https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/12/28/feature-01
| سلامتی

ایران کی 'سائبر دہشت گردی' سوشل میڈیا، خبروں کی ویب سائٹوں پر پاکستانیوں کو ہدف بنا رہی ہے

از عبدالغنی کاکڑ

image

ایک حالیہ رپورٹ میں پتہ چلا ہے کہ ایران غلط خبروں کی پاکستان میں تین اور افغانستان میں چار ویب سائٹیں چلا رہا ہے۔ [سومل کمار]

کوئٹہ -- پاکستانی حکام اور دفاعی اہلکار ایران کی جانب سے پاکستان میں اپنے مذموم اثرورسوخ کو پھیلانے کے لیے پراپیگنڈہ کی خبری ویب سائٹوں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد سے عوام کو متنبہ کر رہے ہیں۔

یہ انتباہ نشریاتی ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے جس میں 70 ایسی ویب سائٹوں کو شناخت کیا گیا ہے جو ایرانی پراپیگنڈے کو 15 ممالک میں پھیلا رہی ہیں، بشمول غلط معلومات پر مبنی تین ویب سائٹیں پاکستان میں اور چار افغانستان میں۔

30 نومبر کی رپورٹ میں بتایا گیا، "سائٹیں اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ دنیا بھر میں سیاسی اداکار کیسے عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کے لیے مسخ شدہ یا جھوٹی معلومات کو زیادہ سے زیادہ پھیلا رہے ہیں۔"

image

ایران کی پراپیگنڈہ ویب سائٹ سے ایک مضمون کا عکس۔ ان سائٹوں کے بہت سے مقاصد میں سے ایک مقصد ایران کے مخالفین، سعودی عرب اور اسرائیل کی جڑیں کاٹنا ہے۔ [فائل]

image

ان سائٹوں کا ایک اور مقصد ایرانی پشت پناہی کے حامل گروہوں کی تشہیر کرنا ہے۔ اس مضمون میں، خبری ادارہ شام کے اندر لڑ رہے افغان شہریوں پر مشتمل ملیشیا، فاطمیون ڈویژن کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کی کوشش میں ہے۔ ایرانی پراپیگنڈہ سائٹیں پاکستانیوں پر مشتمل ایسے ہی گروہ، زینبیون بریگیڈ کی بھی تشہیر کرتا ہے۔ [فائل]

image

ایران کی ایک پراپیگنڈہ اُردو سائٹ، سحر. [فائل]

سائٹیں خبروں کا ایک آمیزہ پیش کرتی ہیں اور معمول کے مقامی ذرائع ابلاغ کی طرح نظر آنے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔

ایک معاملے میں، ایک اور مغربی سحر نامی خبروں کی ایک ویب سائٹ، جس کا نعرہ ہے 'ناگفتہ سچ' نے ایک پاکستانی اہلکار کو اسرائیل کے خلاف نیوکلیائی دھمکی جاری کرنے کے لیے بیوقوف بنا دیا۔

سنہ 2016 میں، ویب سائٹ نے ایک جھوٹی کہانی چلائی جس نے اس وقت کے پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کو ٹوئٹر کے ذریعے دھمکی دینے کی ترغیب دی کہ پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیار اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے ہیں۔ جب رائٹرز کی جانب سے رابطہ کیا گیا تو انہیں پتہ چلا کہ یہ افواہ صرف ایک ایرانی کارروائی کا حصہ تھی۔

خواجہ آصف، جو اس سال کے شروع میں حکومت سے نکل گئے تھے، نے کہا، "یہ ایک سبق آموز تجربہ تھا۔ لیکن ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں، کیونکہ غلط خبریں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو اب ہر کوئی کر سکتا ہے، جو کہ بہت خطرناک ہے۔"

ایرانی پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنا

پاکستان ایران کی پراپیگنڈہ مہم کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہےجسے حکام ایسی "سائبر دہشت گردی" تصور کرتے ہیں، جس کا مقصد پاکستان میں عدم تحفظ اور فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے۔

وزارتِ دفاع میں سائبر سیکیورٹی کے ڈویژن میں تعینات اسلام آباد کے مقامی ایک اعلیٰ انٹیلیجنس اہلکار نے 18 دسمبر کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہمارے تجزیئے اور مشاہدے نے تصدیق کر دی ہے کہ ایرانی پراپیگنڈہ نیٹ ورک ایسی پالیسیوں اور عالمی نکتہ ہائے نظر جو خطے میں ایران کی تزویراتی مفادات کے لیے موافق ہیں کو فروغ دینے کے لیے وسیع طور پر عوام، خصوصاً شیعہ اقلیتی ارکان کو ہدف بنا رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے ملک میں سائبر دہشت گردی کو سنبھالنے کے لیے ایک بہت جامع اور محتاط حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ ہمارے سائبر سیکیورٹی ڈویژن میں کام کرنے والی ٹیمیں مرکزیسمارٹ ویریفیکیشن اینڈ الرٹ سسٹمکے ساتھ منسلک ہیں، اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) بھی ان ٹیموں کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔"

انہوں نے وضاحت کی، "گزشتہ دو برسوں میں، ہم نے سینکڑوں پاکستان مخالف ویب سائٹوں کا بلاک کیا ہے اور ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی ہے۔ ایرانی پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام کوششیں کی گئی ہیں، اور ہمارے سوشل میڈیا پر نظر رکھنے والی ٹیمیں تمام متعلقہ پلیٹ فارموں کی بغور نگرانی کر رہی ہیں۔"

اہلکار نے کہا کہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال پراپیگنڈہ کے پھیلاؤ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس مظہر کا مقابلہ کرنے اور عوام کو سوشل میڈیا کے مجرمانہ استعمال سے خبردار کرنے کے لیے پی ٹی اے سماجی آگاہی کی ایک مہم چلا رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم نے عوام کو بتایا ہے کہ سوشل میڈٰیا پلیٹ فارموں، بشمول فیس بُک، ٹوئٹر، یوٹیوب وغیرہ کے ذریعے ملک میں پراپیگنڈہ اپ لوڈ کرنا اور اس کا اشتراک کرنا قانون کی کئی دفعات کے تحت سنگین اور قابلِ سزا جرم ہے۔"

اسلام آباد کے مقامی وزارتِ اطلاعات کے اہلکار، احسن حبیب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سوشل میڈیا کے ذریعے چلائی جا رہی پراپیگنڈہ مہم ہمارے لیے بہت مشکلات پیدا کر رہی ہے، کیونکہ یہ ان لوگوں کی آراء کو تبدیل کرنے میں ایک انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے جو کم خواندہ ہیں اور انہیں کوئی علم نہیں ہے کہ سوشل میڈیا کو کیسے استعمال کرنا ہے۔"

پاکستان ہی واحد ملک نہیں ہے جسے ایرانی غلط معلومات کی مہم سے خطرہ ہے۔

حبیب نے کہا، "یہ پورے خطے کے لیے ایک ابھرتا ہوا خطرہ ہے کیونکہ امن دشمن اور جمہوریت دشمن قوتیں اب اپنی پوری مہم سوشل میڈیا کے ذریعے اور ان خبری ویب سائٹوں کے ذریعے چلا رہی ہیں جن کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور سائبر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے وقف دیگر متعلقہ ادارے پیدا ہونے والی صورتحال کی بڑی فعال نگرانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، "پاکستان کبھی بھی کسی فرد یا گروہ کو اپنے تزویراتی مفادات کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دے گا، " ان کا مزید کہنا تھا، "وہ عناصر جو بیرونی مفادات [کو فروغ دینے] کے لیے یہاں سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں ان کی صفائی کرنے کے لیے ہمارے پاس ایک بہت مستعد نظام ہے۔"

حبیب نے مزید کہا، "خطے میں ایران اور سعودی عرب دو حریف ہیں، اور دونوں ایک دوسرے کے مفادات پر ضرب لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

شعور میں اضافہ کرنا، پاکستانی مفادات کا تحفظ کرنا

حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور موبائل کی انٹرنیٹ تک رسائی کی بھرمار ایرانی پراپیگنڈے کا سراغ لگانے اور اسے روکنے کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔

لیکن پاکستان اس مسئلے کے خاتمے کے لیے قانونی اقدامات کر رہا ہے۔

راولپنڈی کے مقامی، انسدادِ دہشت گردی کے ایک اعلیٰ اہلکار محمد عمران نے کہا، "پاکستان میں، صارفین سوشل میڈیا تک رسائی زیادہ تر موبائل نیٹ ورکس کے ذریعے کرتے ہیں۔ لہٰذا، دیگر اقدامات کے علاوہ پی ٹی اے نے چند ماہ قبلڈی آئی آر بی ایس -- آلات کی شناخت، اندراج اور بلاک کرنے کا ایک نیا نظام-- شروع کیا تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ڈی آئی آر بی ایس، پی ٹی اے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سےموبائل فونز کی غیرقانونی درآمد کو روکنےکے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور تمام موبائل فونز کی رجسٹریشن کا متقاضی ہے۔

عمران نے کہا کہ پاکستانیوں کی کثیر تعداد جائز معلومات اور موبائل ٹیکنالوجی کے غیر قانونی استعمال کے ذریعے پھیلائی گئی غلط معلومات کے درمیان فرق کرنے سے قاصر ہے۔ "لہٰذا، وہ ایرانی پراپیگنڈے اور دیگر پراپیگنڈہ نیٹ ورکس کے لیے حساس ہیں۔"

انہوں نے بتایا کہ عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے، پی ٹی اے باقاعدگی سے ملک میں تمام موبائل صارفین کو آگاہی کے پیغامات بھیجتی ہے۔

عمران نے کہا، "ہمارے تحقیقات کے دوران، ہماری ٹیموں کے ہاتھ کئی ثبوت لگے جو ہمارے ملک میں ایرانی پراپیگنڈے کی موجودگی کو ثابت کرتے ہیں۔ یہ دشمن پر کڑی نگاہ رکھنے کا وقت ہے، جو کہ موجود ہے اور دیرپا امن کے ہمارے ہدف کو نقصان پہنچانے کا ایک بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا ہے۔"

جعلی اصل بنیاد

کوئٹہ کے مقامی، ایک اعلیٰ انٹیلیجنس عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ (امام مہدی کے منتظرین کا عالمی حلقہ) گلوبل نیٹ ورک آف اویٹرز آف امام مہدی (جی این اے آئی ایم) کے نام سے کام کر رہا ایک واٹس ایپ گروپ ایران کی جانب سے چلائے جانے والے سوشل میڈیا گروپوں میں سے ایک ہے جو پاکستانی عوام، خصوصاً شیعہ برادری کو ہدف بنا رہا ہے۔

اہلکار نے کہا کہ جی این اے آئی ایم واٹس ایپ گروپ کا منتظمہ ایک ایرانی موبائل نمبر کے تحت رجسٹر ہے جو "مسز موسوی" کا ہے، جو کہ ایک عرفیت ہو سکتی ہے۔

گروپ میں پوسٹ کیے جانے والے پیغامات دعویٰ کرتے ہیں کہ جی این اے آئی ایم کا مقصد ایرانی مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے شیعہ اور غیر شیعہ لوگوں کو ایک عالمی حلقہ قائم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ واٹس ایپ گروپ اپنے ارکان کو ایک بلاگ پر جانے کی بھی ترغیب دیتا ہے جو ایرانی برانڈ کے شیعہ اسلام کی تشہیر کرتا ہے۔

اہلکار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "ہماری اطلاعات کے مطابق، ایرانی پاسدارانِ انقلاب دستے (آئی آر جی سی) جی این اے آئی کا کفیل اور سرغنہ ہے، اور یہ پراپیگنڈہ کارروائی انگریزی، فارسی، ترکی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی وغیرہ سمیت تمام بڑی زبانوں میں کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "ایرانی پراپیگنڈہ نیٹ ورک پاکستان میں انسٹاگرام، ٹیلیگرام، فیس بُک اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر بھی بہت فعال ہے، جہاں سے یہ اپنا پراپیگنڈہ نشر کرتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ انصار المہدی نامی ایک گروپ خصوصی طور پر پاکستانی خواتین کو نشانہ بناتا ہے۔

نظریات کی جنگ

اسلام آباد کے مقامی ایک اعلیٰ دفاعی تجزیہ کار، مشتاق یوسف نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پاکستان میں، حکومت اور عوام الناس کا جھکاؤ سعودی عرب کی جانب سے پیش کردہ عالمی نکتہ نظر کی طرف ہے، جسے ایران اپنے تزویراتی مفادات کے لیے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان میں سعودی عرب کے اثرورسوخ میں رخنہ ڈالنا اور خود اپنے مفادات کے لیے ایک بیانیہ تیار کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہدف وضاحت کرتا ہے کہ ایران کیوں پراپیگنڈہ کر رہا ہے اور پاکستانیوں کو گمراہ کر رہا ہے۔

یوسف نے دلیل دی کہ دیگر اقدامات کے علاوہ، پاکستان کے لیے لازمی ہے کہ اپنے عوام کو ایران کے پراپیگنڈہ آغازِ کار، جس کے نتیجے میں ملک کے لیے ایک خوفناک صورتحال جنم لے سکتی ہے، کے متعلق تعلیم دینے کے لیے آگاہی دینے کی خصوصی مہم شروع کرے۔

کوئٹہ کے مقامی سائبر سیکیورٹی تجزیہ کار، ارزک خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ایرانی پراپیگنڈے کی جڑیں بہت گہری ہیں ۔۔۔ اس لیے، پاکستان کو ضرورت ہے کہ غیر ملکی حقائق [پر غور کرتے ہوئے] اپنی سائبر پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے اور انہیں ایک وسیع تناظر میں دیکھے۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاملے میں، پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کی بہت سے کوششیں گنجائش اور فنڈنگ میں محدود ہیں اور اب جسے "مربوط ساز باز" کے طور جانا جا رہا ہے اس سے لڑنے کے لیے واضح سیاسی اہداف کی قلت ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "ایرانی پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے، پاکستان کو ضرورت ہے کہ سیاست اور سماجی مقاصد کے بارے میں آن لائن مباحثے پر اثرا انداز ہونے والی ایسی ویب سائٹوں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی شناخت کرنے اور ان کی اطلاع دینے کے لیے پلیٹ فارم چلانے والوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
12
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

اس مضمون سے اگر کوئی مکمل طور متفق نہ بھی ہو تو جب بھی فیک پروپیگینڈے سے ہونے والے خوفناک نتائج کے اثرات عوام محسوس کرسکتے ہیں
بطور ایک محبت وطن پاکستانی جو میں محسوس کررہا ہوں کہ آج کے دور میں ہم نے فوری طور پر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یا تو پاکستان میں تمام سوشل میں ایکٹیویٹی بلاک کردی جائیں اور یا عوام کو اس جعل سازی کے بارے میں آگاہی دی جائے کہ کس طرح وہ کسی غیر ملکی سازش کا آسان ہدف بن سکتے ہیں
اسکے لیئے اسکول کی سطح سے اور مقامی سینٹر بنائے جائیں جہاں سوشل میڈیا کے زریعے ٹریپ ہونے سے بچنے کے بارے میں باقاعدہ کلاسز ہونی چاہیئے یہ آن لائن بھی ہوسکتی ہے جو پی ٹی اے کی ذمہ داری ہو جو کہ انگلش اور اردو زبان میں ہو فوری طور پر یہ پروگرام شروع کرنا چاہیئے

جواب