میڈیا

کرونا وائرس سے متعلق روس اور چین سے نکلنے والی غلط معلومات نے بیرونِ ملک قدم جما لیے

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

یکم جولائی کو جیسا کہ روسی اس آئینی ترمیم پر بیلٹ کے آخری روز ووٹ ڈال رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر صدر ولادی میر پیوٹین کا 2036 تک اقتدار میں رہنا ممکن بنائے گی، جبکہ ایک شخص "دھوکہ دہی" کے الفاظ سے مزین فیس ماسک پہنے ماسکو میں پُشکِن سکوائر پر روس کے آئین میں ترامیم کے خلاف احتجاج کر رہا ہے۔ [ِکرِل کُدریاوت ژیو/اے ایف پی]

نئی تحقیق کے مطابق، کرونا وائرس سے متعلق غلط معلومات، جنہیںروسی اور چینی صحافیوں نے پھیلایا، دنیا بھر میں اول درجہ کے نیوز آؤٹ لیٹس کی جانب سے تیار شدہ مواد سے زیادہ بڑے سامعین تلاش کر رہی ہیں۔

آکسفورڈ انٹرنیٹ سکول نے پیر (جون 29) کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا کہ خوہ یہ ٹوٹی پھوٹی کوریج ہے یا سیدھے سیدھے نظریاتِ سازش، غیر ملکی ریاستی میڈیا کی جانب سے فرانسیسی اور جرمن زبان میں لکھے گئے مکالے وسیع پیمانے پر فیس بک اور ٹویٹر پر زیرِ گردش ہیں، اور بیشتر کا نقطہٴ آغاز واضح نہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک جُزُ، اس ادارے نے روس اور چین کے ساتھ ساتھ ایران اور ترکی کے چوٹی کے میڈیا آؤٹ لیٹس کی جانب سے تشکیل دیے مواد کا مشاہدہ کیا – جو تمام یا تو ریاست کے زیرِ انتظام ہیں یا برسرِ اقتدار حکومتوں کے ساتھ قریبی طور پر معاونت رکھتے ہیں۔

اس ادارے نے کہا، اپنے فرانسیسی، جرمن اور ہسپانوی زبانوں کے ریاستی میڈیا گروپس میں انہوں نے "مغربی جمہوریتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے اور اپنے ملکوں کی ستائش کرتے ہوئے اور وائرس کے آغاز سے متعلق نظریاتِ سازش کو فروغ دیتے ہوئے کرونا وائرس کو سیاسی رنگ دیا ہے۔"

image

12 نومبر، 2017 کو لی گئی ایک تصویر میں سپوٹنِک نیوز ایجنسی چلانے والے روسیہ سیگودنیا ریاستی میڈیا گروپ کا ماسکو میں صدر دفتر دکھایا گیا ہے۔ [کِرِل کُدریاوت ژیو/اے ایف پی]

آکسفورڈ کے محقِق جوناتھن برائیٹ نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، "ان آؤٹ لیٹس پر موجود مواد کی اکثریت حقائق پر مبنی ہے۔ لیکن جو ان کے پاس ہے، بطورِ خاص اگر آپ روسی آؤٹ لیٹس کو دیکھیں، وہ جمہوری ممالک کو بدنام کرنے کا ایک ایجنڈا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "بنیادی بیانیے میں احتیاط کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے کہ جمہوریت تباہی کے دہانے پر ہے۔"

اس ادارے نے ایرانی اور ترک نیٹ ورکس سے غیر ملکی زبانوں میں آؤٹ پٹ کے ساتھ ساتھ روس کے آر ٹی براڈکاسٹر اور سپُٹنیک نیوز ایجنسی، چین کے گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (سی جی ٹی این)، چائنا ریڈیو انٹرنیشنل (سی آر آئی) اور ژنہاؤ نیوز ایجنسی کا مشاہدہ کیا۔

امریکہ مخالف احساسات کا فروغ

اس نے شیئر کیے جانے والے ہر مکالے کی اوسط توجہ کی پیمائش کی – کہ ایک صارف کتنی مرتبہ فیس بک پر کسی مکالے کو شیئر یا لائیک کرتا ہے، یا ٹویٹر پر اس سے متعلق کمینٹس یا ری ٹویٹ کرتا ہے۔

اس تحقیق نے 18 مئی سے 5 جون تک ہر آؤٹ لیٹ کی 20 معروف ترین سٹوریز کو کور کیا۔

اس سے قبل اس ادارے کی اپریل کی تحقیق میں پتا چلا کہ انگریزی میں، انہیں ریاستی میڈیا گروپس سے شدید سیاسی رنگ دی جانے والی سٹوریز کو بی بی سی جیسے زیادہ دھیمے مزاج ذرائع کی نسبت صارفین کی 10 گنا تک زیادہ توجہ حاصل ہوتی ہے۔

برائیٹ نے کہا، "سوشل میڈیا کا ایک نمایاں حصہ وہ لوگ ہیں جو غیر ملکی حکومتوں کی جانب سے براہِ راست مالیات فراہم کیے گئے مواد کو استعمال کر رہے ہیں، اور قارئین کو اس حقیقت کا پوری طرح ادراک نہیں۔"

ہسپانوی زبان کے مواد میں بھی توجہ کے اسی قسم کے درجات دیکھے گئے، جس میں ایرانی ریاستی براڈ کاسٹر سروس ہسپان ٹی وی سے بھی مواد شامل ہے، جو رپورٹ کے مطابق، لاطینی امریکہ میں سامعین کے لیے روسی آؤٹ لیٹ کی "امریکہ مخالف احساسات" کے فروغ کو شیئر کرتا ہے۔

فرانسیسی اور جرمن مثالوں میں "جیلیٹس جاؤنیس" کی روسی آؤٹ لیٹ کی فرانس میں احتجاجی تحریک، اور کوویڈ۔19 اور یورپ میں معاشی بحران کو یقینی بنانا شامل ہیں۔

اس رپورٹ نے ترکی کے ٹی آر ٹی سے جرمن، فرانسیسی اور ہسپانوی مواد کا بھی مشاہدہ کیا، جس کے بارے میں اس نے کہا کہ زیادہ تر ترک حکومت کے وبا کے خلاف اقدامات کی مثبت تصویر کشی پر مرکوز رہا۔

اس کے برعکس، اس نے کہا کہ، روسی، چینی اور ایرانی میڈیا نے سب بے بنیاد نظریات کو فروغ دیا،بشمول اس کے کہ امریکی فوج نے کروناوائرس چھوڑا، جو گزشتہ برس کے اواخر میں وُوہان، چین سے شروع ہوا۔

زیرِ بحث میڈیا تنظیمیں دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ خبروں میں غیر مغربی نقطہٴ نظر پیش کرتی ہیں اور وہ اس امر کی تردید کرتی ہیں کہ وہ پراپیگنڈا پھیلا رہی ہیں۔

آکسفورڈ رپورٹ کے ردِّ عمل میں ایک بیان دیتے ہوئے، آر ٹی فرانس نے کہا کہ وہ "ان الزامات کی شدید مخالفت کرتا ہے" اور اصرار کیا کہ اس نے عالمی وبا کو انہیں سطور پر کور کیا جن پر دیگر فرانسیسی میڈیا نے کیا۔

اس میں کہا گیا، "اس کا ’مغربی جمہوریتوں‘ پر تنقید یا ’جمہوری ممالک کی بدنامی‘ سے کچھ لینا دینا نہیں۔"

فرانس میں صدر ایمینوئیل میکرون نے آر ٹی پر 2017 کے صدارتی انتخابات کے دوران "گمراہ کن پراپیگنڈا" پھیلانے کا الزام لگایا تھا۔

برطانیہ میں اس روسی نیٹ ورک پر میڈیا کے غیر متعصب ہونے کے اصولوں کو توڑنے کے لیے جرمانہ کیا جا چکا ہے۔

گزشتہ ہفتے بیجنگ نے امریکہ میں اپنے چار مزید میڈیا گروپس کے بطور "غیرملکی مشنز" درجہ بندی ہونے کے بعد ردِّ عمل دینے کی دھمکی دی۔

ان چاروں نے سی جی ٹی این, سی آر آئی اور ژنہوا میں شمولیت اختیار کر لی، جسے واشنگٹن پہلے ہی ایک میڈیا کے بجائے ریاستی پشت پناہی کا حامل کردار قرار دے چکا ہے۔

’ہائبریڈ جنگ‘

مشاہدین نے مئی میں نشاندہی کی کہ چینی اور روسی حکومتیںکرونا وائرس وبا سے متعلق غلط بیانیے پھیلانے کے لیے تعاون بڑھا رہی ہیں، جبکہ بیجنگ ماسکو کی جانب سے بہتر بنائی گئی تکنیکوں کو تیز رفتاری سے اپنا رہا ہے۔

ٹویٹر نے 12 جون کو کہا کہ اس نے حکومتِ چین کی غلط معلومات کی مہمات سے مربوط 170,000 اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیے ہیں، اور یورپی یونیئن (ای یو) نے قبل ازاں 9 جون کو چین اور روس کی حکومتوں پر یورپی جمہوریتوں کی بیخ کنی کے لیے کرونا وائرس سے متعلق غلط معلومات کی ٹارگٹیڈ مہمات چلانے کا الزام لگایا تھا۔

بشکیک سے ایک سیاسیات دان اسکات دوکینباژیو غلط معلومات کی روسی مہمات کو صدر پیوٹین کی حکومت کی مغربی ممالک کے خلاف نئے "ہائبریڈ وار" نظریہ کا جزُ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے جون میں کہا کہ ماسکو "سرد جنگ میں اپنی شکست کے ساتھ ساتھ ان بعد از سوویت ممالک سے بدلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے جو سابقہ میٹروپول [نوآبادکاری طاقت] کے رسوخ سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500