تجزیہ

ولایت فقیہ: ایک مذہبی بے ضابطگی ایران میں آمریت کو تقویت بخش رہی ہے

اردشیر کردستانی

image

ایران کے راہنمائے اعلی علی خامنہ ای مارچ میں قوم سے خطاب کر رہے ہیں، جبکہ اسلامی جمہوریہ کے بانی روح اللہ خمینی کی تصویر پس منظر میں موجود ہے۔ [راہنمائے اعلی کا دفتر]

شعیہ مذہبی تجویز، جو کہ ایران کے آمرانہ نظام کو درست ثابت کرتی ہے اور علاقے بھر میں "انقلاب" کو برآمد کرتی ہے، ولایت فقیہ کے نام سے جانی جاتی ہے مگر اسے زیادہ وسیع شعیہ برادری نے نظریاتی بے ضابطگی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

کم از کم گزشتہ 10ویں صدی سے شعیہ اسلام میں بحث کیے جانے والے اس نظریے میں، اسلامی معاشرے میں مہدی، 12 شعیہ اماموں، جنہیں حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کی براہ راست نسل میں سے سمجھا جاتا ہے، میں سے آخری، کی غیر موجودگی میں حکومت کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

شعیہ اسلام کا حاوی نظریہ یہ ہے کہ اسلامی معاشرے پر صرف انہیں ہی حکومت کرنی چاہے جو حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کے خاندان سے براہ راست تعلق رکھتے ہوں۔

مہدی، یا زمانہ کے امام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 941 عیسوی سے "خفیہ" یا "عارضی طور پر غیر موجود" ہے۔ شعیہ روایات کے مطابق، ان کے دوبارہ ظاہر ہو جانے سے قیامت آ جائے گی۔ عبوری طور پر، ایک فقیہ -- جو ایک اعلی تعلیم یافتہ مولوی اور مذہبی عقائد کا ماہر ہو-- شعیہ برادری کی راہنمائی کرے گا۔

image

ایران کی فوج کی طرف سے گزشتہ دسمبر میں شائع کی جانے والی نامعلوم تاریخ کی تصویر میں، قدس فورس کے سابقہ کمانڈر قاسم سلیمانی (درمیان میں) اور ایرانی فوج کے دیگر کمانڈر، راہنمائے اعلی علی خامنہ ای کو سلوٹ کر رہے ہیں۔ راہنمائے اعلی کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھانا، سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے مشن کا سنگِ بنیاد ہے۔ [ایران کی وزارتِ دفاع]

image

ایرانی حمایت یافتہ فاطمیون ڈویژن کے ارکان، گزشتہ سال مارچ میں آیت اللہ خمینی کی تصویر کے سامنے حلب، شام میں جمع ہو رہے ہیں۔ راہنمائے اعلی کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھانا اور ولایت فقیہ کا نظریہ، علاقے میں بہت سی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کا حصہ ہونا لازمی ہے۔ [فائل]

image

اسلامی جمہوریہ کے بانی، روح اللہ خمینی، مبینہ طور پر ولایت فقیہ کے سب سے نمایاں حامی ہیں، جسے انہوں نے رہنمائے اعلی کے منصب کے جواز کے لیے استعمال کیا۔ [ارنا]

شعیہ علماء میں یہ مباحثے کا مرکز یہ رہا ہے کہ حکومت کے روزمرہ کے انتظام میں سے کتنے کو فقیہ کے لیے چھوڑ دیا جانا چاہیے۔

غالب تشریح یہ ہے کہ مذہبی طور پر خالص رہنے کے لئے، فقیہ کو سیاست اور ریاستی انتظامیہ کی پیچیدہ دنیا میں براہ راست مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔

اس تشریح کے تحت، فقیہ کا دائرہ شعیہ مذہبی روایت میں تنازعات کو حل کرنے، مذہبی استحکام کا انتظام کرنے اور سیاسی حکمرانوں کو مشورہ دینے تک محدود ہے۔

عراق کے اعلی شعیہ عالم، علی السیستانی، مبینہ طور پر اس تشریح پر عمل کرنے والی سب سے نمایاں شخصیت ہیں۔ غیر معمولی استثناء کے ساتھ، وہ عراقی سیاست سے دور رہے۔

دوسری طرف، اقلیتی خیال کے مطابق، فقیہ کو حکومت کو چلانے کے کام کی نگرانی اور اس میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے۔

اسلامی جمہوریہ کے بانی، روح اللہ خمینی (1989-1900)، اس نظریہ کے واضح طور پر سب سے نمایاں حامی ہیں، جس کی انہوں نے حمایت کی اور اسے توسیع دی، جس کا حتمی نتیجہ 1979 کے اسلامی انقلاب کی صورت میں نکلا۔

ولایت فقیہ

اس کی غالب تشریح، جس میں کہا گیا ہے کہ فقیہ کو سیاست میں براہ راست مداخلت نہیں کرنی چاہئے، کم از کم 16 ویں صدی سے غالب رہی ہے، جب صفوی سلطنت نے شیعیت کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دے دیا تھا۔

1970 میں، خمینی نے جلاوطنی کے دوران شاہ کی حکمرانی کی قانونی حثیت کے بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے خطابات کا ایک سلسلہ شروع کیا، اور یہ دلیل دی کہ ایران کو "ایک فقیہ کی سرپرستی" کے تحت ہونا چاہئے۔

خمینی کو فقیہ کے کردار کی روایتی تفہیم کو تبدیل کرنے کا ذمہ دار ٹھرایا جاتا ہے، جس میں "سرپرست" کے لیے شعیہ قوم کا قائد ہونا چاہیے نہ کہ ملک اور حکمرانوں کا محض سیاسی اور اخلاقی مشیر۔

اس وضع کے تحت - جو "اعلی قائد" کے منصب کو جواز پیش کرتی ہے - سرپرست فقیہ یا "ولی فقیہ" (عربی میں الولیٰ فقیہ) کو مکمل اختیار حاصل ہے، اور وہ اسلامی حکومت کی دوسری تمام شاخوں پر اختیار یا مُقدم مقام رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ راہنمائے اعلی کے وسعت اختیارات کا مقصد صدر، پارلیمنٹ یا دیگر منتخب عہدیداروں کی طرف سے "آمرانہ رجحانات کو روکنا" ہے۔

ایران کا موجودہ دستور، جو 1979 کے اس اسلامی انقلاب کے بعد لکھا گیا تھا جو خمینی کو اقتدار میں لایا تھا، اس وسیع نقطہ نظر کو نافذ کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس میں راہنمائے اعلی کے اختیارات شمار کیے گئے ہیں اور اسے مسلح افواج کی تمام شاخوں کے سربراہان، ریاستی حمایت یافتہ نشریاتی نشریاتی ادارے کے اہم عہدہ داروں اور گارڈین کونسل کے آدھے ارکان کی تقرری کا اختیار دیے دیا گیا ہے۔

طاقت ور گارڈین کونسل جو کہ 12 ارکان پر مبنی ادارہ ہے، اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ میں انتخابی عہدوں کے لیے کون حصہ لے سکتا ہے اور کون نہیں۔

منظوری کے معیارات غیر واضح ہیں اور وہ ایک انتخابات سے دوسرے انتخابات تک تبدیل ہوجاتے ہیں، ان کا زیادہ تر مقصد اسلامی جمہوریہ یا راہنمائے اعلی کے ناقدین کو اقتدار سے دور رکھنا ہے۔

گارڈین کونسل، ماہرین کی اسمبلی کے امیدواروں کا بھی جائزہ لیتی ہے جسے راہنمائے اعلی کو منتخب کرنے اور اس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا نمائشی کام سونپا جاتا ہے۔

اگرچہ ماہرین کی اسمبلی کو تکنیکی طور پر راہنمائے اعلی کو ہٹانے کا اختیار حاصل ہے مگر عملی طور پر، یہ زیادہ تر راہنمائے اعلی کی کارکردگیوں پر مہر لگانے کا کام ہی کرتی ہے۔

کسی بھی صورت میں ، گارڈین کونسل پر راہنمائے اعلی کا اثر و رسوخ اسے اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے نقادوں کو ماہرین کی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا جائے۔

مزید برآں، راہنمائے اعلی کو سرکاری عہدیداروں کے فیصلوں کو مسترد کرنے کی اجازت ہے۔ وہ ایسے احکامات جاری کرسکتا ہے جو صدارتی فیصلوں کو "قومی مفاد کے لئے ضروری" قرار دے کر انہیں تبدیل کر سکتے ہیں۔

ایران کے موجودہ راہنمائے اعلی، علی خامنہ ای، نے بعض اوقات عوامی اعلانات بھی جاری کیے ہیں، جن میں کچھ ایسے بھی تھے جن میں اتنی غیر اہم باتیں جیسے کہ موجودہ صدر کو مشورہ دینے کا کون اہل ہے، بھی شامل تھیں۔

انہیں اپنے انتخاب کردہ ملک کے اندرونی معاملات اور خارجہ پالیسی کے تمام معاملات پر حتمی فیصلے کا اختیار حاصل ہے۔

آئی آر جی سی کی طرف سے فقیہ کا استعمال

1979 میں، خمینی نے اسلامی انقلاب کو "برآمد" کرنے کے مقصد کے ساتھ، سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی)کے قیام کی اجازت دی۔

آئی آر جی سی نے انقلاب، جس میں راہنمائے اعلی کو مرکزی مقام حاصل تھا، کی حفاظت میں اپنے کردار پر زور دیا اور وہ ولایت فقیہ کو محکوم آبادی میں وفاداریاں پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

2010 میں، اس وقت کے آئی آر جی سی کمانڈر محمد علی جعفری نے کہا تھا کہ آئی آر جی سی "ولایت فقیہ کی کسی بھی قسم کی مخالفت کو غداری سمجھتی ہے"۔

ستمبر میں، آئی آر جی سی کے مرکزی معمار، محسن رفیگدوست نے کہا کہ وہ "ولایت فقیہ کے بنیادی خیال کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں"۔

نظریاتی اختلافات اور بڑے پیمانے پر ملکی بدامنی سے "انقلاب کی حفاظت" کے بہانے، آئی آر جی سی بار بار جبر کی کارروائیوں میں مصروف رہی ہے۔

2009 کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد، اس نے ان مظاہرین پر دھاوا بول دیا جنھوں نے خامنہ ای کی حکومت پر تنقید کی اور جو ان کی تخلیق کردہ تحریک جسے گرین موومنٹ کہا جاتا ہے، کے حامی تھے۔

جب سپریم لیڈر نے اس وقت کے صدر، سخت دائیں طرف کے قوم پرست - محمود احمدی نژاد، کے لیے ان کے مدِ مقابل کے مقابلے میں اپنی ترجیح ظاہر کی تو جعفری نے کہا کہ آئی آر جی سی کو اس سیاسی تحریک کی "حمایت کرنی چاہیئے" جو خامنہ ای کے نظریات پر سب سے زیادہ قائم ہے۔

خامنہ ای اور آئی آر جی سی کے لیے 2019 اور 2020 کے مظاہرے اور بھی اہم تھے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی بہت سی ویڈیوز میں انہیں خامنہ ای اور آئی آر جی سی کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے پوسٹروں کو پھاڑتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

کئی دیہائیوں تک، آئی آر جی سی کی قدس فورس نے ان ملیشیاؤں کو سرمایہ اور تربیت فراہم کی ہے جو تشدد اور سیاسی جبر کو، حتمی طور پر علاقے میں اسلامی جمہوریہ کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے مقصد سے استعمال کرتی ہیں۔

باقی کی آئی آر جی سی کی طرح، قدس فورس اپنی قانونیت کو اپنے خود سے بیان کردہ، ولایت فقیہ کی حفاظت کے مشن سے حاصل کرتی ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ اور عراق کی مشہور متحرک فورسز (پی ایم ایف) کے مرحوم راہنما ابو مہدی ال مہندس دونوں نے ہی، اپنے ممالک کے سیاسی نظاموں کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرنے کی بجائے، خامنہ ای کے ساتھ وفاداری کا عہد کیا۔

امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایران کے تجزیہ نگار محسن حسینی نے کہا کہ آئی آر جی سی "مطالبہ کرتی ہے کہ اس کے تمام پراکسیز خامنہ ای کی وفاداری کی قسم کھائیں"۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں پی ایم ایف ملیشیاوں سے لبنان کی حزب اللہ یہاں تک کہ یمن کے حوثییوں تک، قدس فورس ایرانی حکومت کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے، مذہبی تقویٰ اور "مسلمان برادری" کی ضروریات کے سیراب کو استعمال کرتی ہے۔

شیعہ علماء فقیہ کے اصول کو مسترد کرتے ہیں

شیعہ فقیہ کی مطلق العنانی کے خیال کی ایران میں، اس لمحے سے ہی عیب گو پیدا ہو گئے تھے جب خمینی نے اس کی تجویز پیش کی تھی۔

اس سے پہلے بھی، ایران میں شیعہ برادری کے بہت سارے علمائے کرام نے اس خیال کو مسترد کردیا تھا کہ فقیہ کے طور پر تسلیم شدہ عالم دین کو سیاست میں کوئی باضابطہ قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔

ان میں احمد نارگی (1866-1806) بھی شامل ہیں، ایک عالم دین جنہیں ولایت فقیہ کے تصور میں، جسے آج جس صورت میں ایران میں سمجھا جاتا ہے، کے اہم سب سے اہم شراکت دار کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

لیکن ناراگی نے ایک فقیہ کے ذریعہ، مطلق حکمرانی تو ایک طرف، براہ راست حکمرانی کے خلاف بحث کی۔

ابھی حال ہی میں - عراق کے السیستانی کے علاوہ - سینئر شیعہ علماء جن میں بشیر ال نجفی، محمد الفیاض اور محمد سعید الحکیم شامل ہیں، نے ایک اسلامی فقیہ کے ذریعہ سیاسی حکمرانی کے خیال کی مخالفت کے سلسلے میں اپنی آواز اٹھائی ہے۔

کسی زمانے میں نہایت مشہور انقلابی مصطفیٰ تاجزادہ، جو بعد میں اصلاحات کے حامی بن گئے، نے 2019 میں کہا کہ " فقیہ کے ذریعے سایسی حکمرانی کا خیال، جو کہ اسلامی جمہوریہ کے آئین میں موجود ہے، ایک بے ضابطگی ہے جسے شیعہ برادری کے بیشتر ارکان نے مسترد کردیا ہے"۔

تاج زادہ نے کہا کہ "میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے [مطلق حکمرانی] کے تصور کو آئین میں شامل کرنے کے لئے کام کیا۔ لیکن بعد میں مجھے احساس ہوا کہ یہ غلط تھا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500