https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/08/06/feature-01
صحت

ایران اور چین پاکستان میں جعلی ادویات سے بھاری منافع کما رہے ہیں

اشفاق یوسف زئی

image

پشاور کے نمک منڈی بازار میں 21 جولائی کو، خیبر پختونخواہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ ایف آئی اے کے ساتھ ایک مشترکہ چھاپے میں چینی اور ایرانی ساختہ جعلی ادویات قبضے میں لے رہا ہے۔ [بہ شکریہ اشفاق یوسف زئی]

پشاور -- ایران اور چین پاکستان میں فروخت ہونے والی جعلی ادویات سے ایک ایسے وقت میں بھاری منافع کما رہا ہے جب ملک ہلاکت خیز کرونا وائرس کی عالمی وباء سے نپٹنے کا کام کر رہا ہے۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر، محمد علی نے کہا کہ "بہت سے مریض شکایت کر رہے ہیں کہ انہیں دی جانے والی ادویات موثر نہیں ہیں جس نے ہمیں ان ادویات کا جائزہ لینے پر اکسایا جنہیں وہ خرید رہے تھے اور ہم نے دریافت کیا کہ وہ ادویات چینی یا ایرانی ساختہ تھیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ڈاکٹر انٹی بائیوٹک، دردکش ادویات اور وٹامن مریضوں کو لکھ کر دیتے ہیں مگر کچھ فارمیسیاں انہیں زیادہ منافع کے لیے چینی یا ایرانی ادویات دے دیتے ہیں"۔

علی نے کہا کہ "ایران اور چین سے اسمگل شدہ یا غیر اندراج شدہ ادویات فارمیسیوں کے لیے اصلی ادویات کے مقابلے میں دس گنا زیادہ منافع کا باعث ہوتی ہیں"۔

image

خیبرپختونخواہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ، 13 جولائی کو ڈبگری گارڈنز کے علاقے میں، اسمگل شدہ ادویات، شیمپو اور کاسمیٹکس کی بڑی مقدار کو قبضے میں لے رہا ہے۔ [بہ شکریہ اشفاق یوسف زئی]

ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری پشاور کے ایک تجزیہ کار محمد اکرام نے کہا کہ اسمگل شدہ ادویات میں وہ اجزاء نہیں ہوتے ہیں جو ان کے لیبل پر لکھے ہوتے ہیں جو کہ سب سے خطرناک جرم ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اسمگل شدہ ادویات میں سے اکثریت جعلی اینٹی بائیوٹکس کی ہے مگر ہمیں یہ پتہ بھی چلا ہے کہ ان میں سادہ پاوڈر ہوتا ہے جو کہ صحت کے لیے مضر ہے۔ مگر یہ لیبل مقامی ڈیلر خریداروں کو دھوکا دینے کے لیے بدل دیتے ہیں"۔

پاکستان فارماسوٹیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری عمیر رانا کے مطابق، اسمگل شدہ ادویات دو طرح سے نقصان دہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسمگل شدہ ادویات کے ڈیلر "حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں اور لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ تقریبا 759 فارماسوٹیکل کمپنیاں، جن میں 25 بین الاقوامی کمپنیاں بھی شامل ہیں، حکومت کو سالانہ 500 ملین ڈالر (84.1 بلین روپے) ٹیکسوں میں ادا کرتی ہیں"۔

رانا نے کہا کہ ان اسمگل شدہ ادویات کے باعث قانونی ادویات کی فروخت میں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں 40 فیصد کمی آئی ہے جس سے پاکستان کو مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کو ادویات کی غیر قانونی فروخت کو روکنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ "حکومت کو چین اور ایران میں حکام سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے لوگوں پر رحم کریں اور پاکستان کو جعلی ادویات کی اسمگلنگ بند کر دیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مریض ہفتوں کی بجائے مہینوں سے اینٹی بائیوٹیک استعمال کر رہے ہیں مگر ان کی انفیکش انہیں پھر بھی متاثر کرنا جاری رکھے ہوئے ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسا ہی دوسری بیماریوں کے بارے میں بھی سچ ہے جیسے کہ دوسروں کے ساتھ ساتھ مرگی، ذیابیطس، ڈپریشن اور صارفین سستی ادویات کا انتخاب کرتے ہیں مگر اس کے نتیجہ میں انہیں صحت کے مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ کہانی ان انکشافات کے بعد سامنے آئی ہے کہ چین پاکستان کے صحت کے اداروں کو، کووڈ-19 کا ناقص ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای) فروخت کر کے بھاری منافع کما رہا ہے۔

حکومت ذمہ دار

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے ڈائریکٹر آف آپریشنز عزیز صدیقی کے مطابق، ایران اور چین سے ہر طرح کی ادویات کو اسمگل کر کے فروخت کرنے سے بہت بھاری منافع کمایا گیا ہے خصوصی طور پر دیہی علاقوں میں۔

انہوں نے کہا کہ "ہم دونوں ملکوں (ایران اور چین) سے اسمگل ہو کر آنے والی اینٹی بائیوٹکس، ینالجیسکس، سیڈیٹیوٹس، ٹرانکیلائزرز، ہارمونز، اینٹی ہائپرٹرنس اورمانع حمل ادویات کی بڑی مقدار کو پکڑ رہے ہیں"۔

کم قیمت ادویات کی مقبولیت بہت زیادہ ہے، خصوصی طور پر اس وقت جب صارفین عالمگیر وباء کے باعث اپنے آمدنیوں میں کمی دیکھ رہے ہیں۔

صدیقی نے کہا کہ "ہم گاہے بگاہے تمام صوبوں کو ہدایات جاری کر رہے ہیں کہ وہ غیر قانونی ادویات پر نظر رکھیں تاکہ عوام کی صحت کی حفاظت کی جا سکے کیونکہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے"۔

صدیقی کے مطابق، ملک کو ڈرگ انسپکٹروں کی کمی کا سامنا ہے جو کہ اسمگل شدہ ادویات سے موثر طور پر نپٹ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "تقریبا 5,000 ڈرگ انسپکٹر ہیں جنہیں ملک میں 400,000 فارمیسیوں کو چیک کرنا ہوتا ہے جو کہ ایک بہت مشکل کام ہے"۔

محمد شوکت جو کہ کیمسٹ ایسوسی ایشن خیبر پختونخواہ کے صدر ہیں، نے صوبہ میں اسمگل شدہ ادویات کے بارے میں ایک بہت ہی سنگین صورتِ حال کی تصویر کشی کی۔

انہوں نے کہا کہ "صوبہ کے پاس منشیات کے 70 انسپکٹر ہیں جو تقریبا 15,000 کیمسٹ دکانوں کا معائینہ نہیں کر سکتے ہیں۔ پشاور کی نمک منڈی میں تھوک کا کاروبار کرنے والے جعلی، غیر معیاری اور غیر اندراج شدہ ادویات کا کام کرتے ہیں جن میں سے اکثریت چین اور ایران سے آتی ہیں"۔

شوکت نے کہا کہ ایران اور چین دونوں کی حکومتیں اسمگلروں کو پاکستان کے بازاروں میں جعلی ادویات فراہم کرنے کی اجازت دینے کی ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "چین اور ایران دونوں ہی ادویات کے کاروباروں سے بھاری ٹیکس وصول کرتی ہیں"۔

کوششیں جاری

پشاور کے ایک ڈرگ انسپکٹر عبدل غفور نے کہا کہ اسمگل شدہ ادویات کا کاروبار بہت ترقی کر گیا ہے اور ان کا پتہ لگانا اب آسان نہیں رہا ہے۔

انہوں نے ملک بھر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "گزشتہ تین ماہ میں، ہم نے ایک ملین ڈالر (168.2 ملین روپے) کی ادویات پکڑی ہیں اور 30 لوگوں کو تین سے چھہ ماہ کے لیے جیل بھیجا ہے"۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ تمام جعلی ادویات یا تو ایران یا چین سے آئی ہیں، کہا کہ مارچ سے اب تک، حکام نے ادویات کے 8,865 نمونوں کا جائزہ لیا ہے اور ملک بھر سے 1,013 جعلی ادویات پکڑی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "وفاقی حکومت ڈرگ ایکٹ 1976 میں ترمیم کا سوچ رہی ہے تاکہ جعلی ادویات کی فروخت میں ملوث افراد کی سزاؤں میں اضافہ کیا جا سکے۔ توقع ہے کہ یہ بل اس ماہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا"۔

انہوں نے کہا کہ حکام ایسی دکانوں کو بند کر دیتے ہیں جو جعلی ادویات بیچتی ہیں مگر وہ ایک ماہ میں دوبارہ کھل جاتی ہیں۔ اگر نئی ترمیم قانون بن گئی تو دکانوں کو مستقل طور پر بندش کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پشاور کے ایک ڈرگ انسپکٹر محمد شفیق نے کہا کہ چین سے اسمگل ہو کر آنے والی جنسی ادویات کی خاص طور پر مانگ بہت زیادہ ہے اور گاہک انہیں بلیک مارکیٹ سے خریدتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "پشاور کی کارخانو مارکیٹ اسمگل شدہ ادویات کا گڑھ ہے۔ انہیں غیر قانونی ڈیلر دوبارہ سے پیک کرتے ہیں اور پھر انہیں سارے ملک میں فراہم کیا جاتا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسمگلر بازار میں جعلی شیمپو، صابن اور کاسمیٹکس بھی فراہم کرتے ہیں"۔

شفیق نے کہا کہ "گزشتہ سال میں، ہم نے ایرانی اور چینی ادویات جن کی مالیت 10 ملین ڈالر (1.7 بلین روپے) تھی قبضے میں لے کر نذرِ آتش کیں۔ ہم مسلسل چھاپے مار رہے ہیں تاکہ اس لعنت کا خاتمہ کیا جا سکے اور لوگوں کو نقصان کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)