامی کرنسی ضبط کی۔

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ "کئی پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیاں، پاکستان کی داخلی سلامتی کے معاملات میں تہران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں معلومات کا اشتراک کر رہی ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500