سلامتی

احتجاجی مظاہرین کی جانب سے پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی فوج کی جانب سے قتلِ عام کی مذمت

از زرق خان

image

3 مارچ کو کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کے شرکاء نے ایرانی فوج کی جانب سے پاک ایران سرحد پر عام شہریوں پر گولیاں برسانے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ [زرق خان]

کراچی -- گزشتہ ہفتے پاک ایران سرحد کے قریب ایران کی سپاہِ اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے عام شہریوں پر گولیاں برسا کر قتلِ عام کرنے کی مذمت کرنے کے لیے پاکستانی سیاستدان، حقوق کی تنظیمیں، اور شہری اس ہفتے سڑکوں پر نکل آئے۔

ایرانی فوج اور آئی آر جی سی نے 22 فروری کو پاک ایران سرحد پر ساراوان شہر کے قریب تیل لے جانے والی کئی گاڑیوں پر فائر کھول دیا .

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے کہا کہ آئی آر جی سی نے راستہ کھولنے کی کوشش کرنے والے ایرانیوں پر فائر کھولنے سے پہلے ایندھن کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی سڑک میں رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔

جاری بدامنی ایران کی جنوب مشرقی صوبے سیستان اور بلوچستان میں قتلِ عام کے بعد شروع ہوئی اور بعد ازاں پاکستان میں پھیل گئی، جہاں صوبہ بلوچستان کے کئی شہروں میں ان کی نسل کے افراد نے ہلاکتوں پر احتجاج کیا۔

image

ایرانی فوج کی جانب سے عام شہریوں پر گولیاں برسائے جانے کے بعد 23 فروری کو ساراوان میں احتجاجی مظاہرین نے پولیس کی ایک کار کو نذرِ آتش کر دیا۔ [Rokna.net]

image

3 مارچ کو کراچی میں احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ شیعہ اکثریتی اور فارسی بولنے والے ایران میں حکومت سیستان اور بلوچستان کی بلوچ برادری کا فرقے اور نسلی کی بنیادوں پر استحصال کرتی رہی ہے۔ [زرق خان]

جمعہ (5 مارچ) کے روز اقوامِ متحدہ نے کہا کہ واقعہ میں 23 کی تعداد تک لوگ جاں بحق ہوئے اور اس کے نتیجے میں بدامنی پیدا ہوئی۔

کئی بلوچ قبائل اور ہزاروں خاندان پاک ایران سرحد کی وجہ سے تقسیم ہیں جو سیستان اور بلوچستان کے ایرانی صوبے کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے علیحدہ کرتی ہے۔

سرحد کے دونوں اطراف کے باسیوں کے درمیان روزانہ اشیاء کا تبادلہ معمول کی بات ہے۔

ایرانی حکام نے واقعہ کے بعد ثبوت فراہم کیے بغیر پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے واقعے کو دھندلانے کی کوشش کی۔

ایران کے نائب وزیرِ داخلہ، حسین ذوالفقاری نے کہا کہ یہ واضح نہیں تھا آیا کہ ایندھن لے جانے والوں پر گولیاں پاکستان کے اندر سے چلائی گئیں یا ایران سے، جبکہ سیستان اور بلوچستان کے حکام نے ایندھن لے جانے والوں پر پہلے گولیاں برسانے کا الزام پاکستانی فوج پر عائد کیا تھا۔

پاکستان میں غصہ، اقوامِ متحدہ کو تشویش

بدھ کے روز حقوق کے لیے کام کرنے والوں اور کراچی کے مکینوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے آئی آر جی سی کی جانب سے لاپرواہی کے ساتھ عام شہریوں کو قتل کرنے پر اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی ریلی میں شرکت کی۔

بلوچ نسلی برادری کے سول سوسائٹی کے ایک اتحاد، بلوچ متحدہ محاذ (بی ایم ایم)، نے احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا تھا جس میں مظاہرین نے ایرانی حکومت کی مذمت کرنے والے نعروں پر مشتمل بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

بی ایم ایم کے سیکریٹری، اکبر ولی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سمگلنگ کے خلاف کارروائی کے تناظر میں، ایرانی حکومت، خصوصاً آئی آر جی سی، پاک ایران سرحد پر بے گناہ محنت کشوں کو ہلاک کرتے رہے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ تہران میں شیعہ حکومت سیستان اور بلوچستان کی بلوچ نسلی برادری کو فرقے اور نسل کی بنیاد پر منظم طریقے سے استحصال کا نشانہ بناتی ہے۔ بلوچوں میں غالب اکثریت سُنی ہے۔

ایران کی دیگر مذہبی اقلیتوں کی طرح -- حتیٰ کہ وہ بھی جن کے عقائد اور فرقے سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ملک کے سرکاری مذاہب کے طور پر تسلیم شدہ ہیں -- سُنیوں کو باقاعدگی کے ساتھ زندگی کے بہت سے پہلوؤں میں امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے .

بلوچستان کے ایک رکنِ اسمبلی، ثناء اللہ بلوچ نے کہا کہ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بتائی گئی تعداد سے کہیں زیادہ تھی۔

27 فروری کو بلوچستان اسمبلی میں بلوچ کا کہنا تھا، "ہمیں بتایا گیا ہے کہ کئی جاں بحق اور زخمی افراد کو پاکستان میں پنجگور اور بلوچستان کے دیگر اضلاع میں لایا گیا ہے۔"

انہوں نے تحقیقات کے لیے ایرانی اور پاکستانی خارجہ وزارتوں اور بلوچ نمائندوں اور عمائدین پر مشتمل سہ فریقی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔

صوبہ بھر کی ایک تاجر تنظیم، انجمنِ تاجران بلوچستان (اے ٹی بی) نے بھی دو سرحد پار کرنے کے مقامات پر ایرانی فوج کی جانب سے قتلِ عام کی مذمت کی۔

دریں اثناء، اقوامِ متحدہ نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ قتلِ عام پر عوامی ردِعمل کو دبانا بند کیا جائے۔

رائٹرز کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ترجمان روپرٹ کولویلے فرائیڈے نے کہا، "ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان علاقوں میں انٹرنیٹ تک رسائی کو فوری طور پر بحال کیا جائے جن کا ابھی تک رابطہ منقطع ہے۔"

ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے، ایرانی حکومت نے باقاعدگی کے ساتھ اپنے شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کو محدود کیا ہے، ویب ٹریفک کو سست کیا ہے، آن لائن فعالیت پسندوں کو جیلوں میں ڈالا ہے اور احتجاجی مظاہروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ویب پر مبنی مقام کے سراغ رساں ذرائع کو استعمال کیا ہے۔

مایوسی میں تیل کی فروخت

ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ صوبے میں ملازمتوں کی قلت نے اس کی آبادی کو سرحد پار اپنے ساتھی بلوچوں کے ساتھ چور بازاری کی تجارت کرنے کے چند متبادلوں پر مجبور کر دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے بھاری رعایتوں کے صدقے ایران میں تیل حد سے زیادہ سستا ہے۔

بہت سے مقامی افراد سیستان اور بلوچستان کی ہولناک معاشی حالت، بلند شرحِ بیروزگاری، اور شدید غربت کی وجہ سے منافعے کے لیے پاکستان میں ایرانی تیل فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ ایک ایسی حقیقت سے جس کی سرکاری حکام تردید نہیں کرتے۔

انجمنِ تاجران بلوچستان کے ایک رہنماء، منظور میر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ سرحد کے دونوں اطراف بلوچ لوگوں کا ذریعۂ معاش ہے۔"

ان کا کہنا تھا "لیکن ایران ناصرف انہیں روزی کمانے سے محروم رکھتا آ رہا ہے بلکہ عام شہریوں پر لاپرواہی کے ساتھ فائرنگ کر کے انہیں ہلاک بھی کرتا رہا ہے۔"

سرحد کے آر پار خاندانی ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالنا

ایران کے ساتھ ملحقہ شہر، پنجگور میں ایک کالج کے پروفیسر، جمشید ہوت نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان سنہ 1956 کے معاہدے کے مطابق، وہ پاکستانی جن کے پاس راہداری، یا "سرخ پروانہ" ہے، انہیں سرحد کی دوسری جانب اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے ایران کا سفر کرنے کی اجازت ہے۔

پروانے کے ساتھ، پاکستانی ایران کے اندر 60 کلومیٹر تک کا سفر کر سکتے ہیں، جبکہ ایرانی پاکستان کے سرحدی شہر تفتان تک تک آ سکتے ہیں۔

ہوت نے کہا، "لیکن مارچ 2014 کے آخر میں، ایرانی سرحدی محافظوں نے سیستان اور بلوچستان صوبے سے درجنوں پاکستانی خاندانوں کو معتبر سفری دستاویزات کے حامل ہونے کے باوجود بھی ملک بدر کر دیا تھا۔"

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سرحدی شہروں پنجگور اور مشکیل کے باسیوں نے کہا کہ ایرانی فوج سرحد کی ایرانی طرف سے بڑی تعداد میں شہروں پر راکٹ فائر کرتی رہی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500