سلامتی

انسدادِ دہشت گردی کے حکام نے مطلوب انتہاپسندوں اور ملزمان کی تازہ فہرست جاری کر دی

ضیاء الرحمان

image

کراچی میں ٹی ٹی پی کے ایک کمانڈر عزیزاللہ جو کہ شامزئی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے بارے میں معلومات کو ریڈ بُک، جو کہ پاکستان کے مطلوب ترین دہشت گرد ملزمان کی فہرست ہے، کے 8ویں شمارے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ریڈ بُک کا 9واں شمارہ 3 جون کو شائع کیا گیا۔ [پاکستان فارورڈ/ ضیاء الرحمان]

کراچی -- سندھ پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ (سی ٹی ڈی) نے اپنی ریڈ بُک کا تازہ ترین شمارہ شائع کیا ہے جس میں مطلوبہ دہشت گردوں اور عسکریت پسندی کے ملزمان کی فہرست شامل ہے۔

یہ دستاویز -- جس کا اب 9واں شمارہ شائع ہوا ہے -- کو قانون نافذ کرنے والے ادارے استعمال کرتے ہیں -- میں ملزمان کی نمایاں جسمانی صفات، بولی جانے والی زبان اور دیگر تفصیلات شامل ہیں۔

سی ٹی ڈی کے ڈائریکٹر عمر شاہد حامد نے کہا کہ بین الاقوامی اتحادی افواج کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد، پاکستان اپنے آپ کو سیکورٹی کے مبینہ خطرات سے نپٹنے کے لیے تیار کر رہا ہے۔

حامد نے کہا کہ "ہمارا اندازہ ہے کہ پاکستان میں صورتِ حال تبدیل ہو سکتی ہے اور افواج کی واپسی کے بعد اگر افغانستان میں دوبارہ سے عدم استحکام آیا تو ہو سکتا ہے کہ عسکریت پسند گروہ دوبارہ سے سرگرم ہو جائیں"۔

image

18 فروری کو لی جانے والی اس فائل فوٹو میں، ایک پولیس اہلکار، 20 فروری کو پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) کے پہلے ٹوئنٹی20 کرکٹ میچ سے پہلے، کراچی میں نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کے باہر نگرانی کر رہا ہے۔ [آصف حسین/ اے ایف پی]

انہوں نے کہا کہ ریڈ بُک، جسے 3 جون کو جاری کیا گیا، کا مقصد دہشت گردی کے کاموں میں ملوث عسکریت پسندوں کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کرنا، اسے دوسرے صوبوں کی سی ٹی ڈیز کے ساتھ سانجھا کرنا اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو ممکن بنانا ہے۔

ریڈ بُک کا تازہ ترین شمارہ، چار سالوں میں ہونے والی اپنی پہلی اپ ڈیٹ اور اشاعت کی نمائندگی کرتا ہے۔

حکام نے 8ویں شمارے میں شامل 10 ملزمان کو گرفتار اور سات دیگر کو ہلاک کر دیا ہے -- پانچ کو پاکستان، ایک کو افغانستان اور ایک کو شام میں۔

9ویں شمارے میں، سی ٹی ڈی نے برصغیر پاک و ہند میں القاعدہ (اے کیو آئی ایس) کے 12 ملزمان اور دولتِ اسلامیہ (داعش) کی خراسان شاخ (داعش- کے) کے 18 مبینہ عسکریت پسندوں کا نام شامل کیا ہے۔

اے کیو آئی ایس اور داعش-کے بالترتیب القاعدہ اور داعش کی علاقائی شاخیں ہیں۔

سی ٹی ڈی نے کالعدم سپاہِ محمد پاکستان (ایس پی ایم) جو کہ دہشت گرد شیعہ تنظیم ہے جسے مبینہ طور پر ایرانی حکومت کی طرف سے مدد اور سرمایہ ملا ہے، کے 24 مبینہ عسکریت پسندوں اور اس کے ساتھ ہی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے23عسکریت پسندوں کو بھی شامل کیا ہے۔

اس میں انصار الشریعہ پاکستان (اے ایس پی) کے چار مبینہ عناصر اور جنداللہ پاکستان کے دو مبینہ ارکان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اے ایس پی جو کہ تقریبا ایک درجن ارکان پر مبنی دہشت گرد تنظیم ہے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ النصرہ فرنٹ، جو کہ شام میں کام کرنے والا القاعدہ سے جڑا ایک گروہ ہے اور 2017 میں اس وقت شہ سرخیوں میں آیا تھا جب اس نے کراچی میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا، کے زیرِ سایہ کام کر رہی ہے۔

جنداللہ، ٹی ٹی پی سے جدا ہو جانے والا ایک ایسا دھڑہ ہے جس نے 2014 میں داعش کی مدد کرنے کا عہد کیا تھا۔ یہ گروہ بہت سے بڑے پیمانے کے حملوں میں ملوث رہا ہے جس میں ستمبر 2013 میں پشاور کے آل سینٹس چرچ پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے جس میں 104 عبادت گزار ہلاک ہو گئے تھے۔

ریڈ بُک میں لشکرِ جھنگوی کے 13 مبینہ عسکریت پسندوں کا نام بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ ایک کالعدم فرقہ ورانہ گروہ ہے۔

اس میں سندھودیش انقلابی فوج کے چار مبینہ عسکریت پسندوں اور بلوچستان لبریشن آرمی کے پانچ مبینہ ارکان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ دو علیحدگی پسند گروہ ہیں جو بالترتیب سندھ اور بلوچستان کے صوبے میں کام کر رہے ہیں۔

سی ٹی ڈی نے کراچی کے علاقے لیاری میں غنڈوں کے گروہوں کے درمیان ہونے والی لڑائیوں میں ملوث 33 مبینہ عسکریت پسندوں کا نام بھی شامل کیا ہے۔

کریک ڈاؤن جاری

پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد گروہوں پر کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

2 مئی کو، پولیس نے تین ایسے مبینہ دہشت گردوں کوصوبہ سندھ کی شکار پور ڈسٹرکٹ سے گرفتار کیا جن کا مبینہ طور پر تعلق داعش- کے سے تھا۔

گرفتار ہونے والوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ عبدل حفیظ پندرانی کے قریبی ساتھی تھے جو کہ صوبہ سندھ میں داعش کے نائب امیر ہیں۔ پندرانی کو داعش کے سربراہ مولوی عبداللہ بروہی کے ساتھ، فروری 2018 میں بلوچستان صوبہ کی سبی ڈسٹرکٹ میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

سندھ کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ (سی ٹی ڈی) نے 19 اپریل کو حیدرآباد کے قریب پانچ مبینہ دہشت گردوں کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا جن میں دو مبینہ ممکنہ خودکش بمبار بھی شامل تھے جن کا تعلق ٹی ٹی پی سے تھا۔

سندھ سی ٹی ڈی کے ایک سینئر اہلکار عمر شاہد حامد نے کہا کہ عسکریت پسند مبینہ طور پر کراچی میں پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے کی تیاری کر رہے تھے اور انہوں نے پہلے ہی جاسوسی کی مہمات سرانجام دے دی تھیں۔

حامد کے مطابق، گرفتار ہونے والے ملزمان میں سے بہت سے، اونچے پیمانے کے کئی حملوں میں ملوث تھے ان میں لاہور میں داتا دربار پر 2019 میں ہونے والا خودکش حملہ اور 2018 میں سوات میں پاکستانی فوج کے والی بال کے میچ پر ہونے والا خودکش حملہ شامل ہے۔

اسی دن مارے جانے والے ایک الگ چھاپے میں، کراچی ڈسٹرکٹ پولیس نے ٹی ٹی پی کے دو مبینہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا جنہیں مبینہ طور پر افغانستان میں ہیڈکواٹر رکھنے والے ٹی ٹی پی کے راہنماؤں نے شہر میں تنظیم کو دوبارہ سے تعمیر کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

جنوری میں، سندھ سی ٹی ڈی نے کراچی میں انجنیرنگ کے ایک طالبِ علم کو گرفتار کیا تھا جس پر شام میں داعش سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے اہلِ خاندان کو رقم بھیجنے کا الزام تھا۔

گزشتہ نومبر میں، راجنپور ڈسٹرکٹ میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر ہونے والی ایک مشترکہ مہم میں، پنجاب کی سی ٹی ڈی نے اے کیو آئی ایس کے پانچ مبینہ ارکان کو گرفتار کر لیا اور ان کے قبضے سے خودکشی کی جیکٹیں، دستی بم اور گولہ بارود برآمد کیا۔

سی ٹی ڈی کی پریس ریلیز کے مطابق، اے کیو آئی ایس کے ملزمان پنجاب کے جنوبی اضلاع میں اہم تنصیبات پر دہشت گردانہ حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500