https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/08/10/feature-02
صحت

پاکستان کووڈ-19 انفیکشنز، ہلاکتوں میں قابلِ قدر کمی کے بعد دوبارہ سے کھل گیا

اشفاق یوسف زئی

image

حکومت کی طرف سے اس اعلان کے بعد کہ وہ ملک میں کرونا وائس کی زیادہ تر پابندیوں کو اٹھا رہی ہے، راولپنڈی کے باڈی بلڈنگ جم میں لوگ 8 اگست، 2020 کو ورزش کر رہے ہیں۔ [فاروق نعیم /اے ایف پی]

پشاور -- پاکستان میں تمام ریسٹورانٹ اور باغات اور اس کے ساتھ ساتھ تھیٹر، سینما گھر اور پبلک ٹرانسپوٹ، پیر (10 اگست) سے کھل رہی ہے کیونکہ کرونا وائرس کے نئے کیسوں اور اس وائرس سے ہونے والی ہلکاتوں میں قابلِ قدر کمی آئی ہے۔

اگست تک، کرونا وائرس سے ہونے والی انفیکشنز اور اموات اپنی بلند ترین سطح سے 90 فیصد تک نیچے آ چکی ہیں۔

اسد عمر جو کہ کرونا وائرس سے جنگ کے لیے ٹاسک فورس کے سربراہ ہیں نے کہا کہ اسکول اور یونیورسٹیاں، حتمی جائزے کے بعد، 15 ستمبر سے کھل جانے کی توقع ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں اس ہلاکت خیز وائرس سے روزانہ ہونے والی ہلاکتوں کی بلند ترین سطح جون میں 150 تک پہنچ گئی تھی۔ مگر اس کے بعد اعداد و شمار میں مسلسل کمی آتی رہی ہے اور 6 اگست کو صرف 21 نئی ہلاکتوں کی خبر آئی ہے۔

image

صحتِ عامہ کے کارکن 17 جولائی کو پشاور پریس کلب میں صحافیوں کے خون کے نمونے اکٹھے کر رہے ہیں تاکہ ان کا کووڈ-19 کی اینٹی باڈیز کے لیے ٹیسٹ کیا جا سکے۔ [شہباز بٹ]

عالمی ادارہِ صحت کی طرف سے پاکستان کے نمائندے ڈاکٹر پالیتھا گناراتھہ مہیپالا نے کہا کہ "پاکستان کی طرف سے کووڈ-19 کے بارے میں بروقت ردِعمل علاقے میں سب سے بہتر تھا مگر ابھی بھی اسے جسمانی طور پر فاصلہ رکھنے، ماسک پہننے اور ہاتھ دھونے کے اقدامات کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے تاکہ ان حاصل شدہ کامیابیوں کو برقرار رکھا جا سکے"۔

مہیپالا کے مطابق، 25 جولائی کو کرونا وائرس کے تقریبا 260 مریض وینٹی لیٹرز پر تھے مگر 6 اگست کو یہ تعداد کم ہو کر 99 ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے کیسوں کی تعداد جو کہ پہلے 5,000 روزانہ تھی، سے کم ہو گئی ہے۔ "21 جولائی سے 5 اگست تک، ہم نے روزانہ 250 نئے کیس ریکارڈ کیے ہیں"۔

کووڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں پاکستان کی حالیہ کامیابی، ایران اور چین کے ان اقدامات کے باجود سامنے آئی ہے جنہوں نے اس بحران کو مزید سنگین کر دیا تھا۔

انفیکشن زدہ زائرین

فروری میں اس عالمگیر وباء کے آغاز میں، ایرانی حکومت نے ہزاروں پاکستانی زائرین کو وائرس کے ٹیسٹ کیے بغیر ملک بدر کر دیا تھا جس کے نتیجہ میں یہ بیماری مقامی آبادی میں پھیل گئی۔ اپریل تک، پاکستان میں انفیکشن زدہ افراد میں سے 51 فیصد کا تعلق ان زائرین سے جا ملتا تھا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عمر فاروق نے کہا کہ حکومت نےزائرین کو صحیح سے نہیں سنبھالااور انہیں اس بات کو جاننے کے باوجود کہ ان میں سے اکثریت کووڈ -19 سے متاثر ہو چکی ہے، زبردستی پاکستان بھیج دیا۔

انہوں نے کہا کہ "ایران سے آنے والے ایسے افراد جن میں وائرس موجود تھا مقامی افراد سے ملے اور اس طرح یہ انفیکشن پھیلتی گئی"۔

فاروق نے کہا کہ "عالمگیر وباء کے شروع کے دنوں میں پاکستان کو مقامی ماہرین کی طرف سے اس بات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ وہ ایران سے آنے والوں کا ٹیسٹ کرنے اور انہیں باقی آبادی سے دور رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ تاہم، ہم نے مئی میں لوگوں کو قرنطینہ میں رکھ کر صورتِ حال پر قابو پا لیا"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان نے پہلے تافتان میں ایران کے ساتھ بارڈر کراسنگ پر 7,000 زائرین کو قرنطینہ میں رکھا اور پھر کے پی (خیبر پختونخواہ) اور پنجاب کے صوبوں میں، اور انہیں اس وقت چھوڑا جب ان کے ٹیسٹ منفی آئے"۔

سات اگست تک، ایران کی حکومت نے 323,000 سے زیادہ مصدقہ کیسوں اور 18,100 سے زیادہ اموات کی اطلاع دی ہے۔

تاہم، ایران میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد حکومت کی طرف سے بتائی جانے والی تعداد سے تقریبا تین گنا زیادہ ہے۔ یہ خبر بی بی سی کی فارسی سروس نے 3 اگست کو دی ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، 20 جولائی تک تقریبا 42,000 مریض کووڈ -19 کی علامات کے ساتھ ہلاک ہوئے جبکہ حکومت کی وزارتِ صحت کی طرف سے اسی دورانیے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14,405 بتائی گئی ہے۔

ایسے مریضوں کی تعداد جو کہ اس انفیکشن سے متاثر ہوئے ہیں، حکومتی اعداد و شمار سے تقریبا دوگنا ہے: 278,827 کے مقابلے میں 451,024.

چین کی غلط اطلاعات، ناقص پی پی ای

چین جو کہ اس وائرس کا گڑھ ہے، نے بھی پاکستان کی کوئی مدد نہیں کی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں وبائی امراض کے ایک ماہر ڈاکٹر امجد جلال نے کہا کہ بیجنگ، جس نے ووہان میں اس وائرس کا پتہ 2019 کے آخیر میں لگا لیا تھا، سے توقع تھی کہ وہ اس عالمگیر وباء کے بارے میں مفید معلومات دے گا اور اس بیماری سے نپٹنے کے لیے دنیا کی مدد کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس، چین کی حکومت نے دوسروں کو الزام دینے کا کھیل شروع کر دیا۔

جلال نے کہا کہ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے مارچ کو ایک ٹوئٹ میں جھوٹا دعوی کیا کہ امریکی فوج نے ووہان میں کووڈ-19 کو متعارف کروایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ژاؤ نے بعد میں ایک نیوز کانفرنس میں اپنے اس الزام سے مُکر گئے۔

پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ، اسلام آباد کے شفیق شاہ نے کہا کہ چین نے یہ جھوٹا دعوی بھی کیا کہ اس نے وائرس کے پھیلاؤ کو روک لیا ہے۔

شاہ نے مزید کہا کہ اسی دوران، بیجنگ نے "ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای)، وینٹی لیٹر، ماسک اور ٹیسٹنگ کٹز یورپین ممالک اور پاکستان کو فراہم کیں جنہیں بعد میں نامناسب اور ناقص پایا گیا"۔

ڈاکٹروں نے جولائی میں کہا کہ "چین میں بنائے جانے والے ناقص وینٹی لیٹر،پاکستان میں کووڈ-19 سے ہونے والی ہلاکتوں کی بڑی تعداد کی بڑی وجہ تھے"۔

سوات کے سیدو ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ "ناقص وینٹی لیٹر کووڈ -19 کے بہت سے ایسے مریضوں کی ہلاکت کی بڑی وجہ تھے جنہیں انتہائی نگہداشت کے یونٹوں میں مشین سے سانس لینے کی ضرورت تھی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "وینٹی لیٹر اچھے معیار کے نہیں تھے جن کے باعث مریضوں کو اپنی جانوں سے محروم ہونا پڑا"۔

چین سے آنے والا ناقص پی پی ای بھی پاکستان کے صحت عامہ کے کارکنوں کی بڑی تعداد کی ہلاکتوں سے جڑا ہوا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)