سلامتی

قتل کی غیر موزوں ویڈیو کے ساتھ داعش پاکستان میں فرقہ ورانہ اختلاف بھڑکانے کی متلاشی

عبدالغنی کاکڑ

image

اس ویڈیو سکرین شاٹ میں پاکستان میں شعیوں کے سر قلم کرنے سے چند لمحے قبل داعش کے ارکان انہیں باندھ رہے ہیں۔ [فائل]

کوئٹہ – آن لائن پھیلائی گئی قتل کی ایک غیرموزوں ویڈیو میں "دولتِ اسلامیہ" کی خراسان شاخ (آئی ایس آئی ایس- کے) نے پاکستان کی شعیہ اقلیت پر توہینِ مذہب اور ایرانی مفادات کے لیے بدامنی پھیلانے کا الزام لگایا۔

3 جنوری کو صوبہ بلوچستان کے علاقہ مچ میں کوئلہ کے 11 ہزارہ کارکنان کے قتل کی فوٹیج تک پہنچنے سے قبل اس ویڈیو میں متعدد داعش کرداروں کو فرقہ ورانہ اختلاف پیدا کرنے کی کوشش میں گالیاں بکتے سنا جا سکتا ہے۔

19 مارچ کو ٹیلی گرام پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں حکومتِ پاکستان پر ملک میں شریعت کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ بننے کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان میں "دشمنانِ اسلام" کو نظریہٴ اسلام پر آزادانہ عنانِ اختیار دیا گیا ہے۔

ویڈیو میں متعدد مقامات پر داعش ایرانی پشت پناہی کے حامل دو گروہوں – فاطمیون ڈویژناور زینبیون برگیڈ– کی پاکستان اور خطے میں فرقہ ورانہ اختلاف کو اشتعال دلانے کی سرگرمیوں کی جانب بھی اشارہ کیا گیا۔

image

19 مارچ کو ٹیلی گرام پر اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو کے اس سکرین شاٹ میں پاکستان میں تین داعش ارکان دکھائے گئے ہیں۔ [فائل]

نجی سیٹلائیٹ نیوز چینل سماء کے مطابق، 2003 اور 2021 کے درمیان 22 بڑے حملوں میں ہزارہ اقلیت کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 489 جانیں گئیں، جس کا الزام داعش کے سمیت شعیہ مخالف گروہوں پر لگایا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ بدامنی کے شکار بلوچستان، جس کی سرحد افغانستان اور ایران سے ملتی ہے، میں صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

افغان امن کے عمل کو تیز تر کرنے کے مقصد سے 30 مارچ کو دوشنبے، تاجکستان میں ہارٹ آف ایشیا-استنبول پریس کانفرنس میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمدود قریشی نے "خراب کرنے والے" کے کردار کو تنبیہ کی۔

انہوں نے جاری تشدد پر خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ داعش اور القاعدہ کے حاصل کیے گئے کسی بھی قدر علاقہ سے دہشتگردی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

قریشی نے کہا، "ہمیں خدشہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور معاشی مواقع کی کمی افغان امن کے عمل میں ابھی تک حاصل ہونے والے فوائد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔"

خامیوں والے مقامات

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک سنیئر انٹیلی جنس حکام، جنہوں نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی درخواست کی، نے کہا کہ "دشمن" نے شعیہ اور سنی برادریوں کے مابین دشمنی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں داعش کا بنیادی مقصد "ملک میں مختلف فرقوں کے ارکان کے مابین تقسیم پیدا کرنے کے لیے مذہبی منافرت پیدا کرنا ہے۔"

اس اہلکار نے حوالہ دیا کہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے نتیجہ کے طور پر "بلوچستان اور پاکستان کے دیگر بد امن حصوں میں ماضی کے مقابلہ میں فرقہ ورانہ دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم صرف فاٹا [وفاق کے زیرِ انتظام سابقہ قبائلی علاقہ جات]، شمالی وزیرستان یا سرحدی علاقوں میں آپریشن نہیں کر رہے۔ یہ ٹارگٹڈ آپریشن ملک بھر میں کیا جا رہا ہے کیوں کہ شدت پسندوں کے سلیپر سیل ملک بھر میں موجود ہیں۔"

انسدادِ دہشتگردی کے تجزیہ کار اور کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل عبدالرزّاق چیمہ کے مطابق، داعش بلوچستان میں خامیوں والے علاقوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے، جو پہلے ہی ملک کا شورش سے متاثرہ علاقہ ہے۔

چیمہ نے کہا، "جامع پولیسنگ نظام کو یقینی بنانا ضرورتِ وقت ہے تاکہ نفاذِ قانون کی ایجنسیاں امنِ عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کاوشوں کو ہموار کریں۔"

انہوں نے کہا، "بلوچستان میں متعدد علاقے تا حال لیویز [قبائلی پٹی میں قبل ازاں موثر پیرا ملٹری فورسز] کے زیرِ انتظام ہیں، جو انسدادِ دہشتگردی کی تیز تر ڈیڈلائنز پر پورا نہیں اتر سکتی۔"

چیمہ نے مزید کہا، "لہٰذا لیویز کے علاقوں کا پولیس کی عملداری میں انضمام نہایت ضروری ہے۔" انہوں نے ملک کو درپیش عدم استحکام کی جانب لے جانے والے داخلی اور خارجی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ "لہٰذا لیویز کے علاقوں کا پولیس کی عملداری میں انضمام ناگزیر ہے۔"

انہوں نے کہا، "پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر ہے، اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بُنی جانے والی سازشوں کو ناکام بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔"

چیمہ نے کہا کہ دہشتگرد سرحدی علاقوں پر نظریں لگائے ہوئے ہیں اور عوام کے مابین خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ مایوس ہو جائیں اور سیکیورٹی فورسز پر ان کا اعتماد ختم ہو جائے۔

پاکستان میں عدم استحکام

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے وزارتِ دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار احد خان نے کہا کہ داعش کو پاکستان میں متعدد کالعدم گروہوں، بشمول تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے علیحدہ ہونے والے دھڑے جنداللہ اور لشکرِ جھنگوی کی حمایت حاصل ہے۔

ایسے شواہد بھی ہیں کہ حقانی نیٹ ورک اور داعش افغانستان میں دہشتگردانہ حملوں میں معاونت کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک ٹی ٹی پی ترجمان سمیت فاٹا کی ایجنسیوں اورکزئی، کرم اور خیبر اور ضلع ہنگو، خیبر پختونخوا سے طالبان کمانڈرروں نے اس وقت کے داعش رہنما ابو بکر البغدادی کے ساتھ اتحاد کا عہد کیا تھا۔

البغدادی اکتوبر 2019 میں شام میں امریکہ کے زیرِ قیادت ایک حملے میں ہلاک ہوئے۔

"خان نے کہا، "اس وقت دشمن ایک اچھی طرح سے منظم منصوبے کے تحت، مختلف زاویوں سے ہم پر ایک ہائبریڈ جنگ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کا بنیادی مقصد ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو روکنا ہے۔ دشمن ترقیاتی منصوبوں کے خلاف منصوبہ سازی کر رہا ہے اور نہیں چاہتا کہ پاکستان کی معاشی صورتِ حال بہتر ہو۔"

انہوں نے کہا کہ کالعدم دہشتگرد گروہ دہشت پھیلا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے، انہوں نے مزید کہا، "داعش اور دیگر عسکریت پسند گروہ ہماری سرزمین پر ازسرِ نو فعال ہو رہے ہیں کیوںکہ دشمن عناصر اب ایک نئی حکمتِ عملی کے تحت فرقہ ورانہ فسادات پھیلانا چاہتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

ایک نہایت جامع مکالہ. میرا خیال ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خطرہ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کو ایک نتیجہ خیز منصوبہ کی ضرورت ہے، کیوںکہ معاشرہ کے شدت پسندی کے عنصر میں اس گروہ کی گہری جڑیں ہیں. جاوید حسین

جواب