حقوقِ انسانی

ورلڈ فوڈ پروگرام نے تاجسکتان سے افغانستان خوراک کی ترسیل کا آغاز کر دیا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

بنا تاریخ کے ایک تصویر میں کارکنان ڈبلیو ایف پی کے ایک ٹرک میں گندم کے آٹے، مٹروں، تیل اور نمک پر مشتمل خوراک لاد رہے ہیں۔ [ڈبلیو ایف پی/مارکو ڈی لاؤرو]

اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے رواں موسمِ سرما میں بھوک کا سامنا کرنے والے افغان خاندانوں کے لیے ایجنسی کے ایمرجنسی رسپانس پروگرام کی معاونت میں تاجکستان سے افغانستان کو خوراک کی ترسیلات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈبلیو ایف پی تاجکستان کی شائع شدہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، جمعہ (26 نومبر) کو سات ٹرکوں پر مشتمل پہلا قافلہ دوشنبے میں گودام سے صوبہ بدخشاں، افغانستان روانہ ہوا۔

یہ ٹرک آئندہ دنوں میں خطے سے 2,500 ٹن گندم کے آٹے کی پیداوار ڈبلیو ایف پی افغانستان کے زندگی بچانے کے آپریشنز میں استعمال کے لیے ارسال کریں گے۔

ڈبلیو ایف پی نمائندہ اور تاجکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ادہم مسلّم نے کہا، "وقت کے ساتھ لڑتے ہوئے، افغانستان میں ڈبلیو ایف پی کے ساتھیوں کو وہ تمام معاونت درکار ہے جو ہم بطورِ خاص بدخشاں جیسے دورافتادہ اضلاع میں برف کی وجہ سے راستے بند ہونے سے قبل خوراک کو پہلے سے مقررہ مقام پر لانے کے لیے فراہم کر سکتے ہیں۔"

image

بنا تصویر کے ایک تصویر میں تقسیم کے ایک مقام کے قریب ایک افغان خاندان ڈبلیو ایف پی خوراک راشن موصول کرنے کے بعد گھر کی جانب جا رہا ہے۔ [ڈبلیو ایف پی/مارکو ڈی لاؤرو]

image

29 نومبر کو ایک خاتون کابل میں ورلڈ فوڈ پروگرام کی نقدی کی تقسیم کے دوران پیسے لے رہی ہے۔ [ہیکٹر ریٹامل/اے ایف پی]

انہوں نے امداد کی روانگی کی ایک تقریب کے دوران ان آراء کا اظہار کیا جس میں تاجک عہدیداران نے شرکت کی۔

مسلّم نے کہا، "ہم اس نازک موقع پر افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہونے پر حکومتِ تاجکستان کے مشکور ہیں۔ یہ راہداری سرحدی پھاٹک سے افغانستان کو خوراک لانے میں مدد کے لیے ہمارے لیے نہایت بروقت ہے۔"

مسلّم نے انسان دوست برادری کے لیے دوشنبے سے کابل اور دیگر منازل تک باقاعدہ پروازوں کو ممکن بنانے والی ڈبلیو ایف پی کے زیرِ انتظام اقوامِ متحدہ کی ہیومینیٹیرئین ایئر سروس (یو این ایچ اے ایس) کی معاونت پر تاجک حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

افغانستان تیزی سے دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بن رہا ہے۔

رواں برس کے آغاز سے ڈبلیو ایف پی زندگی بچانے کی معاونت کو بڑھا رہی ہے، جو خوراک اور غذا کی معاونت میں 14.8 ملین افراد تک پہنچ گئی ہے۔

اشد ضرورت

تاہم ضروریات شدید ہیں۔

سیکریٹری جنرل کے نمائندہٴ خصوصی اور افغانستان میں اقوامِ متحدہ امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کے سربراہ ڈیبوراہ لائیونز نے 17 نومبر کو کہا، "اس وقت افغانستان کے عوام کو تنہا چھوڑنا ایک تاریخی غلطی ہو گی – ایک ایسی غلطی جو اس سے قبل بھی المناک کے ساتھ کی گئی۔"

انہوں نے کہا کہ سردیوں کے آنے کے ساتھ 23 ملین تک افغان بحران میں یا خوراک کی عدم سلامتی کی ہنگامی سطح پر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پہلے قحط سالی کا خشہ دیہی علاقوں تک محدود تھا، تاہم اب توقع ہے کہ افغانستان کے 11 میں سے 10 سب سے زیادہ گنجان آباد شہری علاقے خوراک کی عدم سلامتی کی ہنگامی سطح تک پہنچ جائیں گے۔

23 نومبر کو اقوامِ متحدہ نے کہا کہ رواں سال کے اختتام تک افغانستان میں خدمتِ انسانی کے ردِّ عمل کی معاونت کے لیے 500 ملین ڈالر سے زائد کی فوری اپیل کو تمام تر مالیات مل چکے ہیں۔

مرکزی عطیہ دہندگان میں امریکہ، یورپی ممالک اور جاپان تھے، جنہوں نے کل مالیات کے ہدف کو 606 ملین ڈالر تک پہنچانے میں مدد کی۔

ان مالیات کی سمت افغانستان میں 11 ملین محروم ترین افراد کی مدد کرنا ہے۔

کابل میں نقدی کی تقسیم

درایں اثناء، پیر کو ڈبلیو ایف پی نے افغان صدرمقام میں ملک میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران سے متاثرہ تقریباً 3,000 خاندانوں میں نقدی تقسیم کی۔

20 سالہ بسانہ، جو اپنے 10 افراد کے خاندان کے ساتھ رہتی ہے، نے کہا، "میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میں ایک روز یہاں قطار میں امداد کی منتظر بیٹھی ہوں گی۔"

اس نے کہا، "پہلے ہم بھوکوں مرنے سے بچنے کے لیے خوراک خریدیں گے۔"

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے ہر خاندان میں 7,000 افغانی (74 ڈالر) تقسیم کیے۔

عظیم اللہ فضلیار، جو پیسہ تقسیم کرنے میں مدد کر رہا تھا، نے کہا کہ کابل میں 50,000 سے 60,000 خاندانوں کو معاونت کی ضرورت تھی اور اس منصوبے میں 3,000 بدترین متاثرہ کی شناخت کی گئی۔

انہوں نے کہا، "وہ سردیوں میں لکڑی یا دیگر ضرورت کی اشیاء خریدنے کے لیے یہ پیسہ استعمال کر سکتے ہیں۔"

امداد حاصل کرنے والوں میں سے متعدد ایسے خاندانوں سے تھے جن کے واحد کفیل گزشتہ حکومت کے سقوط کے ساتھ ہی اپنی ملازمتیں کھو بیٹھے۔

افغانستان میں افراطِ زر اور بے روزگاری میں اچانک اضافہ ہوا ہے، اور گزشتہ حکومت کے بجٹ کے 75 فیصد پر مشتمل بین الاقوامی امداد مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔

طالبِ علم اور انگریزی کے استاد ثناءاللہ حامدی بھی مدد کے لیے قطار میں لگے لوگوں میں سے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے والد، جو ایک سرکاری ملازم تھے، دونوں اپنی ملازمتیں کھو چکے ہیں، یعنی وہ اب اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے۔

حامدی نے کہا، "میں چاہتا ہوں کہ میں (اپنی فیس کی) ادائیگی کر کے واپس یونیورسٹی لوٹ سکوں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500