دہشتگردی

پاکستانی حکام نے داعش -کے کریک ڈاؤن پر دباؤ قائم رکھا ہے

زرق خان

image

کوئٹہ میں 25 دسمبر کو کرسمس کی دعاء کے دوران، ایک پولیس اہلکار چرچ کے باہر نگرانی کر رہا ہے۔ [بنارس خان/ اے ایف پی]

پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے، "دولتِ اسلامیہ" کی خراسان شاخ (داعش -کے) پر کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہیں جو ہمسایہ ملک افغانستان میں گزشتہ سال سابقہ حکومت کے سقوط کے بعد، سیکورٹی کے ممکنہ خطرات کو روکنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

پاکستانی حکام نے 29 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 2021 کے دوران، خیبر پختونخواہ (کے پی) میں داعش-کے، کے پانچ بڑے گروہوں کو توڑا ہے۔

کے پی میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے پشاور کے علاقے میں تین اور بنوں ڈویژن میں ایک گروہ کو توڑا ہے۔ یہ بات انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ (سی ٹی ڈی) کے ایک اعلی اہلکار، جاوید اقبال وزیر نے پشاور میں بتائی۔

پاکستانی حکام نے حالیہ مہینوں میں داعش- کے، کے خلاف بہت سی مہمات سر انجام دی ہیں۔

image

کراچی کی ایک سڑک پر، پولیس اہلکار 2020 میں موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص کو روک رہا ہے۔ [زرق خان]

پشاور پولیس نے 20 دسمبر کو، فقیر آباد کے علاقے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی جانے والی کاروائی میں داعش کے، کے تین عسکریت پسندوں کو، جن میں ایک سینئر کمانڈر بھی شامل تھا، ہلاک کر دیا۔

کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور عباس احسان کے مطابق، عسکریت پسند، ایک سکھ حیکم کے 3 اکتوبر کو ہونے والے قتل اور پشاور میں پولیس افسران پر ہونے والے حملوں میں ملوث تھے۔

سی ٹی ڈی نے 21 اکتوبر کو داعش -کے، کے تین عسکریت پسندوں کو پشاور کے علاقے شاہپور میں ایک چھاپے کے دوران ہلاک کر دیا۔ جیو ٹی وی نے خبر دی ہے کہ دیگر تین عسکریت پسند موقع سے فرار ہو گئے۔ حکام نے ہلاک ہونے والوں سے ہتھیار اور گولہ بارود بازیاب کیا ہے۔

دریں اثناء، 22 اکتوبر کو سی ٹی ڈی نے صوبہ بلوچستان کی مستانگ ڈسٹرکٹ میں، ایک ذریعہ سے خفیہ اطلاع ملنے کے بعد، داعش- کے، کے تین ارکان کو ہلاک کر دیا۔

ستمبر میں مستانگ میں ہونے والے ایک اور آپریشن میں،سیکورٹی فورسز نے داعش-کے، کے کمانڈر ممتاز احمد جو کہ پہلوان کے نام سے بھی جانے جاتے تھے اور جنہوں نے 2018 کی انتخابی ریلی میں ہونے والے بم دھماکے کی منصوبہ سازی کی تھی جس میں ضلع میں 150 سے زیادہ افراد ہلاک اور کئی سو زخمی ہو گئے تھے، کو ہلاک کر دیا۔

داعش-کے، نے اپنے اردو زبان کے جریدے یلغار میں، احمد جن کے سر کی قیمت پاکستانی حکام نے ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے (8،500 امریکی ڈالر) مقرر کی تھی، کی قصیدہ خوانی کی۔

داعش- کے، کے حملوں میں اضافہ

قانون نافذ کرنے والے ایک سینئر اہلکار نے گمنام رہنے کی شرط پر بتایا کہ داعش-کے نے پاکستان میں 2021 کے دوران کم از کم 19 حملے کیے ہیں۔

ان میں جمعیت علمائے اسلام (فضل) کے مقامی راہنما کا باجوڑ ڈسٹرکٹ میں 22 نومبر کو قتل اور 13 نومبر کو ان دو پولیس اہلکاروں کا قتل جو باجوڑ میں ایک ڈیم کی حفاظت کر رہے تھے، شامل ہیں۔

اہلکار نے کہا کہ "داعش-کے، کے زیادہ تر حملے، جن میں پولیس اہلکاروں اور پولیو کے قطرے پلانے والوں کو نشانہ بنایا جاتے ہیں، خیبر پختون خواہ میں کیے گئے"۔

داعش-کے میں دو کالعدم دہشت گرد گروہوں، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے) کے سابقہ ارکان کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔

اہلکار نے کہا کہ "اگرچہ ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کی اکثریت نے داعش- کے، کے ساتھ اپنی وابستگی ختم کر دی ہے مگر بہت بڑی تعداد ۔۔۔ باجوڑ اور اورکزئی ڈسٹرکٹس سے تعلق رکھنے والے اور ایل ای جے کے دھڑوں سے تعلق رکھنے والے ۔۔۔ ابھی بھی دہشت گردی کے اس بین الاقوامی گروہ سے تعلق قائم رکھے ہوئے ہیں"۔

جون میں، داعش- کے، کے 18اٹھارہ مبینہ ارکان، سی ٹی ڈی سندھ کی ریڈ بُک کے تازہ شمارے میں موجود عسکریت پسندوں کی فہرست میں شامل تھے۔ یہ فہرست مطلوبہ دہشت گردوں اور عسکریت پسند ملزمان پر مشتمل ہوتی ہے۔

داعش کے اعلی راہنماؤں نے پاکستان اور افغانستان کے لیے اپنی خراسان شاخ کو جولائی 2014 میں قائم کیا تھا۔

پاکستان میں، داعش- کے، نے مسلمان اقلیتوں جیسے کہ شیعہ اور صوفیوں کو نشانہ بنانے سے فرقہ واریت کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔

تاہم، داعش افغانستان اور پاکستان دونوں میں ہی، مشرقِ وسطی میں اپنی علاقائی جنگ ہارنے اور 2019 میں ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے بعد سے، اپنا زور کھو چکی ہے۔

تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ سیکورٹی کے فوری ردِعمل اور گروہ کے نظریہ کو معاشرے کی طرف سے رد کیے جانے کے باعث، داعش پاکستان میں اپنی دیرپا موجودگی قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ گروہ نے اس کے لیے سنجیدگی سے کوشش نہیں کی۔

کئی سالوں کے دورانیے میں، داعش سے متعلقہ یا اس سے متاثر ہونے والے عسکریت پسندوں نے پاکستان میں کئی سفاکانہ حملے کیے ہیں جن میں اقلیتی گروہوں، سیکورٹی فورسز اور دیگر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

لیکن پاکستان کا متنوع ثقافتی، مذہبی اور نسلی منظر نامہ ایسی پرتشدد انتہا پسندی کے لیے غیر موزوں ثابت ہوا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500