سلامتی

زینبیون کے بھرتی کار کی گرفتاری پاکستان کے ساتھ ایرانی رویے کی عکاس ہے

عبدل غنی کاکڑ

image

گزشتہ جون میں، پولیس کمانڈوز کراچی میں گشت کر رہے ہیں۔ [آصف حسین/ اے ایف پی]

کوئٹہ -- زینبیون برگیڈ کے بھرتی کار کی کراچی میں حالیہ گرفتاری نے ایک بار پھر، ایرانی حکومت کی پاکستان کے اندر جاری پریشان کن سرگرمیوں پر روشنی ڈالی ہے۔

جنوری کے آخیر میں، انسدادِ دہشت گردی کے ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے زینبیون برگیڈ کے "انتہائی مطلوبہ" عسکریت پسند عباس جعفری کو ایک چھاپے کے دوران گرفتار کر لیا۔

جعفری، کراچی میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے جاسوسی کرنے کے علاوہ، مبینہ طور پر شیعہ نوجوانوں کو ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کی زیرِ ہدایت بھرتی کرنے اور انہیں جنگوں میں لڑنے کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے میں بھی ملوث تھا۔

عرب نیوز کے مطابق، سی ٹی ڈی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل عمر شاہد نے کہا کہ جعفری "نے عسکری تربیت ہمسایہ ملک ایران میں حاصل کی تھی"۔

دسمبر میں، سی ٹی ڈی نے کہا تھا کہ اس نے، گزشتہ چھ سال میں ہلاکتوں کے ایک سلسلے سے تعلق میں، کراچی سے زینبیون برگیڈ کے دیگر دو ارکان کو گرفتار کر لیا تھا۔

پاکستان کی وزارتِ دفاع کے ایک اعلی عہدہ دار نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ابھی تک جن عسکریت پسندوں کو، ملک گیر آپریشن میں گرفتار کیا گیا ہے، نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ انہیں پاراچنار، کراچی، کرم ایجنسی، خوشاب پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں تربیت اور ایران کی طرف سے سرمایہ فراہم کیا جا رہا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ایران اس وقت بحران کی حالت میں، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے اسٹریٹجک اہداف کا مددگار بنے"۔

حالیہ مہینوں میں، ایران کی حمایت یافتہ نئی ملیشیاء جس کے زینبیون برگیڈ سے تعلقات ہیں، مشرقی شام میں ابھری ہے۔

نومبر میں، پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ ایرانی انٹیلیجنس ایجنٹوں نے پاکستان میں شیعہ اور سنی علماء کی بڑی تعداد کو بھرتی کیا ہے جو کہ ملک میں تہران کے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور علاقے بھر میں اس کی پراکسی جنگوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

نوجوانوں کا استحصال

ایرانی حکومت کی طرف سے، 2011 میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک، کیے جانے والے بہت سے جرائم اور مظالم میں سے، تنازعہ میں ایرانی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے افغان اور پاکستانی نوجوانوں کا استحصال، شائد سب سے زیادہ گھناونا اور سب سے کم سجھا جانے والا ہے ۔

آئی آر جی سی، فاطمیون ڈویژن -- جو افغانوں پر مشتمل ملیشیاء ہے -- اور زینبیون برگیڈ -- جو کہ پاکستانیوں پر مبنی ملیشیاء ہے -- کو سرمایہ، تربیت اور ہتھیار فراہم کرتی ہے۔

گزشتہ سالوں میں، ہزاروں پاکستانی اور افغان جنگجو مبینہ طور پر شام کی لڑائی میں ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ایسی مہمات میں، جو صدر بشار الاسد کی حکومت، جو کہ ایران کا قریبی ساتھی ہے، کی مدد کے لیے انجام دی گئیں ۔

شام کی خانہ جنگی کے ابتدائی دنوں سے اب تک، آئی آر جی سی کے کارندوں نے افغان اور پاکستانی شہریوں کو بھرتی کرنے کے لیے نظریات، مالی ترغیبات اور جبر کے مرکب کو استعمال کیا ہے اور انہیں شام کے میدانِ جنگ میں صرف چارے کے طور پر ہی استعمال کیا گیا ہے۔

آئی آر جی سی کے بھرتی کار وعدہ کرتے ہیں کہ یہ نوجوان مرد، بھاری تنخواہوں اور ایرانی شہریت کے تبادلے میں ، مقدس شیعہ مزارات کا دفاع کریں گے۔

تاہم، حقیقت اس سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

اگرچہ تخمینے مختلف ہیں اور ان کی تصدیق کرنا مشکل ہے، مگرمشاہدین کی اکثریت اتفاق کرتی ہے کہ شام میں فاطمیون اور زینبیون برگیڈ کے ہلاک اور زخمی ہونے والے ارکان کی تعداد -- جن میں سے اکثریت کم عمر تھی -- ہزاروں میں ہے۔

خبروں کے مطابق، ہلاک ہونے والے جنگجوؤں میں سے بہت سے شام اور ایران میں اجتماعی قبروں میں دفن ہیں، اور افغانستان اور پاکستان میں ان کے غم زدہ خاندان اپنے بیٹوں کے انجام کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔

ہلاک اور زخمی ہو جانے والے عسکریت پسندوں کے اہلِ خاندان کو ایران کی طرف سے نہ ہونے کے برابر مدد ملتی ہے -- یہ حقیقت علاقائی مشاہدین اور افغانی اور پاکستانی جنگجوؤں کے خاندانوں سے کیے جانے والے ان گنت انٹرویوز سے سامنے آئی ہے۔

زیادہ تر واقعات میں، ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کے اہلِ خاندان کو گھر، مالی امداد اور ایرانی شہریت دینے جیسے وعدے ہوا ہو گئے ہیں اور انہوں نے غم زدہ بیواؤں اور بچوں کو اپنا آپ خود سنبھالنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔

پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے دفاعی تجزیہ نگار جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے کہا کہ "اگر پاکستان علاقے میں اپنی سیکورٹی کو مضبوط کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "علاقے کی صورتِ حال میں ہونے والی پیش رفت کے بعد، یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ملک میں، غیر ملکی اثر و رسوخ کو ختم کیا جائے۔ گزشتہ بیس سالوں سے، ایران نے مسلسل پاکستان مخالف بیان بازی کی ہے، یہاں تک کہ سفارتی سطح پر بھی"۔

مسعود نے کہا کہ "ملک سیکورٹی کو درپیش خطرات کا، ملک کو تقسیم کرنے والے مسائل کی طرف توجہ دیے بغیر مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ فرقہ ورانہ تقسیم، پاکستان میں امن مخالف عناصر کے لیے ہمیشہ سے غیر یقینی کا باعث رہی ہے"۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ نگار، میجر (ریٹائرڈ) عمر فاروق نے کہا کہ "ایران نہ صرف پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے بلکہ وہ دہشت گرد جو بلوچستان میں ہمارے فوجیوں پر حملے کر رہے ہیں، کو بھی ایرنی زمین پر پناہ گاہیں ملتی ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان میں شیعہ برادری کے اندر ایرانی اثر و رسوخ کا خاتمہ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ملکی سیکورٹی کے اس اہم معاملہ پر، ملک کی سیاسی قیادت کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے"۔

فاروق نے کہا کہ "ایرانی حمایت یافتہ پراکسی ملیشیاء ہماری ملکی سیکورٹی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ ان عسکریت پسند گروہوں کی وجہ سے، پاکستان پر بھی دہشت گردی کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کا الزام آتا ہے کیونکہ ایران شام، عراق اور دنیا کے دوسرے حصوں میں ان عسکریت پسندوں کو مسلسل استعمال کرنا جاری رکھے ہوئے ہے"۔

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

کیا کہنے۔ پاکستان کی جیلیں توڑ توڑ کر سارے ملزمان کو شام بھیجنا کوئی مسئلہ نہیں۔ آج جب کچھ لوگنبی کی نواسی کا مزار کی بیحرمتی روکا تو دہشت گرد، اورنقص امن۔ ایسے لکھاریوں کو 21 توپوں کی لعنت

جواب