انتخابات

افشاء شدہ دستاویزات سے پیوٹن کے 2016 کے امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کا منصوبہ آشکار

پاکستان فارورڈ

image

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، 22 جنوری 2016 کو کریملین میں قومی سیکورٹی کونسل کی ایک میٹنگ کی سربراہی کر رہے ہیں۔ [دی کریملین]

نئے شواہد میں، کریملین کی غلط معلومات پھیلانے اور جمہوریتوں کو نقصان پہنچانے کی سازش، کی تفصیلات بتائی گئی ہیں، جس میں پانچ سال قبل امریکی انتخابات میں مداخلت کے لیے، کئی ایجنسیوں کی طرف سے کی جانے والی ایک خفیہ کوشش بھی شامل ہے۔

22 جنوری، 2016 کو روس کی قومی سلامتی کونسل کے ایک بند کمرے کے اجلاس کے دوران، صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک خفیہ جاسوس ایجنسی کو 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کرنے کا، ذاتی طور پر اختیار دیا۔ یہ خبر دی گارڈین نے 15 جولائی کو کریملین کی افشاء شدہ دستاویزات کے حوالے سے دی ہے۔

افشاء شدہ دستاویزا کے مطابق، اس ملاقات میں پیوٹن، ان کے انٹیلیجنس سربراہان اور دیگر سینئر وزراء نے متعدد مقاصد پر اتفاق کیا جن میں "امریکی معاشرتی سیاسی نظام کو غیر مستحکم کرنا" اور امریکی صدارت کو کمزور کرنا شامل ہیں۔

دی گارڈین، جس نے آزاد تجزیہ کاروں کو کاغذات دکھائے اور جنھوں نے ان کا اندازہ لگایا کہ وہ اصلی ہیں، کے مطابق، افشاء شدہ دستاویزات "کریملین کے اندر سے سنگین اور انتہائی غیر معمولی اخراج" کی نمائندگی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

image

کریملین کی ایک خفیہ دستاویز کا "خصوصی حصہ" دکھایا گیا ہے جس میں امریکہ میں بدامنی اور تقسیم کو ہوا دینے کے اقدامات مرتب کیے گئے ہیں۔ [دی گارڈین]

image

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن (دائیں) 11 اپریل، 2019 کو ماسکو میں سینئر افسران اور مستغیثوں کے لئے منعقد کی جانے والی ایک تقریب کے دوران، غیر ملکی انٹلیجنس سروس (ایس وی آر) کے ڈائریکٹر سرگئی ناریشکن سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ [الیکسی نیکولسکی/ سپوتنک/ اے ایف پی]

'میڈیا وائرس' داخل کرنا

22 جنوری کو ہونے والی ملاقات کی ایک سرکاری تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ پیوٹن، میز کی سربراہی والی نشست پر برجمان ہیں اور اس وقت کے وزیر اعظم دمتری میدویدیف ان کے دائیں طرف بیٹھے ہیں۔

شرکت کرنے والے دیگر عہدیداروں میں وزیر خارجہ سیرگی لاوروف، وزیر دفاع سرگئی شوگو، روس کی جی آر یو ملٹری انٹیلیجنس ایجنسی کے انچارج، غیر ملکی انٹیلی جنس سروس (ایس وی آر) کے اس وقت کے سربراہ میخائل فرڈکوف؛ فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) کے سربراہ الیگزنڈر بارٹنکوف؛ اور ایف ایس بی کے سابق ڈائریکٹر نکولائی پٹروشیف، جنہوں نے سلامتی کونسل کے سکریٹری کی حیثیت سے شرکت کی، شامل تھے۔

ایک سرکاری خلاصے کے مطابق، حکام نے معیشت اور مالڈووا کے بارے میں بات چیت کی۔

دی گارڈین کے مطابق، لیکن کریملین کے محکمہِ ماہرین کے سینئر انچارج عہدیدار، ولادیمیر سمونینکو کی تصنیف کردہ اس افشاء شدہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملاقات کا اصل مقصد، سیمنینکو کی ٹیم کے طرف سے تیار کردہ خفیہ تجاویز پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

ان تجاویز میں یہ بھی شامل تھا کہ روس امریکی عوام کی زندگی میں "میڈیا وائرس" کیسے داخل کرسکتا ہے جو "عوامی شعور کو، خاص طور پر مخصوص گروہوں میں، کو تبدیل کر دے"۔

ایک دوسری افشاء شدہ دستاویز کے مطابق، اس ملاقات کے بعد پیوٹن نے، حکمنامے کے ذریعہ ایک نیا اور خفیہ بین محکماتی کمیشن تشکیل دیا جسے رپورٹ کے "خصوصی حصے" میں طے شدہ اہداف کو فوری طور پر حاصل کرنے کا کام سونپا گیا۔

اس حکمنامے میں کہا گیا کہ کمیشن جس کی سربراہی شوئیگو کریں گے، کو امریکہ کے خلاف جلد از جلد عملی اقدامات اٹھانے چاہیں۔

اس حکمنامے میں جی آر یو کو "مفعول کے معلوماتی ماحول پر کام کرنے کے لئے اقدامات کی تیاری" کرنے کا انچارج لگا دیا گیا ہے۔ دی گارڈین کے تجزیے کے مطابق، اس حکمنامے میں، ایس وی آر کی طرف سے شناخت کردہ، حساس امریکی سائبر اہداف کی ہیکنگ بھی شامل ہے۔

ایس وی آر کو بتایا کہ وہ کمیشن کی سرگرمیوں کی مدد کے لیے اضافی معلومات اکٹھی کریں جبکہ ایف ایس بی کو جوابی انٹیلیجنس تفویض کی گئی۔

جاسوسی کے سربراہان کو یکم فروری تک ٹھوس منصوبے تیار کرنے کا حکم دیا گیا۔

سیکورٹی کونسل کی میٹنگ کے چند ہفتوں کے بعد ہی، بظاہر ایک ایسے منصوبے کو عملی جامہ پہنا دیا گیا۔

جی آر یو کے ہیکروں نے یو ایس ڈیموکریٹک پارٹی نیشنل کمیٹی کے سرورز کو ہیک کر لیا اور 2016 کے انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے ہزاروں نجی ای میلز کو جاری کر دیا۔

دی گارڈین کے مطابق، افشاء شدہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے، "پیوٹن پوشیدہ طور پر، امریکہ اور روس کے درمیان کسی بھی قسم کے دو طرفہ مذاکرات پر غلبہ حاصل کرنے، وہائٹ ہاؤس کے مذاکراتی مقام کی تشکیل نو کرنے اور روس کے لیے خارجہ پالیسی کے جرات مندانہ اقدامات کو اٹھانے کے قابل ہو جائیں گے"۔

اس رپورٹ میں پابندیوں پر بھی بات چیت کی گئی اور تسلیم کیا گیا کہ، امریکہ کی طرف سے، 2014 میں روس کے کریمیا کے الحاق کے بعد جو پابندیاں لگائی گئیں ان سے اندرونِ ملک تناؤ میں اضافہ ہوا تھا۔

مداخلت کی طویل تاریخ

پیوٹن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے دی گارڈین کی خبر میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا لیکن کریملن کا انکار حیرت انگیز نہیں ہے۔

روسی حکومت کی تاریخ، ہیکروں کو بدامنی پھیلانے، معلومات چوری کرنے، غلط معلومات پھیلانے اور دیگر سائبر جرائم کے ارتکاب کرنے، میں معاونت فراہم کرنے سے بھری ہوئی ہے۔

گذشتہ اکتوبر میں، امریکی حکومت نے جی آر یو کے چھ افسران پر، ان کی غیر حاضری میں، یوکرائن کے پاور گرڈ ، 2017 کے فرانسیسی انتخابات اور 2018 کے سرمائی اولمپکس میں سائبر حملے کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ان چھ روسی ایجنٹوں پر یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے "نو پیٹیا" کے نام سے سنہ 2017 میں میلویئر حملے کی منصوبہ بندی کی، جس نے دنیا بھر میں کاروباری کمپیوٹروں کو متاثر کیا تھا اور جس کی وجہ سے صرف تین امریکی کمپنیوں کو ہی تقریبا 1 بلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

علاوہ ازیں، انہیں مبینہ طور پر روس کے سابقہ دوہرے ایجنٹ سرگئی اسکرپل اور ان کی بیٹی کو، 2018 میں برطانیہ میں اعصابی زہر دینے کے واقعہ کی بین الاقوامی تفتیش میں رکاوٹیں ڈالنے اور اس کے ساتھ ساتھ جارجیا میں ذرائع ابلاغ (2018) اور پارلیمنٹ (2019) پر سائبرحملے کرنے پر، نشانہ بنایا گیا۔

گزشتہ اکتوبر میں، روسی حکومت 2020 کے انتخابات سے پہلے ووٹ دہندگان کی معلومات چراتی ہوئی پکڑی گئی تھی تاکہ "اندراج شدہ ووٹ دہندگان تک غلط معلومات پہنچائی جا سکیں جن سے انہیں امید تھی کہ وہ ابتری پھلائیں گی، افراتفری پیدا کریں گی اور ان سے امریکی جمہوریت پر اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جا سکے گی"۔

امریکی حکومت نے 15 جولائی کو رینسم ویئر، جس کے بارے میں عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اکثر روس سے ہی شروع ہوتا ہے، کے حملوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر، 10 ملین ڈالر انعام کی پیش کش کی تھی۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے حالیہ دو مواقع پر پیوٹن کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا اور دھمکی دی کہ اگر ماسکو سائبر جرائم پر قابو نہیں پاتا، تو براہ راست کارروائی کی جائے گی۔

امریکہ نے 15 اپریل کو کریملین کی طرف سے، امریکی انتخابی مداخلت، بڑے پیمانے پر سائبر حملے کرنے اور دیگر معاندانہ سرگرمیوں کے انتقام میں 10 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے اور اس پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دیگر اقدامات میں، واشنگٹن نے ٹیکنالوجی کی چھہ روسی کمپنیوں پر پابندیاں لگائیں۔ ان پر ماسکو کی سائبر انٹلیجنس سرگرمیوں کی مدد کرنے، خاص طور پر دسمبر میں دریافت کیے جانے والے سولرونڈز ہیک کی حمایت کرنے کا الزام ہے جس نے امریکی حکومت اور نجی شعبے کے ہزاروں کمپیوٹر نیٹ ورکس کو نقصان پہنچایا تھا۔

فروری میں، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی (آئی آر اے)، جو سینٹ پیٹرزبرگ میں قائم "ٹرول فیکٹری" کے طور پر جانی جاتی ہے، جو 2016 اور 2020 میں امریکی انتخابی مداخلت کے پیچھے تھی، کے ییوجینی پرگوزین جو "پیوٹن کے خانساماں" کے نام سے مشہور ہیں، کی گرفتاری کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 250,000 ڈالر انعام کی پیش کش کی تھی۔ "

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500