سیاست

لبنان میں سلیمانی کی میراث: عدم تحفظ، عدم استحکام اور خانہ جنگی

از نوہاد ٹوپالیان

image

ایرانی ذرائع ابلاغ کی طرف سے قدس فورس کے سپہ سالار قاسم سلیمانی (دائیں) کی جاری کردہ آخری معلوم تصاویر میں سے ایک میں، انہیں بیروت میں ایک میٹنگ کے دوران، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے ماتھے پر بوسہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ چند دنوں کے بعد سلیمانی کو 3 جنوری کو بغداد میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بیروت -- ایران کے سپہ سالار اعلی جنرل قاسم سلیمانی کی بغداد میں ایک امریکی حملے میں ہلاکت کے تقریبا ایک سال کے بعد، لبنان میں ان کے مہلک اثر و رسوخ کو ان قریبی ساتھی، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے ذریعے ابھی بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔

لبنان کو انتہائی وسیع پیمانے پر سیاسی و معاشی بحران کا سامنا ہے، جس میں نوول کرونا وائرس (کووڈ -19) کی عالمی وباء اور 4 اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے، جس کے بارے میں عطیہ دہندگان کا کہنا ہے کہ اسے ٹھیک کرنے پر 2.5 بلین ڈالر کا خرچہ آئے گا، کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔

لبنان کے بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ ملک کے مسائل کی جڑ ہے، اس کے علاوہ انہوں نے جماعت کو، لبنان کی طرف سے اپنے آپ کو بحران سے نکالنے کی بظاہر ناکامی، کا ذمہ دار بھی قرار دیا ہے۔

سلیمانی کی میراث نصر اللہ کے ساتھ قریبی تعلقات سے براہ راست جڑی ہے۔

image

ایران کے رہبرِ معظم کے دفتر کی طرف سے جاری کی جانے والی اس نامعلوم تاریخ کی تصویر میں رہبرِ معظم علی خامنہ ای (بائیں)، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ (درمیان میں) اور قدس فورس کے مرحوم کمانڈر قاسم سلیمانی کو دکھایا گیا ہے۔

image

12 دسمبر کو لی گئی ایک تصویر میں، 4 اگست کو بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے سے، مر میکال علاقے میں لبنان الیکٹرسٹی کارپوریشن کی عمارت کو ہونے والا نقصان دکھایا گیا ہے۔ [نوہاد ٹوپالیان/ المشرق]

فیوچر موومنٹ کے سابقہ ایم پی مصطفی اللوش نے سلیمانی کو نصر اللہ کے "کمانڈنگ افسر" کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ نصر اللہ کے کردار کو "بڑھا چڑھا" کر پیش کیا گیا تھا جبکہ حقیقت میں، وہ سلیمانی کا ماتحت تھا۔

سلیمانی کا کردار اور اس کا نصر اللہ کے ساتھ تعلق "جماعت پر اس کے اثر و رسوخ اور اس براہ راست عسکری، رسدی اور معادی معاونت سے صاف واضح ہے، جو اس نے حزب اللہ کو فراہم کی تھی"۔

اللوش نے کہا کہ اس اثر و رسوخ کا لبنان کے اندر پیش آنے والے واقعات پر براہ راست اثر ہوا۔

لبنان کی ترقی کو نقصان پہنچانا

اللوش نے کہا کہ "40 سال تک، حزب اللہ لبنان کے عدم استحکام کی وجہ رہی ہے کیونکہ یہ حکومت کے اندر قائم ایک حکومت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نے "لبنان کو تخریبی جنگوں میں کھینچ لیا" جس میں سے سب سے قابلِ بیان شام کی جنگ ہے، جو کہ اس کی عدم تعلق کی پالیسی کی خلاف ورزی ہے اور "ملک کو "دہشت گردی کے گرداب کی طرف لے گئی"۔

انہوں نے کہا کہ اس سے لبنان کے نہ صرف اپنے ہمسایہ ممالک، جس میں گلف کے ممالک شامل ہیں، جو اسے امداد اور ترسیلاتِ زر فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ تھے، سے تعلقات کو نقصان پہنچا بلکہ مغرب کے ساتھ اس کے تعلقات بھی خراب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے بغیر، لبنان کی سیاسی جماعتیں "جمہوری سمجھوتوں کی طرف چلی گئی ہوتیں"۔ مگر ملک کے سیاسی نظام کے حصہ کے طور پر اس کی موجودگی نے "اس پر لاگو پابندیوں کے باعث، حکومت کے قیام کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں"۔

تعلیمی محقق اور لی حقی تحریک کے کارکن مہر ابو چکرا کا کہنا ہے کہ لبنان کے عدم استحکام کی بنیادی ذمہ داری حزب اللہ ہی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس نے سیاسی نظام پر غلبہ حاصل کر رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس نے اکتوبر 2019 میں عوامی مظاہروں کے شروع ہو جانے کے بعد سے، موجودہ غیر فعال نظام کی حفاظت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "حزب اللہ ایک مسلح جماعت ہے اور اس کے پاس مربوط معاشی اور فوجی نظام اور ایک سلطنت ہے جس کی ملک کے اندر اور باہر گہری جڑیں ہیں۔ یہاں تک کہ یہ حکومت سے زیادہ طاقت ور بن گئی ہے اور یہ حکومت اور عوام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے"۔

انہوں نے کہا کہ جماعت کی طاقت "ایران کے ساتھ براہ راست تعلقات اور اس تعلق سے، جو کہ نصر اللہ اور سلیمانی کے درمیان موجود تھا" کے باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاہم اس کی اندرونی طاقت، ملک کی بدعنوان سیاسی طاقتوں کے باعث ہے جو اس کی وسعت پر اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور سرکاری، میونسپل، پارلیمانی اور تجارتی یونینوں کے انتخابات میں اس کے ساتھ شامل ہو رہی ہیں۔

نصر اللہ سلیمانی کا ماتحت تھا

سیاسی کارکن اور حزب اللہ کے مخالف لقمان سالم کا کہنا ہے کہ "سلیمانی نے حزب اللہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو چھپایا نہیں تھا"۔

سالم نے کہا کہ کوئی بھی اس تعلق کے بارے میں مکمل معلومات رکھنے کا دعوی نہیں کر سکتا "مگر ہمیں جتنا پتہ ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک حاکم اور محکوم کا رشتہ تھا"۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حزب اللہ کی شام، یمن اور عراق میں تمام مہمات ایسے علاقوں میں تھیں جہاں سلیمانی، ایران کے مفادات کو وسعت دینے کا خواہش مند تھا، کہا کہ "سلیمانی، حزب اللہ کی طرف سے اس کے کاموں کو انجام دینے میں کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتا تھا"۔

انہوں نے کہا کہ دو آدمیوں کے درمیان تعلق میں یہ بات واضح تھی کہ "حکم دینے والا کون ہے اور عمل کرنے والا کون ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "سلیمانی کے اختتام نے ایرانی مزاحمت کے تصور کو نقصان پہنچایا اور اس پر ایسی خراش ڈالی جو کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ڈالی گئی تھی"۔

انہوں نے کہا کہ اس سے نصر اللہ بھی کمزور ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت کی ساکھ حزب اللہ کے کارکن سلیم ایاش کی آئینہ دار ہے جنہیں 11 دسمبر کو، لبنان کے سابقہ وزیراعظم رفیق الحریری کی 2005 میں ہلاکت کے سلسلے میں، عمر قید کی پانچ سزائیں سنائی گئیں۔

سلیم نے کہا کہ "بندرگاہ پر دھماکے کے بعد، یہ واضح ہو گیا کہ دو خودمختار ادارے ایک ملک کے اندر نہیں رہ سکتے جیسے کہ "ریاست کے اندر ذیلی ریاست"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آج لبنان کو انتخاب کرنا ہے کہ وہ ایرانی ماڈل بننا چاہتا ہے جہاں ذیلی ریاست حکومت کرتی ہے جبکہ حکومت ایک جھوٹے گواہ اور حکومت کی بحالی کے لیے استعمال ہوتی ہے"۔

حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے وزراء پر الزامات

بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے کے، لبنان کے مرکزی تفتیش کار نے 10 دسمبر کو سبکدوش ہونے والے وزیرِاعظم حسن دیاب -- جو کہ حزب اللہ کے ساتھی ہیں-- اور تین سابقہ وزراء پر عفلت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

ایک عدالتی ذریعہ کے مطابق، ان چاروں پر "غفلت اور کئی سو افراد کی ہلاکت اور مزید ہزاروں کے زخمی ہونے" کے سلسلے میں مقدمات دائر کیے ہیں جو کہ لبنان کی تاریخ میں کسی خدمات انجام دینے والے وزیراعظم کے خلاف ایسی پہلی باضابطہ فردِ جرم ہے۔

دھماکے کے بعد، یہ بات سامنے آئی کہ سیکورٹی کے حکام اور سیاست دانوں کو کئی سالوں سے اس بات کا علم تھا کہ ہزاروں ٹن امونیم نائٹریٹ کھادوں کو لاپرواہی سے بیروت کی بندرگاہ پر ذخیرہ کیا گیا ہے مگر وہ حفاظتی اقدمات اٹھانے میں ناکام رہے۔

ذریعہ نے کہا کہ جج فادی ساون کی طرف سے یہ فیصلہ، تفتیش کی طرف سے اس بات کی تصدیق کے بعد سامنے آیا کہ ملزمان کو "بہت سے تحریری نوٹس وصول ہوئے جن میں انہیں امونیم نائٹریٹ کی کھادوں کو تلف کرنے میں تاخیر کے خلاف متنبہ کیا گیا تھا"۔

ذریعہ، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کی ہے کیونکہ اسے اس معاملہ پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ انہوں نے تباہ کن دھماکے اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے انتہائی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے۔

جن دیگر اعلی حکام پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے ان میں سابقہ وزیرِ خزانہ علی حسن خلیل اور عوامی کاموں کے سابقہ وزارء یوسف فینیانوس اور غازی زیتر شامل ہیں۔

امریکہ نے ستمبر میں خلیل اور فینیانوس پر مبینہ بدعوانی اور حزب اللہ کی مدد کرنے پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

ابھی بھی سوالات باقی ہیں

اللوش نے کہا کہ ایسے سوالات ابھی بھی باقی ہیں جن کا جواب دینے کی ضرورت ہے جیسے کہ دھماکہ خیر مواد لے جانے والا جہاز بیروت کیوں جا رہا تھا اور ویئر ہاوس نمبر 12 میں انہیں ذخیرہ کرنے کا فیصلہ کس نے کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی اس بات کا پتہ چلایا جانا باقی ہے کہ آیا امونیم نائٹریٹ جو کہ دھماکہ خیز مواد بنانے کا جانا پہچانا جزو ہے، حزب اللہ کی عسکری مہمات میں استعمال ہوا تھا۔

اللوش نے کہا کہ ان سوالات کا جواب "حکام کی طرف سے ایک شفاف تفتیش سے حاصل کیا جانا چاہیے جو کہ بدقسمتی سے حزب اللہ کی ذیلی حکومت کے محکوم ہیں"۔

لی حق کے کارکن ابو چکرا نے کہا کہ حزب اللہ "سیاسی نظام کا حصہ ہونے کے ناطے، بندرگاہ کے دھماکے اور گنجان آبادی والے علاقوں کے قریب خطرناک اور نظرانداز شدہ مواد کی موجودگی کی ذمہ دار ہے"۔

انہوں نے کہا کہ تاہم، "اس بات کے بارے میں شبہ ہے کہ تفتیش، ذمہ دار افراد کا نام لے گی" کیونکہ مجرم سیاسی طبقہ کے ارکان ایک دوسرے پر پردہ ڈالتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500