https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/09/14/feature-02
مذہب

کراچی کے مظاہرین نے تہران پر فرقہ واریت پھیلانے کا الزام لگایا ہے

پاکستان فارورڈ

image

کراچی میں ہزاروں مظاہرین نے 11 سے 13 ستمبر کے دوران مظاہروں میں حصہ لیا جن میں ان شعیہ مولویوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جنہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کی تھی۔ [پاکستان فارورڈ]

کراچی -- ہزاروں پاکستانی شہریوں نے کراچی میں تین دنوں کے دوران مظاہروں میں حصہ لیا جن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان شعیہ مولویوں کو گرفتار کیا جائے جن پر توہینِ رسالت کا الزام ہے اور انہوں نے ایرانی حکومت پر تنقید کی کہ وہ ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے۔

جمعہ سے لے کر اتوار تک (11 سے 13 ستمبر تک) کراچی میں مختلف نکتہ ہائے نظر رکھنے والے تبقات نے کراچی میں ریلیاں منعقد کیں جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ افراد، ان کے دعوی کے مطابق، جنہوں نے محرم کے دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف گندی اور توہین آمیز زبان استعمال کی تھی۔

اگرچہ 30 اگست کو ملک بھر میں محرم کے ماتمی جلوس پرامن اور محفوظ طریقے سے منعقد ہوئے مگر عاشورہ کے ایک جلوسکی نشریات میں مبینہ طور پر مولویوں اور شرکاء کو تاریخی اسلامی شخصیات کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے 31 اگست کو ٹوئٹ کیا کہ "میں ملک میں عاشورہ کو پرامن طریقے سے منانے پر قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تاہم، بدقسمتی سے مجھے ایسے عناصر کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں جنہوں نے اس موقعہ پر فرقہ واریت کو بھڑکانے کی کوشش کی اور میں ان کے خلاف انتہائی سخت اقدامات کروں گا"۔

image

ایک مذہبی عالم 12 ستمبر کو کراچی میں ایک ریلی سے خطاب کر رہا ہے۔ [پاکستان فارورڈ]

image

قانون نافذ کرنے والے اہلکار 30 اگست کو کراچی میں محرم کے جلوس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں محرم کے جلوس امن و امان سے منعقد ہوئے۔ [پاکستان فارورڈ]

کراچی میں تین ریلیوں کے دوران، شرکاء نے صحابہ اکرام کی توہین کی مذمت کی جو ممکنہ طور پر عاشورہ کے جلوس میں ہوئی ہے اور انہوں نے اس میں ملوث افراد کے خلاف دہشت گردی کے قوانین کے تحت، مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے فرقہ واریت، مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کو روکنے کے لیے قومی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

جمعیت علمائے اسلام (سمیع) (جے یو آئی -ایس) کے کراچی کے سربراہ اور 11 ستمبر کو منعقد ہونے والی ایک ریلی کے منتظم، حفیظ احمد علی نے کہا کہ "پاکستان کے مسلمان مقدس شخصیات کی مزید ہتک کو برداشت نہیں کریں گے"۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ملک میں فرقہ ورانہ تشدد کو بھڑکانے کی کوششوں کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنانے چاہیں۔

پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے قدم اٹھا رہے ہیں

قانون نافذ کرنے والے بہت سے اداروں، جن میں انسدادِ دہشت گردی کا شعبہ، خصوصی برانچ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کا سائبر کرائم ونگ شامل ہیں، ان مولویوں اور افراد کی شناخت کے لیے کام کر رہا ہے جو مبینہ طور پر ملک میں مذہبی اور فرقہ ورانہ نفرت کو پھیلانے میں ملوث تھے۔ یہ بات قومی انسدادِ دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) کے ایک سینئر اہلکار نے بتائی جنہوں نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے ہزاروں ملزمان کو محرم سے پہلے، دوران اور بعد میں،سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقریر کرنے اور فرقہ واریت کے پھیلانے کے الزامات میں گرفتار کیا ہے جن میں اکثریت صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتی ہے۔

پنجاب پولیس کے ایک سینئر اہلکار، سہیل سکھیرا نے کہا کہ مذہبی اجتماعات، شعیہ جلوسوں اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں کی نگرانی کرنے والے پولیس کے خصوصی یونٹوں نے درجنوں مولویوں کو گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "پولیس حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کے نیک اہلِ خاندان اور صحابہ اکرام کے خلاف کسی بھی توہین آمیز تبصرے کے ملزمان کے خلاف بلا تفریق اقدامات کر رہی ہے"۔

بدامنی میں تہران کا کردار

تین ریلیوں میں شرکت کرنے والے راہنماؤں اور شرکاء نے ایرانی حکومت پر سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹی معلومات اور نفرت پھیلا کر فرقہ واریت کو بھڑکانے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

رائٹرز کی طرف سے 2018 میں شائع ہونے والی ایک خصوصی رپورٹ میں ایسی 70 ویب سائٹس کی نشاندہی کی گئی تھی جو 15 ممالک میں ایرانی پروپیگنڈا کو پھیلاتی ہیں جن میںپاکستان میں غلط معلومات پھیلانے والی تین ویب سائٹس اور افغانستان میں چار بھی شامل تھیں۔

سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد میں حال ہی میں ہونے والا اضافہ پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد کو بھڑکانے میں مدد کر رہا ہے۔ یہ بات کراچی میں ہونے والے احتجاج میں شریک ہونے والے ایک عالم مولانا عبدل جبار نے بتائی۔

انہوں نے کہا کہ "ایران نہ صرف پاکستان میں بلکہ دوسرے ممالک، خصوصی طور پر سعودی عرب اور شام میں شورش کو پھیلانے کی سازش کے پیچھے ہے"۔

ریاض میں رسانا: انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ایرانین اسٹڈیز تھنک ٹینک کے بانی اور چیرمین محمد السلیمانی نے کہا کہ پاکستان میں تعصّب اور فرقہ واریت کے عناصر کا ایرانی انقلاب سے براہ راست تعلق ہے۔

انہوں نے عرب نیوز میں 7 ستمبر کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا کہ "عاشورہ کے دوران بیان کیا جانے والا تعصب اور فرقہ واریت پاکستان کو جگا دینے کا کام کر سکتی ہے اس سے پہلے کہ ملک کا انتہائی محنت سے کمایا جانے والا امن اور ہم آہنگی ایک دم سے ختم ہو جائے"۔

ال سلیمانی سے اس تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے "ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے ساتھ ملے ہوئے غیر سرکاری عناصر کی مذموم سرگرمیوں کو اجاگر یا آشکار نہیں کیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "شام میںزینبیون بریگیڈ میں شامل ہونے کے لیے جنگجوؤں کی بھرتی، تربیت اور منتقلی میں ملوث افراد کے بارے میں بالکل بھی کوئی خبر نہیں دی گئی ہے"۔

آئی آرجی سی نواز زینبیون بریگیڈ ایسے پاکستانی شعیہ افراد پر مبنی ہے جنہیں بشار الاسد کی حکومت کی مدد میں لڑنے کے لیے شام بھیجا گیا ہے۔

ال سلیمانی نے کہا کہ "پاکستانی شہریوں نے ایران اور عراق میں کیسے عسکری تربیت حاصل کی؟ شام میں لڑنے کے لیے کتنے گئے ہیں؟"

پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے شعیہ زائرین کا ایرانی اثر و رسوخ کا شکار ہونے اور عراق اور شام میں لڑنے والے تہران نواز زرخرید گروہوں میں شامل ہونے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نیکٹا نے ایسے عسکریت پسند اداروں پر کریک ڈاؤن کو بڑھا دیا ہے جو شعیہ نوجوانوں کو لڑنے کے لیے عراق اور شام بھیجتے ہیں۔

اگست میں، وفاقی حکومت نے ختم الانبیاء عسکریت پسند گروہ پر شعیہ نوجوانوں کو ایسے ایرانی نواز جنگجوؤں کے ساتھ لڑنے کے لیے شام بھیجنے پر کالعدم قرار دیا تھا جو شامی حکومتی افواج کے حامی ہیں۔

اس سال کے آغاز میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے ایسے درجنوں شعیہ نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا جن کا تعلق زینبیون بریگیڈ سے تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)