حقوقِ انسانی

ایرانی سنی برادری نے اسلامی جمہوریہ کے "مسلم اتحاد" کے دعوؤں کے پرخچے اڑا دیے

بہروز لاریگانی

image

گچساران، ایران میں ایرانی سُنی مسلمانوں کا ایک گروہ 2017 میں نماز پڑھ رہا ہے۔ [تسنیم]

ایرانی سنی برادری کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسلامی جمہوریہ، ایران میں "مسلم اتحاد" پر فخر کا اظہار کرتی ہے مگر تمام مسلمان فرقوں کے ساتھ مساوی سلوک نہیں ہوتا ہے۔

ایران کی دیگر مذہبی اقلیتوں کی طرح -- یہاں تک کہ وہ بھی جن کے عقائد کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے، ملک کے باضابطہ مذاہب مانا گیا ہے -- سُنی مسلمانوں کو زندگی کے بہت سے پہلوؤں میں تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایران میں "مسلم اتحاد" کے مظاہرے کے حصہ کے طور پر، اسلامی جمہوریہ حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کی سالگرہ منانے کے لیے ایک ہفتے تک جشن منانے کا اہتمام کرتی ہے، مگر اس کے باجود ملک میں شعیہ اور سنُی سے جیسا سلوک ہوتا ہے، اس میں بہت کم مماثلت ہے۔

ایران کے راہنمائے اعلی علی علی خامنہ ای بھی اپنے آپ کو "مسلمانوں کا راہنما" کہتے ہیں جو کہ ایک ایسا اعزازی خطاب ہے جس کا مقصد انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرنا ہے جو مسلم دنیا میں اتحاد کی تشہیر کرتا ہے۔

image

ایران کے راہنمائے اعلی علی خامنہ ای کے حامی، انہیں "مسلمانوں کا راہنما" قرار دیتے ہیں جو کہ ایک اعزازی خطاب ہے اور جس کا مطلب انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرنا ہے جو مسلم دنیا میں اتحاد کی تشہیر کرتا ہے۔ مگر بہت سے لوگ اس خطاب کو گمراہ کن اور منافقانہ سمجھتے ہیں۔ [راہنمائے اعلی کا دفتر]

image

ایرانی شہری، یکم نومبر کو تہران کے تاجریش چوک میں، امام زادہ صالح مسجد کا دورہ کر رہے ہیں۔ [عطا کنارے/ اے ایف پی]

مگر بہت سے لوگ اس اعزاز کو گمراہ کن اور منافقانہ سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے دورِ اقتدار پر نظر ڈالنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایران میں ایک تفرقاتی شخصیت رہے اور انہوں نے سپاہِ پاسدرانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کو اکثر، اپنے نقادوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا۔

برادری کے ارکان کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی طرف سے شیعہ- سُنی اتحاد کے دعوؤں کے باوجود، ایران کی سُنی برادری کو، ایک نظام کے تحت دبایا جاتا ہے اور کچھ مواقع پر سُنی راہنماوں نے اس سلوک پر آواز بھی اٹھائی ہے جس کا انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خارج کردہ، پسماندہ

زاہدان کے سنی امام مولوی عبدل حامد نے پانچ جنوری کو، خامنہ ای کو لکھے جانے والے خط میں، "سُنیوں کے دوسرے اور تیسرے درجے کے شہری" ہونے پر شکایت کی۔

ایرانی حکومت نے مذہبی اقلیتوں کے بارے میں باضابطہ اعداد و شمار جاری کرنے سے انکار کیا ہے مگر یہ بڑے پیمانے پر تسلیم کی جانے والی حقیقت ہے کہ سنی بہت سے صوبوں میں اکثریت میں ہیں۔

کردستان، مغربی آزربائیجان، گولستان، ہورموزگان، سیستان اور بلوچستان میں سُنی اکثریت ہے اور سُنی کرمانشاہ، شمالی اور جنوبی خراسان، گیلان، اردبیل، بوشہر اور فارس میں آبادی کا قابلِ قدر حصہ ہیں۔

پارلیمنٹ میں 21 ارکان ہونے کے ساتھ، سُنی ادارے کے کل 290 ارکان کا صرف 7 فیصد حصہ ہیں جبکہ سُنی ایرانی آبادی کا 15 سے 20 فیصد حصہ ہیں۔

اسلامی جمہوریہ کے قانون کی شق 12 (جسے 1979 کے انقلاب کے بعد لکھا گیا تھا) میں ایران کے سرکاری مذہب کو اثنا عشریہ جعفری اسلام (شیعیت) قرار دیا گیا تھا اور مزید کہا گیا کہ "یہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہو گا"۔

آئین کے مطابق، دیگر اسلامی فرقے -- جن میں سُنیوں کے چار فرقے حنفی، حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی شامل ہیں -- کا مکمل احترام کیا جائے گا اور ان عقیدوں کے پیروکار اپنے فقہ کے مطابق، اپنی مذہبی تقریبات منانے کے لیے آزاد ہیں۔

آئین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے علاقے جہاں ان عقائد کے ماننے والے اکثریت میں ہیں، مقامی قوانین کے ان کے مطابق ہی نافذ کیا جائے گا تاکہ مقامی آبادی کے عبادت کے حقوق کو محفوظ رکھا جا سکے۔

اسلامی جمہوریہ کے آئین کی شق 109 اور 115 میں کہا گیا ہے کہ ایرانی راہنما اور اس کا صدر لازمی طور پر شیعہ ہو۔ مگر سُنیوں کو صرف راہنما یا صدر بننے سے ہی نہیں روکا گیا، انہیں نہایت موثر طریقے سے درمیانی اور نچلی انتظامیہ سے بھی روک دیا گیا ہے۔

کردستان کے ایک سُنی عالم احمد حنفی نے کہا کہ ایسے شیعہ جو کہ فقہ ولایت (فقیہ کی سرپرستی، اس وقت خامنہ ای) کی پیروی کرتے ہیں، کی اقتدار پر اجارہ داری، جمہوری اقدار، اسلامی اصولوں اور ایرانی آئین کے حصوں کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "گزشتہ 42 سالوں میں کوئی بھی سُنی وزیر نہیں ہوا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "نگران کونسل یا مصالحت کونسل کا کوئی ایک بھی رکن سُنی نہیں رہا ہے۔ صدارتی انتظامیہ کے لیے کبھی بھی کوئی ایک بھی سُنی نمائندہ منتخب نہیں کیا گیا"۔

حنفی نے کہا کہ سُنی اکثریت والے صوبوں، جیسے کہ سیستان اور بلوچستان اور کردستان میں بھی، کسی واحد سُنی اہلکار کو بھی کسی سینئر عہدے پر تعینات نہیں کیا گیا ہے۔

گنی چنی، خستہ حال سُنی مساجد

گزشتہ دیہائی کے دوران، مختلف شہروں میں سُنی مساجد کو مسمار کر دیا گیا یا وہ اتنی خستہ حال ہیں کہ ان کی مرمت ممکن نہیں رہی۔

مشہد کی شیخ فیض مسجد کو 1993 میں مسمار کر دیا گیا تھا۔ اس سے اگلے سال، حملہ آوروں کے ایک گروہ نے زاہدان کی مکی مسجد پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا تھا۔

سُنی مساجد کی مرمت کے لیے حکومت سے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ بہت سے حالات میں کبھی بھی جاری نہیں کی جاتی اور کچھ حالات میں اس کی راہ میں تاخیر اور رکاوٹیں کھڑی ہوتی ہیں۔

سُنی مذہبی عالم، عبدل ماجد، جنہوں نے درخواست کی ہے کہ ان کا صرف پہلا نام ہی استعمال کیا جائے، نے کہا کہ سُنی عبادات اکثر نجی رہائش گاہوں یا کرایے کی جگہوں پر ہی ادا کی جاتی ہیں اور کچھ نمازوں کی جماعت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں یا انہیں بند کر دیا گیا ہے۔

سُنی مساجد یا کرایے پر نماز پڑھنے کے لیے لیے گئے ہالوں کی تعداد، ہر 5,000 شہریوں کے لیے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریں اثناء ملک بھر میں 85,000 شیعہ مساجد فعال ہیں جنہیں دیکھ بھال کے لیے سرکاری فنڈز تک رسائی حاصل ہے۔

عبدل ماجد نے کہا کہ تہران میں اس وقت نو فعال سنُی مساجد ہیں اور کرایے پر نماز کے لیے حاصل کیے جانے والے ہالوں کی تعداد نامعلوم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہ تہران کے علاقے میں ایک ملین سے زیادہ سُنی رہتے ہیں، برادری کئی سالوں سے ایک اور مسجد تعمیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے مگر اسے حکومت کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

عبدل ماجد نے کہا کہ غیر اہم گردانے جانے کے ساتھ ساتھ، بہت سے ایسے مشہور سُنی عالم ہیں جنہیں غیر مقلد تصور کیا جاتا ہے اور انہیں سُنی مدارس میں حکومت کی مداخلت کی مخالفت کرنے پر جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سعید ارمیش، عبد الرشید ریگی، حبیب اللہ جمشیدی، امین مبارکی، عبد الغفار دہانی، محمد دہوری، علی اصغر زیہی اور عیسیٰ عذری شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ سُنی آبادی کو دبا رہی ہے اور اس کی عبادات میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے کیونکہ وہ سُنی اقلیت اور حکومت اور اس کے کاموں کے بارے میں ان کی رائے سے خوف زدہ ہے۔

کیا ایرانی رسوخ پاکستان کے لیے اچھا ہے؟
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500