سلامتی

زینبیون سے جڑی نئی ایرانی نواز ملیشیاء مشرقی شام میں ابھری ہے

ولید ابو الخیر

image

ایک نئی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاء، مشرقی شام میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہی ہے۔ [ایران کی وزارتِ دفاع]

ایک نئی ملیشیاء جو کہ ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) جو کہ سیدہ زینب برگیڈ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، سے تعلق رکھتی ہے، حالیہ مہنیوں میں شمالی شام کے صوبہ دیر الزور میں ابھری ہے اور اس کی سرگرمیاں المیادین کے گرد مرکوز ہیں۔

اگرچہ یہ ایک نئی جماعت بندی ہے مگر سیدہ زینب برگیڈ کی، حکومت کی حامی ملیشیاؤں کے اس نیٹ ورک میں جڑیں ہیں، جو ایران اور حزب اللہ کے ساتھ منسلک ہیں اور جو 2013 کے قریب، سیدہ زینب کے مزار کی حفاظت کے لیے، جنوبی دمشق منتقل ہوئے تھے۔

اس نیٹ ورک میں خطاب ابو الفضل ال عباس اور زینبیون برگیڈ، جو کہ ایسے پاکستانی جنگوؤں پر مشتمل ہے جنہیں آئی آر جی سی نے شام میں لڑنے کے لیے بھرتی کیا تھا، شامل ہیں۔

دیر الزور کے سرگرم کارکن کمیل العابد کے مطابق، آئی آر جی سی نے چھہ ماہ قبل ملیشیاء کو دوبارہ سے منظم کیا اور المیادین کے اردگرد کے علاقوں سے نوجوانوں کو بھرتی کیا۔

image

دیہی المیادین کے قصبے مہکان میں، سیدہ زینب برگیڈ کے ہیڈکواٹر پر ایک جھنڈا لہرا رہا ہے۔ [نہر میڈیا]

image

مہکان کا قصبہ، جو کہ سیدہ زینب برگیڈ کا مضبوط گڑھ ہے، کے داخلی راستے پر، آئی آر جی سی کی قدس فورس کے سپہ سالار قاسم سلیمانی اور شام کے صدر بشار الاسد کے پوسٹر، آئی آر جی سی گیس اسٹیشن میں دیواروں پر چپکائے گئے ہیں۔ [نہر میڈیا]

انہوں نے کہا کہ سیدہ زینب برگیڈ کی سربراہی اس وقت معیاد الدویہی ("ابو نذر") کر رہے ہیں جو کہ اس سے پہلے حکومت کی حامی نیشنل ڈیفنس فورس (این ڈی ایف) ملیشیاء سے منسلک تھے۔

العبد نے کہا کہ انہیں "ابو فاطمہ" نامی جنگجو کی مدد حاصل ہے۔

میڈیا کے سرگرم کارکن ایہام الاعلی نے کہا کہ سیدہ زینب برگیڈ کے تقریبا 150 سے زیادہ کارکن، اس وقت المیادین کے علاقے میں موجود ہیں خصوصی طور پر المیادین کے شہر اور العشرہ اور المہکان کے قصبوں میں۔

انہوں نے کہا کہ وہ مقررہ ہیڈکواٹرز میں تعینات ہو گئے ہیں، جہاں پر شام اور مختلف فرقوں کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔ ایسا تازہ ترین ہیڈکواٹر چند دن پہلے، المیادین شہر میں، الحال مارکیٹ اسکوئر کے قریب قائم کیا گیا ہے۔

العلی نے کہا کہ یہ عمارت، جو کہ علاقے سے بے گھر ہو جانے والے، مقامی ڈاکٹر کی ملکیت ہے، اس وقت آپریشنز کا مرکزی ہیڈکواٹر تصور کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے رنگروٹ، المیادین علاقے کے شہری ہیں جنہیں سیکورٹی فراہم کرنے یا لازمی فوجی خدمت کے لیے رپورٹ کرنے میں ناکامی پر شامی حکومت کی طرف سے سزا دیے جانے سے بچانے کے لالچ میں، ملیشیاء میں بھرتی کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں لبنان کی حزب اللہ کے استادوں کی طرف سے تربیت فراہم کی گئی ہے اور خوراک کی ماہانہ مدد کے علاوہ 70,000 سے 100,000 شامی روپوں (135 سے 195 ڈالر) کے درمیان ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔

آبادیاتی تبدیلی

العلی نے کہا کہ سیدہ زینب برگیڈ کے زیادہ تر کارکن، حکومت نواز نیشنل ڈیفنس فورس کے ارکان ہیں جنہوں نے شام کے مشرقی صحرا (بدیہ) کے علاقے میں جنگ سے بچنے کے لیے اسے چھوڑ دیا ہے۔

حکومت کو حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں انتہائی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

العلی نے کہا کہ انہوں نے اس بات کی ضمانت کے بعد، نئی بننے والی ملیشیاء میں شمولیت اختیار کر لی ہے کہ ان کی سرگرمی المیادین کے علاقے کی حفاظت کے لیے ہو گی اور انہیں صحرا کے علاقے میں ہونے والی مہمات میں شامل ہونا نہیں پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "دوسرے الفاظ میں، ان کی سرگرمی صرف مقامی ہو گی"۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور عنصر جو ان کے شمولیت کے فیصلے پر اثر انداز ہو رہا ہے وہ حالیہ مہینوں میں ان کی تنخواہوں کا رک جانا ہے جس کی وجہ "حکومت پر لگائی جانے والی مالی پابندیاں" ہیں۔

شام کی حکومت پر امریکہ کی طرف سے سیزر سویلین پروٹیکشن ایکٹ 2019 کے تحت لگائی جانے والی پابندیوں کے باعث اضافی دباؤ ہے، جو انسانی حقوق کی پامالیوں کے لئے احتساب کے بغیر، حکومت کو معمول پر لانے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔

العلی نے کہا کہ برگیڈ کے تمام ارکان ولایت فقیہ (فقیہ کی سرپرستی) کے نظریے کی پیروی کرتے ہیں، جس میں ایران کے راہنمائے اعلی علی خامنہ ای کے ساتھ وفاداری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

اس نظریے کی پیروی، ملیشیاء کی صفوں میں شامل ہونے کی شرط ہے۔

العلی کے مطابق، المیادین میں سیدہ زینب برگیڈ کا ابھرنا اور اس کی موجودگی، آئی آر جی سی کی طرف سے، دیر الزور صوبہ میں مجموعی طور پر، آبادیاتی تبدیلی کی جاری کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

اس عمل میں ایسے مقامی شہریوں کے گھروں سے کمانڈ کرنا، جو کہ علاقے سے بھاگ کر جا چکے ہیں، علاقے میں آئی آر جی سی - منسلک ملیشیاؤں کو مستحکم کرنا اور بے گھر ہو جانے والے افراد کی واپس آنے پر مسلسل حوصلہ شکنی کرنا شامل ہیں۔

علی نے کہا کہ اس سارے عمل میں آئی آر جی سی کا اہم مقصد "اپنی موجودگی کو مضبوط کرنا اور ایسی سماجی حقیقت تخلیق کرنا ہے جو جتنی دیر تک ممکن ہو سکے اس کی موجودگی کو محفوظ بنا سکے"۔

شامی بدیہ علاقے سے قربت اور عراق کے ساتھ سرحد کے قریب دیر الزور کے مرکز میں اس کے مقام کے باعث، المیادین کی حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہمیت ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500