حقوقِ انسانی

'کوروناوائرس کی سونامی' میں ایران کی بلوچ اقلیت نظرانداز

از پاکستان فارورڈ

image

جون کے مہینے میں ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں ایک ہسپتال کے وارڈ میں طبی عملہ کووڈ-19 کے ایک مریض کا علاج کرتے ہوئے۔ [ارنا]

کوروناوائرس کی عالمی وباء نے جنوب مشرقی ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں سنگین شکل اختیار کر لی ہے، ملک کا ایک خوبصورت لیکن مفلوک الحال حصہ جس کی سرحد پاکستان کے ساتھ ملتی ہے اور جس کی آبادی بدامنی اور تشدد کا شکار رہی ہے.

اپنی قدرتی وسائل کی دولت کے باوجود، ایران کا دوسرا سب سے بڑا صوبہ ملک کا غریب ترین صوبہ ہے، اور کووڈ-19 کی ڈیلٹا قسم یہاں بے قابو ہو چکی ہے۔

اس ہفتے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ طبی نگہداشت کی شدید قلت ہو چکی ہے اور ہسپتالوں میں موجود گنجائش پوری ہو گئی ہے، اور مقامی حکام صورتحال کو "کوروناوائرس کا سونامی" کہہ کر بیان کر رہے ہیں۔

صوبہ بھر میں ہسپتالوں کے ڈائریکٹر صاحبان نے متنبہ کیا ہے کہ گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے انتہائی نگہداشت یونٹوں کے علاوہ، ان کے تمام وارڈ -- حتیٰ کہ راہداریاں بھی -- مریضوں سے اٹے پڑے ہیں، جن میں سے بیشتر کووڈ-19 کے مریض ہیں۔

image

اس تصویر، جو کہ سیستان و بلوچستان کے شہر ایرانشہر میں کھینچی گئی تھی، اور 5 جولائی کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تھی، میں کووڈ-19 کی علامات نہ رکھنے والے مریضوں کو دکھایا گیا ہے جنہیں شدید گرمی میں آئی ویز کے ساتھ علاج کرنے کے لیے قریبی ہسپتال سے باہر لے جایا گیا تھا۔

image

ایران میں ایک ہسپتال کا مردہ خانہ 11 جولائی کو دکھایا گیا ہے۔ سیستان و بلوچستان کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے مردہ خانے مکمل طور پر بھرے ہوئے ہیں۔ [Hamshahrionline.ir]

image

خوزستان میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک تصویر۔ [فائل]

عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے 50 درجے سیلسیئس کے قریب درجہ حرارت میں صوبے کے ہسپتال میں داخل مریضوں کو عمارت سے باہر لے جائے جاتے ہوئے دیکھا ہے۔

اردلیوں یا نرسوں کو مریضوں کی آئی ویز کو ہسپتال کے قریب لگے پام کے درختوں کے ساتھ لٹکاتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جہاں وہ بیٹھ جاتے ہیں جبکہ شدید گرمی میں ان کا علاج ہو رہا ہوتا ہے۔

دریں اثناء، سیستان و بلوچستان کے ہسپتالوں کے مردہ خانے مکمل طور پر بھر چکے ہیں۔

جولائی کے وسط میں، صوبے کے پراسیکیوٹر جنرل نے کہا تھا کہ سیستان و بلوچستان میں روزانہ اوسطاً 30 افراد کووڈ-19 سے مرتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پھر بھی پارلیمنٹ (مجلس) میں صوبے کے نمائندوں کی جانب سے ایران کے وزیرِ صحت کے پاس لگائی گئی شکایات پر غفلت برتی جا رہی ہے۔

کووڈ-19 کے کیسز میں اضافہ

کئی خبررساں اداروں اور سیستان و بلوچستان کے اراکینِ مجلس کے مطابق، صوبے کی دو تہائی سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

شدید خشک سالی، ہوائی آلودگی کی خطرناک سطحات، پینے کے قابل پانی کی قلت اور حال ہی میں طویل لوڈ شیڈنگ نے بیروزگاری اور وسائل کی قلت کی شکار آبادی کی محرومیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

مبصرین کا کہنا تھا کہ اس کی بڑی وجہ سرکاری عدم توجہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نصف سے زائد آبادی اقلیتوں کی ہے۔

سیستان و بلوچستان کے مکینوں کی 65 فیصد کے قریب آبادی بلوچ نسلی اقلیت سے تعلق رکھتی ہے، جو کہ پاکستان اور افغانستان کے ہمسایہ خطوں میں بھی بستی ہے۔ بلوچ آبادی کی اکثریت سُنی مسلک سے ہے۔

وسط جون میں، وزارتِ صحت کے حکام نے سیستان و بلوچستان میں کوروناوائرس کے مثبت کیسز کی تعداد میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد، ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں مثبت کیسز کی تعداد چار گنا ہو گئی ہے۔

10 جولائی کو، مقامی حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں 574 نئے کیسز کی اطلاع دی گئی ہے، بڑے فخر سے ان کا کہنا تھا کہ یہ تعداد "گزشتہ روز سے بہت کم" ہے، جب 1،176 نئے کیسز کی اطلاع دی گئی تھی۔

دو روز بعد، وزارتِ صحت کی ترجمان سیما سادات لازی نے کہا تھا کہ سیستان و بلوچستان ان "چند صوبوں میں سے" ایک ہے جو کووڈ-19 اور اس کی اقسام سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، جو کہ سبھی اقسام آبادی میں پائی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں داخلوں کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، انہوں نے یاد دلایا کہ ان میں سے کوئی 17 فیصد طویل مدتی قیام والے ہیں۔

غفلت اور بدامنی

ایران میں کووڈ-19 قم کے ذریعے داخل ہوا تھا، جہاں ملک کا سب سے بڑا اور اہم ترین شیعہ قبرستان واقع ہے۔ قم میں ایک بہت بڑی تعداد مدارس کے چینی طلباء و طالبات اور محنت کشوں کی ہے جو گزشتہ چند برسوں میں ایران میں آن بسے ہیں۔

شروع میں ایران میں وائرس چین سے پھیلا تھا، جبکہ ایرانی حکومت نے بڑی شدومد کے ساتھ وباء کی تردید کی تھی اور ایران اور چین کے درمیان ہوائی سفر عارضی طور پر روکنے سے انکار کر دیا تھا.

پھر بھی آج، قم کی حالت دیگر صوبوں سے زیادہ بُری نہیں ہے؛ حتیٰ کہ یہ کوروناوائرس کے پھیلاؤ اور انفیکشن کے لحاظ سے چوٹی کے پانچ صوبوں میں بھی شامل نہیں ہے۔

سرکاری حکام، جو مسلسل سُنی مسلمانوں کو مساوی کہتے ہیں، نے دراصل طویل عرصے سے سُنی اکثریتی صوبوں کو نظرانداز کیا ہے۔

سیستان و بلوچستان میں اس سال بدامنی کی نئی لہر دیکھنے میں آئی ہے جب فوج اور سپاہِ اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ارکان نے ایران-پاکستان کی سرحد پر ساراوان شہر کے قریب تیل لے جانے والے بہت سے افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا.

پاکستانی سیاستدانوں، حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں، اور مکینوں نے اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی مذمت کرنے کے لیے واقعہ کے بعد گلیوں میں احتجاج کیا تھا.

فروری میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے ادارے نے کہا تھا کہ سیستان و بلوچستان میں روزگار کے مواقع کی کمی نے اس کی نسلی بلوچ آبادی کے پاس سرحد پار اپنے ساتھی بلوچوں کے ساتھ بلیک مارکیٹ میں تجارت کرنے کے علاوہ بہت کم متبادل چھوڑے ہیں۔

ایران کے جنوبی صوبوں، بشمول خوزستان، میں جہاں بیشتر مقامی عربی النسل ہیں، وہاں بھی بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

شدید خشک سالی کے درمیان پانی حاصل کرنے کے لیے صوبے کی مدد کرنے کے سرکاری وعدے ٹوٹنے کی وجہ سے جمعرات (15 جولائی) کی رات سے جمعہ کے دن صبح تک، وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے تھے۔

بہت سے مظاہرین نے ٹائر جلائے اور صوبے کی سڑکوں کو بند کر دیا، اور دنگے ختم کروانے والے محکمے اور پولیس نے ایک دن کے وقفے سے عام شہریوں پر کریک ڈاؤن کیا۔

مظاہرے صوبے میں آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی میں کم اجرت اور پچھلی تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے صوبے بھر میں کئی مہینوں سے جاری مظاہروں کے بعد ہوئے تھے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500