https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/08/28/feature-03
سلامتی

پاکستان میں محرم کے جلوسوں کے سلسلہ میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

جاوید خان

image

27 اگست کو پشاور سے محرم کا ایک جلوس گزر رہا ہے۔ [شہزاد بٹ]

پشاور – اتوار (30 اگست) کو آنے والےعاشورہٴ محرم کے آخری دو روز کے لیے پاکستان نے ملک بھر میں سیکیورٹی اقدامات بڑھا دیے ہیں۔

کے پی کے انسپکٹر جنرل پولیس ثناء اللہ عباسی نے کہا، "پر امن عاشورہ منانے کے لیے تمام تر خیبر پختونخوا (کے پی) میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔"

حکام نے کہا کہ کے پی بھر میں 35,000 سے زائد معمول کے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ 11,000 ریزرو اہکار 583 ماتمی جلوسوں اور 6,000 سے زائد اجتماعات پر تعینات کیے گئے ہیں۔

کے پی میں پولیس نے پشاور، کوہاٹ، ہنگو، کرم، اورکزئی، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور ہری پور کو حساس علاقہ جات قرار دے دیا ہے۔

image

27 اگست کو پشاور میں محرم کے جلوسوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے شہر میں پولیس اہلکار کھڑے ہیں۔ [شہزاد بٹ]

image

27 اگست کو محرم کے جلوسوں کے تحفظ کے لیے پشاور میں ایک پولیس اہلکار ڈیوٹی پر کھڑا ہے۔ [شہزاد بٹ]

image

25 اگست کو جلوس کے راستے پر پشاور پولیس کے سینیئر پولیس عہدیدار سیکیورٹی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ [کے پی پولیس]

پولیس نے نویں اور دسویں محرم کے لیے سیکیورٹی کے جزُ کے طور پر بدھ (26 اگست) سے اندرونِ پشاور کے متعدد حصے سیل کر دیے ہیں۔ انہوں نے ان مقامات کو آنے والی گلیاں اور سڑکیں بند کر دی ہیں۔

پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر محمّد علی گنڈاپور نے کہا کہ نویں اور دسویں محرم کی اضافی سیکیورٹی کے جزُ کے طور پر پشاور میں موبائل فون کے سگنل معطل رہیں گے۔

انہوں نے کہا، "ہم آئندہ دو روز کے لیے اندرونِ پشاور، صدر، حیات آباد اور دیگر علاقوں میں پولیس تعیناتی مین اضافہ کر رہے ہیں۔"

ناکوں کی تشکیل

امنِ عامہ کی صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کے لیے کے پی کے دیگر اضلاع، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور دیگر افواج بھی پشاور میں تعینات کی گئی ہیں۔

گنڈاپور نے کہا، "عاشورہ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی انسداد کے لیے اہلکاروں کو ہوشیار رہنے کے احکامات ہیں۔"

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اورکزئی نثار احمد خان نے کہا کہ ضلع بھر میں 26 اضافی ناکے کام کر رہے ہیں، جبکہ عاشورہ کے آخری دو روز کے دوران اضافی سیکیورٹی اہلکار خدمات سرانجام دیں گے۔

انہوں نے کہا، "80 امام بارگاہوں کے تحفظ کے لیے 27 بم ڈسپوزل یونٹس، اورکزئی سکاؤٹس کے چھ ونگز، فرنٹیئر کانسٹیبلری کی پانچ پلٹونوں اور 4,000 سپاہیوں کے ہمراہ تقریباً 1,923 ضلعی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔"

سینیئر سپرانٹنڈنٹ پولیس آپریشنز منصور امان نے جمعہ (28 اگست) کو کہا کہ اسی روز عام پولیس اور کے پی پولیس کے شعبہٴ انسدادِ دہشتگردی کے عملہ نے مٹانی میں ایک ایکشن کے دوران تین دہشتگردوں کو گرفتار کیا جو عاشورہ کے دوران اور بعد پشاور میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حراست میں لیے جانے والوں کا تعلق "دولتِ اسلامیہ" (داعش) سے تھا۔

امان نے کہا، "مٹانی میں ایک کاروائی کے دوران تقریباً 4 کلوگرام دھماکہ خیز مواد، بم، پریماکورڈ اور پستول بازیاب کیے گئے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ان افراد میں سے دو کا تعلق خیبر اور ایک دیگر کا تعلق ضلع مہمند سے ہے۔

پولیس نے کہا کہ 26 اگست کو چارسدہ میں ایک دیگر گروہ کو گرفتار کیا گیا۔ وہمبینہ طور پر محرم کے دوران پولیس پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

خصوصی یونٹس تیار

اسلام آباد کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس وقار الدین سید نے کہا، "محرم کے دوران 15,000 سے زائد پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری بھی تعینات کیے گئے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ حکام محرم کے دوران جلوسوں اور مذہبی اجتماعات کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہے ہیں۔

کراچی میں پولیس نے جلوس کے راستے پر 250 مقامات پر 1,000 سے زائد کلوزڈ سرکٹ ٹیلیویژن کیمرے نصب کیے ہیں۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آپریشنز لاہور آفاق خان نے کہا کہ محرم کے دوران لاہور میں 15,000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

تعینات پولیس اہلکار 12 سپرانٹنڈنٹس آف پولیس، 34 ڈپٹی سپرانٹنڈنٹس اور 83 انسپکٹرز کے تحت کام کر رہے ہیں۔

خان نے کہا، “پولیس کے خصوصی یونٹ بشمول ااینٹی رائٹ فورس، ڈولفن فورس، ایلیٹ فورس اور دیگر محرم کے دوران فعال ہیں"

پولیس نے عاشورہ کے آخری دو روز کے لیے بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی سیکیورٹی میں اضافہ کیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے کہا، "دورانِ محرم کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں جانیں بچانے میں مدد کے لیے پولیس کے علاوہ، ریسکیو 1122 کے [ایمرجنسی ریسپانڈرز] بھی کے پی میں ہائی الرٹ پر رہیں گے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)