تجزیہ

کریملن کے رَسُوخ ایجنٹ پرگوزین کو بین الاقوامی مفرور کی حیثیت سے سخت حقیقت کا سامنا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

کریملین کے رَسُوخ ایجنٹ ییوجینی پریگوزین گہری مشکل میں ہیں۔ [فائل]

ماسکو-- جیسے جیسے انتخابات میں مداخلت اور دنیا بھر میں کریملن کی مرضی پر عمل پیرا ہونے والے کرایے کے فوجیوں کو بھرتی کرنے میں ان کے کردار پر دباؤ بڑھ رہا ہے، مشکوک تاجر ییوجینی پریگوزین نے خود کو سنگین قانونی خطرات میں گھرا پایا ہے۔

واشنگٹن نے 2018 اور 2020 میں پریگوزین پر پابندیاں لگائی تھیں اور کہا تھا کہ انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی (آئی آر اے)، جو کہ سینٹ پیٹرزبرگ میں بنیاد رکھنے والی "ٹرول فیکٹری" ہے، 2016 اور 2020 میں امریکی انتخابات میں مداخلت کرنے کے پیچھے تھی۔

آئی آر اے پر دوسرے ممالک جیسے کہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے انتخابات اور ریفرینڈم کے دوران بھی خلل انگیز پروپیگنڈا پھیلانے کا الزام ہے۔

یورپین یونین نے گزشتہ اکتوبر میں، ویگنر گروپ کی مدد کرتے ہوئے لیبیا کو غیر مستحکم کرنے کے الزام میں، پریگوزین کے خلاف پابندیاں لگائی تھیں۔

image

امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کا ییوجینی پریگوزین کا مطلوب پوسٹر۔ ایف بی آئی ان کی گرفتاری کا باعث بننے والی معلومات کے لئے 250,000 ڈالر کا انعام پیش کر رہی ہے۔ [ایف بی آئی]

image

سینٹ پیٹرزبرگ، روس کی ساوشکینا اسٹریٹ پر، انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی، جسے روس کی ٹرول فیکٹری کہا جاتا ہے، کی عمارت کو دیکھا جا سکتا ہے۔[فائل]

image

سوشل میڈیا پر شیئر کردہ ایک تصویر میں کرایے کے روسی فوجیوں کو شام میں سرگرم دکھایا گیا ہے۔ ویگنر گروپ کی کرائے کی فوج کے معروف سرمایہ کار، ییوجینی پرگوزین امریکی ایف بی آئی کو مطلوب ہیں۔ [فائل]

فروری میں، فیڈرل بیورو آف انوسٹیگیشن (ایف بی آئی) نے پریگوزین کی گرفتاری کا باعث بننے والی معلومات پر 250,000 ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ "امریکہ کو دھوکہ دینے کی سازش میں مبینہ طور پر شامل ہونے کے باعث" مطلوب ہیں۔

اب پریگوزین ایک بین الاقوامی مفرور ہیں۔

ویگنر گروپ

پریگوزین جن کی عمر 59 سال ہے، نے سوویت یونین کے آخیر کے وقت میں، دھوکہ دہی اور چوری کے جرم میں نو سال جیل میں گزارے تھے جہاں سے وہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد، کریمیلن کے معاہدوں کے ساتھ کیٹرنگ کے بادشاہ کے طور پر ابھرے اور انہیں "پوٹن کے چیف" کی عرفیت بھی دی گئی۔

وہ اور بہت سے دوسرے "اثر و رسوخ کے ایجنٹ" دنیا بھر میں روس کے صدر، ولادیمیر پوٹن کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرمی سے کام کرتے ہیں۔

پریگوزین کا براہ راست تعلق ویگنر گروپ سے ہے جو کہ ایک نجی عسکری کمپنی (پی ایم سی) ہے اور بظاہر تردید کی آڑ میں، دنیا بھر کے جھگڑوں میں کریملین کا گھناونا کام سرانجام دیتی ہے۔

ویگنر گروپ کی موجودگی کی خبریں، یوکرین کی جنگ کے آغاز میں سامنے آئیں جو کہ 2014 میں بھڑکی تھی اور کریملین پر الزامات لگے کہ وہ ملک کے مشرق میں علیحدگی پسندوں کی بغاوت کی مدد کر رہا ہے۔

بعد میں یہ گروہ شام میں دوبارہ ابھرا، جہاں اس نے صدر بشار الاسد کی صف آرا حکومت کو تقویت دی اور روسی ذرائع ابلاغ نے اس پر قیدیوں پر تشدد کرنے اور تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا۔

اس کے بعد سے، ویگنر گروپ سیاسی طور پر عدم مستحکم افریقی ممالک جیسے کہ وسطی افریقن جمہوریہ (سی اے آر)، جہاں انہوں نے عسکری "استادوں" کے طور پر کام کیا ہے، اور لیبیا جہاں انہوں نے طاقتور خلیفہ ہفتار کی حریف انتظامیہ کو تیار کیا ہے، میں دوبارہ ابھرا ہے۔

گزشتہ سال، بیلاروس نے ویگنر کے 33 "عسکریت پسندوں" کو گرفتار کیا اور ان پر انتخابات سے پہلے حزبِ مخالف کے ساتھ مل کر، ہنگاموں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگایا۔

ان افراد نے، روس کے لیے ایک شرمناک اعتراف میں، دعوی کیا کہ وہ بیلاروس کے دارالحکومت منسک کے ذریعے وینزویلا، لیبیا، کیوبا، ترکی اور شام جا رہے تھے، جو ان کی خفیہ طور پر رہائی کا باعث بنا۔

روسی فوج کی سرکاری مہمات، جسے کہ شام میں، کو مدد فراہم کرنے کے علاوہ، ویگنر گروپ نے مبینہ طور پر دوسری جگہوں پر نجی سیکورٹی کمپنی کا روایتی کردار ادا کیا ہے اور بنیادی ڈھانچے اور سیاست دانوں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔

'ماسکو کا بدترین راز'

15 مارچ کو، فرانس، شام اور روس سے تعلق رکھنے والے وکالتی گروہوں نے ماسکو میں ویگنر گروپ کے خلاف ایک تاریخی قانونی شکایت درج کروائی جس میں پر 2017 میں شام کے ایک شخص کا سر قلم کرنے اور ایسے استحصال کا الزام لگایا جو ان کے خیال میں "جنگی جرائم" کر زمرے میں آتا ہے۔

ویگنر گروپ کے خلاف قانونی دباؤ، یورپ میں شامی حکومت سے تعلق رکھنے والے حکام کے خلاف، تشدد سے متعلقہ واقعات کی ایک لہر کے بعد سامنے آیا ہے، جن کے خانہ جنگی کی سزا دینے والی جنگ کو جیتنے کے امکانات، روسی فوج کی 2015 میں کی جانے والی مداخلت سے بڑھ گئے تھے۔

اقوام متحدہ نے بدھ (13 مارچ) کو یہ بھی کہا تھا کہ روسی کرایے کے فوجیوں کے طرف سے، جن میں ویگنر کا گروہ سی اے آر بھی شامل ہے، "انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں" کی گئی ہیں۔

یہ کاروائی ویگنر -- اور اس گروہ میں پریگوزین کے کردار کو -- کھلے عام لانے کی ایک نادر کوشش کی نمائںدگی کرتی ہے۔

ماسکو نے کبھی بھی ویگنر کے کرایے کے فوجیوں کی تصدیق نہیں کی اور پریگوزین نے ویگنر یا آئی آر اے سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔

ویگنر جو کہ دیگر تمام عسکری نجی اداروں کی طرح، روس میں غیر قانونی ہے، کے بارے میں خیال ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج سے لوگوں کو بھرتی کرتا ہے اور مبینہ فوجیوں کو بھاری تنخواہوں سے متاثر کرتا ہے جو کہ روس میں اوسط تنخواہ سے پانچ، چھہ گنا زیادہ ہوتی ہیں۔

بہت سی مقامی روسی ویب سائٹس نے روس میں مبینہ جنگجوؤں کے جنازوں سے خبر دی ہے کہ ان کے خاندانوں کو خاموش رہنے کے بدلے میں بھاری ادائیگیاں کی گئی ہیں۔

کارنیگی تھنک ٹینک نے ویگنر کو "ماسکو کے بدترین طور پر رکھے ہوئے ایک راز" کے طور پر بیان کیا ہے۔

اس نے کہا کہ گروہ کے دو جنگی مقاصد ہیں: "جنگی زونز میں جنگجوؤں کو تعینات کرتے ہوئے کریملین کو بظاہر انکار فراہم کرنا" اور "متعلقہ ممالک کے ساتھ اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے تیار شدہ قابلیت" فراہم کرنا۔

'صاف شفاف'

جیسے جیسے اس پر دباو، بڑھ رہا ہے، پریگوزین غصے کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

22 مارچ کو اس نے روس کی تفتیشی کمیٹی (ایس کے) کے پاس، بہت سے امریکی حکام جن میں ایف پی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر وائے بھی شامل ہیں، کے خلاف ایک شکایت درج کروائی۔

اگلے دن انہوں نے ایف پی آئی کو ایک خط لکھا جسے کونکورڈ نے سوشل نیٹ ورک ویکونٹاکٹے پر پوسٹ کیا۔

پریگوزین نے لکھا کہ "جعلساز مجھ پر، جو کہ ایک صاف شفاف شخص ہے، دھوکہ دہی کا جھوٹا الزام لگانے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

کونکورڈ پریس آفس نے اعلان کیا کہ 23 مارچ کو پریگوزین نے فاونڈیشن فار فائٹنگ ریپریشن (ایف پی آر) بنانے کا اعلان کیا۔

واشنگٹن کو ٹرول کرنے کی ایک واضح کوشش کے طور پر، تنظیم کا روسی زبان کا مخفف وہی ہے جو کہ امریکی ایف بی آئی کا ہے۔

پریگوزین کی ایف بی آر بظاہر، مغربی ممالک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرے گی اور سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنوں کی مدد کرے گی۔

مگر اس وقت تک، ایف بی آر صرف ایک خیال ہی ہے۔

حزبِ مخالف کے ریڈیو اسٹیشن ایکو موسکی نے خبر دی ہے کہ ابھی اس بات کو ظاہر نہیں کیا گیا کہ اس کے لیے کون کام کرتا ہے اور اس وقت یہ کیا کر رہی ہے۔ اس کا کوئی ترجمان، ویب سائٹ یا سوشل میڈیا کا اکاونٹ نہیں ہے۔

'رسُوخ کے ایجنٹ'

ڈوسیئر سنٹر کے مطابق، جو کہ کریملن سے وابستہ مختلف افراد کی مجرمانہ سرگرمیوں کا پتہ لگاتا ہے، ایسوسی ایشن برائے فری ریسرچ اینڈ انٹرنیشنل کوآپریشن (اے ایف آر آئی سی) گوزین کے "اثر و رسوخ کے ایجنٹوں کے نیٹ ورک" کا ایک اور ہتھیار ہے۔

دی ڈیلی بیسٹ نے 2 مارچ کو خبر دی تھی کہ "اے ایف آر ای سی انتخابات کے مشاہدین بھیجے -- جن میں سے بہت سے جانے پہچانے سفید بالادستی کے حامی اور یورپ سے تعلق رکھنے والے نازی-نواز تھے -- تاکہ زمبابوے، مڈغاسکر، جمہوریہ کانگو اور جنوبی افریقہ کے انتخابات پر اثرانداز ہوا جا سکے، ان انتخابات میں پریگوزین کی وسیع مملک کے دوسرے دھڑوں نے اکثر ایک یا ایک سے زیادہ امیدواروں کو مدد فراہم کی"۔

گھر کے قریب، پرگوزین کے اثر و رسوخ سے وابستہ کارکنوں نے جنوری میں برلن میں ایک دو روزہ کانفرنس کا اہتمام کیا تھا تاکہ ایسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا، پولینڈ اور جرمنی میں "وباء کے بعد کے مستقبل کے بارے میں ایک نیا خواب پیدا کریں۔

ڈیلی بیسٹ، ڈوسیئر سنٹر، جرمن براڈ کاسٹر اے آر ڈی، ایسٹونیا میں Delfi.ee اور لیتھوانیا میں Siena.lt کی مشترکہ تحقیقات کے مطابق، بالٹک سی ریجن اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا اہتمام ان دو تنطیموں نے کیا تھا جو اے ایف آر آئی سی سے قریبی طور پر جڑی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ "پرگوزوین کی غیر ملکی اثر و رسوخ کی بیشتر کارروائیوں کی طرح، یہ مہم ایک دوسرے سے جڑے اداروں کے ایک سلسلے پر مشتمل ہے، جنہیں روسی فیڈریشن کے علاقے سے باہر رجسٹرڈ کیا گیا ہے اور کم از کم کاغذ پر، انہیں غیر روسیوں نے رجسٹر کیا ہے"۔

مثال کے طور پر، منتظمین میں سے ایک اے ڈی ایم آئی ایس کنسلٹینسی تھی، ایک ایسا اداراہ جسے لیتھونیا کے ایسے شہری نے بنایا اور اس کے لیے سرمایہ فراہم کیا تھا جو اے ایف آر آئی سی کی انتظامیہ کا رکن بھی ہے۔

دوسرا شریک- منتظم جرمنی کا ادارہ فیڈرل ایسوسی ایشن فار اکنامک ڈویلپمنٹ اینڈ فارن ٹریڈ جو کہ اپنے مخفف بی ڈبلیو اے سے جانا جاتا ہے، تھا جس کی سربراہی جرمنی کے کاروباری مشاورت کار کے پاس ہے جن کی مہارت چین کے معاملات میں ہے۔

ڈیلی بیسٹ نے خبر دی ہے کہ بی ڈبلیو اے نے ڈائیلاگ آف سیولایزیشنز ریسرچ انسٹیٹوٹ، جو کہ کے جی بی کے سابقہ افسر اور پوٹن کے قریبی رازدار، ولادیمیر یکونین کی طرف سے 2016 میں بنایا جانے والا روسی تھنک ٹینک ہے، کے ساتھ شراکت بھی کی ہے۔

یکونین کو 2015 میں امریکہ کی طرف سے، یوکرین پر روس کے حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں، جیل بھیج دیا گیا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500