سلامتی

پاکستان میں ایران کی پشت پناہی کی حامل زینبیون برگیڈ پر پابندی متوقع

زرق خان

ایک پراپیگنڈا کتابچہ کے پشتی صفحہ پر شام میں مارے جانے والے شعیہ جنگجوؤں کی تصاویر ہیں۔ [زرق خان/پاکستان فارورڈ]

ایک پراپیگنڈا کتابچہ کے پشتی صفحہ پر شام میں مارے جانے والے شعیہ جنگجوؤں کی تصاویر ہیں۔ [زرق خان/پاکستان فارورڈ]

اسلام آباد – قبل ازاں حکومتِ پاکستان نے جولائی کے آخر میں اعتراف کیا تھا کہ ایران کی پشت پناہی کی حامل عسکریت پسند تنظیم زینبیون برگیڈ ، جس پر بیرونِ ملک لڑائی کے لیے پاکستانی شعیہ نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا الزام ہے، دہشتگردی میں بھی ملوث ہے۔

جلد ہی اس تنظیم پر ملک گیر پابندی بھی آ سکتی ہے۔

وزیرِ داخلہ رانا ثناءاللہ نے 29 جولائی کو سینیٹ کو بتایا کہ 2019 سے 2021 تک زینبیون برگیڈ ملک میں دہشتگردانہ کارائیاں کرنے والے 23 فعال عسکریت پسند گروہوں میں سے ایک تھا۔

وزارت نے کہا کہ ”دولتِ اسلامیہ“ (داعش)، القاعدہ، تحریکِ طالبان پاکسان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی بھی ان 23 تنظیموں میں شامل تھیں۔

جنوری میں کراچی میں شورش میں حصہ لینے کے بعد لوٹنے والے شعیہ نوجوانوں کے اہلِ خانہ اپنے بیٹوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جنہیں واپس لوٹنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ [زرق خان/پاکستان فارورڈ]

جنوری میں کراچی میں شورش میں حصہ لینے کے بعد لوٹنے والے شعیہ نوجوانوں کے اہلِ خانہ اپنے بیٹوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جنہیں واپس لوٹنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ [زرق خان/پاکستان فارورڈ]

میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہ ہونے کے باعث اپنی شناخت پوشیدہ رکھی جانے کی درخواست کرنے والے وزارت کے ایک عہدیدار نے کہا، ”وزارتِ داخلہ نے نفاذِ قانون کی متعدد ایجنسیوں سے زینبیون برگیڈ معلومات حاصل کی ہیں اور اس امر پر یقین کرنے کے لیے شواہد کافی ہیں کہ یہ گروہ دہشتگردی میں ملوث ہے ۔“

وزارت کی جانب سے نامزدگی کا ممکنہ طور پر یہ مطلب ہے کہ حکومتِ پاکستان ملک کے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت زینبیون کو کالعدم قرار دینے جا رہی ہے۔

سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامیٔ ایران (آئی آر جی سی) نے شام میں تہران کے اتحادی بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں لڑنے کے لیے زینبیون برگیڈ تشکیل دی تھی۔ اس نے بنیادی طور پر افغان شعیہ پر مشتمل فاطمیون ڈویژن بھی ایسے ہی مقاصد کے لیے تشکیل دی تھی۔

جنوری 2019 میں امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے ”حکومتِ [ایران] کی جانب سے دنیا بھر میں دہشتگردی اور بدامنی برآمد کیے جانے کے لیے استعمال ہونے والے غیرقانونی نیٹ ورک کو بند کرنے“ کی کاوشوں کے جزُ کے طور پر زینبیون اور فاطمیون کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا ۔

اگرچہ تاحال پاکستان میں زینبیون پر پانبدی عائد ہونا باقی ہے، تاہم حکومت نے دو کم معروف شعیہ گروہوں، انصار الحسین اور اس کی ذیلی شاخ خاتم الانبیا کو 2016 اور 2020 میں شام کی جنگ کے لیے بھریتوں سے ان کے تعلق کی وجہ سے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت کالعدم قرار دے دیا تھا۔

پاکستان کے لئے خطرہ

پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں طویل عرصہ سے شعیہ زائرین کے ایرانی رسوخ کا شکار بننے اور تہران کی پشت پناہی کے حامل، عراق اور شام میں لڑنے والے زرخرید جنگجو گروہوں میں بھرتی ہونے پر خدشات کا اظہار کر رہی ہیں۔

آئی آر جی سی نوجوانوں کو شعیہ مزارات کے تحفظ کے لیے بھاری بھرکم تنخواہوں اور ایرانی شہریت کا وعدہ کرتی ہے، لیکن یہ ان وعدوں کو ہمیشہ وفا نہیں کرتے۔

اپنی شناخت پوشیدہ رکھی جانے کی شرط پر کراچی سے تعلق رکھنے والے نفاذِ قانون کے ایک عہدیدار نے کہا، ”ان کے زیادہ تر بھرتی شدگان اپنی عمر کی 20 ویں اور 30 ویں دہائی میں تھے، جنہیں مذہنی جذبہ اور جوانی سے بھرپور عسکری مہم جوئی کے احساس سے محرک کیا گیا۔“

انہوں نے مزید کہا کہ زینبیون نے آن لائن اور آف لائن ایک بڑی تعداد میں اشاعتیں شائع کی ہیں۔

شام کی خانہ جنگی کے خاتمہ کے ساتھ متعدد بھرتی شدگان پاکستان لوٹ آئے ہیں، اور چند کو اس تنظیم سے منسلک مبینہ جرائم پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

گزشتہ برس شعبۂ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) اور نفاذِ قانون کی دیگر دہشتگردی اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٔ مالیات میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا۔

دسمبر 2020 اور جنوری 2021 میں کراچی پولیس کی جانب سے زینبیون کے متعدد ارکان کی گرفتاری کے بعد پاکستانی حکام نے بھی غیر قانونی ترسیلِ زر کے نیٹ ورک کی چھان بین شروع کی ۔

سندھ کے سی ٹی ڈی کی ریڈ بک کے تازہ ترین شمارہ میں مطلوب دہشتگرد اور عسکریت پسند ملزمان کی ایک فہرست میں زینبیون برگیڈ کے چار عسکریت پسندوں کے نام شامل ہیں۔

ایران کی مداخلت

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتِ شام کی حمایت میں لڑنے کے لیے پاکستانی شعیہ نوجوانوں کی بھرتیاں پاکستان کی داخلی سلامتی میں تہران کے بڑھتے ہوئے رسوخ کی ایک علامت ہے۔

فروری کے اوائل میں بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہوں کے حملوں کے بعدپاکستانی حکام نے تہران پر عسکریت پسند گروہوں کو ایران میں محفوظ پناہ گاہوں سے کاروائیاں کرنے کی اجازت دینے کا الزام لگایا۔

اس وقت کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے مارچ میں قومی اسمبلی سے سوالات کے ردِّ عمل میں داخل کیے گئے تحریری جواب میں تصدیق کی کہ کالعدم علیحدگی پسند گروہ ایرانی صوبہ سیستان اور بلوچستان کے ذریعے از سرِ نو گروہ بندی کر رہے ہیں۔

ایک سیکیورٹی تجزیہ کار اور حکومتِ بلوچستان کے ایک سابق مشیر جان اچکزئی نے کہا، ”ایران نے اپنے سیاسی، معاشی اور ضمنی ٱلات کے ذریعے اپنی سافٹ پاور حکمتِ عملی کو پاکستان تک وسعت دے دی ہے، بطورِ خاص بلوچستان میں۔“

انہوں نے 7 فروری کو گوبل ویلیج سپیس ویب سائیٹ پر لکھا، ”تہران نے کثیر سطحوں پر اپنے [رسوخ] کا استعمال شروع کر دیا ہے۔۔۔ اور یہ رسوخ قطعی طور پر پاکستان کے لیے ایک وبال بن رہا ہے۔“

اچکزئی کے مطابق، بلوچ علیحدیگی پسند گروہوں، زینبیون برگیڈ، فاطمیون ڈویژن اور مرحوم ایرانی میجر جنرل قصیم سلیمانی کی تشکیل شدہ دیگر ملشیا حال ہی میں فعال ہوئی ہیں اور ممکنہ طور پر پاکستان میں امنِ عامہ کی ایک صورتِ حال پیدا کر دیں گی۔

آئی آر جی سی کی قدس فورس کے سابق کماندار سلیمانی نے وسعت کی نیت سے عراق، شام، لبنان، یمن اور افغانستان سمیتخطے بھر میں متعدد ضمنی جنگوں کی منصوبہ سازی کی۔

وہ 3 جنوری 2020 کو بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500