کاروبار

ماسکو کا عظیم الشان فیڈریشن ٹاور ایسٹ رینسم ویئر کے خلاف کریک ڈاؤن میں پھنس گیا

از پاکستان فارورڈ

image

ماسکو کے فیڈریشن ٹاور ایسٹ (ووسٹوک) کو یورپ کی سب سے اونچی عمارت ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اس میں درجنوں کرپٹوکرنسی فرموں کے دفاتر قائم ہیں، جن میں سے اکثر رینسم ویئر کے حملوں میں سہولت فراہم کرنے کے الزام میں زیر تفتیش ہیں۔ [Apartments.fedtower.ru]

ماسکو -- انٹیلیجنس حکام اور سائبر کھوجیوں کے مطابق، رینسم ویئر کے روسی مجرم جنہوں نے امریکی کمپنیوں، ہسپتالوں اور شہری حکومتوں سے لاکھوں ڈالر بھتہ وصول کیا ہے، ان میں ایک بہت ہی قابلِ ذکر چیز مشترک ہے۔

ان سبھی کا پتہ ماسکو کی سب سے نیک نام جگہ ہے، جسے فیڈریشن ٹاور ایسٹ (ووسٹوک) کہا جاتا ہے۔

بلومبرگ بزنس ویک نے گزشتہ ماہ خبر دی تھی کہ سنہ 2017 میں تعمیر شدہ 97 منزلہ شیشے اور فولاد کے ٹاور کے لیے تشہیری مواد میں اس کی "میزائلوں اور دھماکوں" کے خلاف مضبوطی کی بڑھکیں ماری گئی تھیں۔

روسی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار اور کاروباری افسران عمارت میں رہتے اور کام کرتے ہیں، اور ٹاور میں رہائشی یونٹ 36 ملین ڈالر سے زائد میں فروخت ہوتے ہیں۔

image

29 ستمبر 2017 کو ماسکو کے اندرونِ شہر میں سوویت یونین کے بانی ولادیمیر لینن کی تصویر والے پوسٹر کے پاس سے خواتین گزر رہی ہیں، یہ تصویر بٹ کوائن کی علامت ہے اور اس کا نعرہ 'ڈیجیٹل مستقبل میں آگے بڑھیں' ہے۔ [یوری کادوبنوف/اے ایف پی]

کمپنی کی ویب سائٹس پر درج پتوں کے مطابق، سنہ 2018 سے، عمارت میں درجن سے زائد کمپنیاں بھی موجود ہیں جو کرپٹوکرنسیوں کو نقدی میں تبدیل کرتی ہیں۔

اگرچہ اس طرح کے معاملات فطری طور پر غیر قانونی نہیں ہیں، ایسی کمپنیاں مجرموں کو ڈیجیٹل جرائم سے منافع کمانے کے قابل بنا سکتی ہیں -- جیسے کہ رینسم ویئر گینگز کی طرف سے کیے جانے والے جرائم۔

یہ گینگ اپنے شکار کے ڈیجیٹل ڈیٹا کو کوڈ میں تبدیل کرتے ہیں اور پھر اس کوڈ کو ختم کرنے کے لیے تاوان کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

متاثرین عام طور پر کرپٹوکرنسیوں میں ادائیگی کرتے ہیں، جن کی ملکیت گمنام ہو سکتی ہے اور پھر گینگ انہیں معیاری کرنسیوں جیسے یورو، امریکی ڈالر یا روبل میں تبدیل کروا لیتے ہیں۔

کریملن نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں

مئی میں ایک اعلیٰ سطحی معاملے میں، "ڈارک سائیڈ" نامی رینسم ویئر کے روسی گینگ نے کولونیئل پائپ لائن سے 4.4 ملین ڈالر بھتہ وصول کیا تھا، یہ امریکہ کی ایک بڑی پائپ لائن ہے جو ٹیکساس سے نیویارک تک ریفائنڈ پٹرول اور جیٹ ایندھن لے جاتی ہے۔

اس حملے نے پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کرنے پر مجبور کر دیا تھا، رسد میں خلل پڑا اور مشرقی امریکہ کے پٹرول پمپوں پر لمبی لمبی لائنیں لگ گئی تھیں۔

جون میں ایک سربراہی اجلاس میں، امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر رینسم ویئر گینگز کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور خبردار کیا کہ اس طرح کے حملوں کو ختم کرنے میں ناکامی پر جوابی کارروائی کی جائے گی.

لیکن روس کے مقامی رینسم ویئر مجرموں نے امریکہ میں واقع نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہوا ہے۔

6 دسمبر کو نیویارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ امریکی حکومت کی جانب سے روسی رینسم ویئر گینگز کو سزا دینے کے لیے فیڈریشن ٹاور ایسٹ میں متعدد کمپنیوں کو نشانہ بنانے کے عمل نے، بہت سے دفاعی تجزیہ کاروں کو اس بات پر قائل کر دیا ہے کہ روسی حکام رینسم ویئر آپریٹرز کو برداشت کرتے ہیں۔

یہ ٹاور ماسکو کے مالیاتی ضلع کے مرکز میں ہے، جو روسی وزارتِ ڈیجیٹل ڈیویلپمنٹ، سگنلز اور ماس کمیونیکیشن سمیت متعدد حکومتی وزارتوں کی نظروں کے بالکل سامنے ہے۔

روس کا طاقتور انٹرنیٹ ریگولیٹر اور میڈیا سنسرشپ کا ادارہ روسکومنادزور اس وزارت کے تحت آتا ہے۔

بلومبرگ نے 3 نومبر کو خبر دی، "روسی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے غیر مؤثر ہونے کی اس سے زیادہ مضبوط مثال پیش کرنا مشکل ہے کہ رینسم ویئر چلانے والوں کے ساتھ روابط رکھنے والے متعدد ادارے ایک ایسی جگہ پر موجود ہیں جو شاید ماسکو کا سب سے زیادہ نیک نام دفتری ٹاور ہے۔"

میساچوسٹس میں قائم سائبر سیکیوریٹی فرم ریکارڈڈ فیوچر کے دھمکی آمیز انٹیلیجنس تجزیہ کار دمتری سمیلیانٹس نے نیویارک ٹائمز کو بتایا، "اس سے بہت کچھ پتہ چلتا ہے"۔

ریکارڈڈ فیوچر نے ماسکو کے مالیاتی ضلع میں تقریباً 50 کرپٹوکرنسی ایکسچینجز کو گنا ہے جنہیں وہ غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف سمجھتا ہے۔

فیڈریشن ٹاور ایسٹ میں کرپٹوکرنسی ایکسچینجز کا گروپ جس پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کس طرح روسی رینسم ویئر مجرموں کو نظروں کے بالکل سامنے چھپنے کی اجازت دی گئی ہے۔

سمیلیانٹس نے کہا، "روسی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس عموماً ایک ہی جواب ہوتا ہے: 'روسی دائرۂ اختیار میں کوئی مقدمہ زیرِ التوا نہیں ہے۔ کوئی متاثرین نہیں ہیں۔ آپ ہم سے ان معزز لوگوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی توقع کیسے کرتے ہیں؟'"۔

اہداف تقریباً صرف روس سے باہر ہیں، جس کی وجہ سے روس کے اندر مقدمہ چلانا تقریباً ناممکن ہے۔

دیگر عوامل انصاف کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں، اخبار نے امریکی پابندیوں کے اعلان میں درج کم از کم ایک مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی جس میں ملزم روسی جاسوسی ایجنسی کی مدد کر رہا تھا۔

رینسم ویئر کے حملوں میں اضافہ

15 اکتوبر کو امریکی محکمۂ خزانہ کے مالیاتی جرائم کے نفاذ کے نیٹ ورک (فن سن) نے بتایا تھا کہ سنہ 2021 کے پہلے چھ مہینوں میں، رینسم ویئر حملوں کے متاثرین نے مجرم ہیکروں کو تقریباً 590 ملین ڈالر ادا کیے – جو کہ سنہ 2020 کے تمام 416 ملین ڈالر کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ ہے۔

یہ رپورٹ وائٹ ہاؤس میں دو روزہ انسدادِ رینسم ویئر پہل کاری اجلاس کے بعد جاری کی گئی تھی جس میں امریکہ اور 30 سے زائد ممالک کے سائبر سیکیورٹی رہنماء شامل تھے.

14 اکتوبر کو جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں رہنماؤں نے لکھا، "رینسم ویئر عالمی سلامتی کو لاحق ایک کشیدہ ہوتا ہوا خطرہ ہے جس کے اقتصادی اور سلامتی کے لیے سنگین نتائج ہیں۔"

ان ممالک نے اُن "محفوظ پناہ گاہوں" سے نمٹنے کا عہد کیا جہاں خبیث اداکار کام کرنے کے قابل ہیں۔ امریکی حکومت نے روس کو اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی تھی۔

فن سن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات جاری رہتے ہیں، تو اس سال جمع کرائی گئی مشکوک سرگرمی کی رپورٹوں میں رینسم ویئر سے متعلق لین دین کی قدر مجموعی طور پر پچھلے 10 سالوں کے مقابلے میں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

فن سن کے مطابق، سنہ 2011 کے بعد سے، امریکیوں نے سائبر جرائم پیشہ افراد کو ایک اندازے کے مطابق 1.56 بلین ڈالر تاوان ادا کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا، "رینسم ویئر امریکی مالیاتی شعبے، کاروبار اور عوام کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔"

حالیہ حملوں میں ان شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ ان کی خدمات کی تنقید کی وجہ سے حفاظت کم ہے یا ان کی قدر زیادہ ہے، بشمول اشیاء سازی، قانونی، بیمہ، نگہداشتِ صحت، توانائی، تعلیم اور غذائی رسدی سلسلے۔

مزید برآں، کم از کم سنہ 2019 کے اواخر سے، رینسم ویئر گینگز زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے اور متاثرین کے لیے ادائیگی کرنے کے لیے ایک اضافی ترغیب پیدا کرنے کے حربوں میں مصروف ہیں۔

"ڈبل بھتہ خوری" کہلانے والے ایسے ہی ایک حربے میں گروہ متاثرین کا ڈیٹا ضبط کر لیتے ہیں، چوری شدہ ڈیٹا کو کوڈ میں تبدیل کرتے ہیں اور پھر تاوان کے مطالبات پورے نہ ہونے پر اسے شائع کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔

کرپٹوکرنسی کے ذریعے ہونے والے لین دین کا سراغ لگانے والی ایک کمپنی، چائنالیسز کے مطابق، مثال کے طور پر، گزشتہ برس، ایک روسی رینسم ویئر گینگ جسے "ریوک" کہا جاتا ہے، نے ایک اندازے کے مطابق 162 ملین ڈالر کمائے جس نے کوویڈ-19 کی عالمی وباء کے دوران امریکی ہسپتالوں کے کمپیوٹر سسٹمز کو کوڈ میں تبدیل کیا اور ڈیٹا جاری کرنے کے لیے پیسوں کا مطالبہ کیا۔

فیڈریشن ٹاور ایسٹ پر کریک ڈاؤن

نائب امریکی وزیرِ خزانہ ویلی ایڈیمو نے فن سن رپورٹ کے اجراء کے بعد ایک بیان میں کہا، "رینسم ویئر کا کام کرنے والے مجرم ہیں جو عالمی مجازی کرنسی کے ماحولیاتی نظام میں حکومتوں کی طرف سے تعمیل میں فرق کی وجہ سے فعال ہیں" ۔

"وزارتِ خزانہ مجرموں کے لیے ان کے جرائم سے فائدہ اٹھانا مشکل بنا کر رینسم ویئر کے حملوں کو روکنے میں مدد کر رہی ہے، لیکن ہمیں اس غیر قانونی سرگرمی کو روکنے میں مدد کے لیے نجی شعبے میں شراکت داروں کی ضرورت ہے۔"

ستمبر میں، امریکی حکومت نے سوئیکس نامی کرپٹوکرنسی ایکسچینج پر پابندیاں عائد کی تھیں، اور کمپنی پر سنہ 2018 سے غیر قانونی فنڈز میں 160 ملین امریکی ڈالر کی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا تھا۔

چائنالیسز کے مطابق، یہ لین دین کمپنی کے معروف کاروبار کا 40 فیصد حصہ ہے۔

سوئیکس فیڈریشن ٹاور ایسٹ کی 31 ویں منزل پر سوٹ کیو سے کام کرتی ہے۔

سوئیکس کے بانی ویسیلی زابیکن اور پابندیوں کے وقت کمپنی کے سب سے بڑے حصہ دار، ایگور پیٹوخووسکی، دونوں ہی کسی غلط کام یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں۔

روسی خبر رساں اداروں نے خبر دی تھی کہ نومبر میں، ڈچ پولیس نے امریکی حوالگی کے وارنٹ کا استعمال کرتے ہوئے ایگ چینج نامی فرم کے مالک ڈینس ڈوبنیکوف کو حراست میں لے لیا۔

بلومبرگ نے خبر دی تھی کہ ایگ چینج کے دفاتر فیڈریشن ٹاور ایسٹ کی 22ویں منزل پر ہیں اور وہ منی لانڈرنگ کے الزامات کے لیے امریکہ اور یورپ میں زیرِ تفتیش ہے۔

ڈوبنیکوف نے، 5 نومبر کو ان کی ایک اور کمپنی، بریف کیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں، کسی بھی غلط کام کی تردید کی تھی۔

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹوکرنسی مارکیٹ پلیس، بنانسے نے، فیڈریشن ٹاور ایسٹ سے کام کرنے والی ایک اور کمپنی، ایگ چینج اور کیش بنک سمیت پلیٹ فارمز سے وابستہ "متعدد اکاؤنٹس اور غیر قانونی بہاؤ پر بھی نشان لگایا ہے"۔

بنانسے نے کہا کہ اس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو "ممکنہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں" سے آگاہ کیا اور ان اکاؤنٹس کو بند کر دیا جن کی اس نے شناخت کی تھی۔

چائنالیسز کے مطابق، Buy-bitcoin.pro، فیڈریشن ٹاور ایسٹ میں ہیڈ کوارٹر والے ایک اور آپریٹر نے رینسم ویئر فنڈز میں سینکڑوں ہزاروں ڈالر کی کارروائی کی ہے، جس میں دیگر غیر قانونی آپریٹرز بشمول ہائیڈرا، شامل ہیں جو کہ روس میں واقع سب سے بڑی ڈارک نیٹ مارکیٹ ہے۔

ایگ چینج، کیش بنک اور Buy-bitcoin.pro نے تبصرے کے لیے بلومبرگ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500