جرم و انصاف

لواحقین کی جانب سے سندھ بم دھماکوں میں ملوث داعش کے دہشت گردوں کی سزائے موت کا خیرمقدم

از ضیاء الرحمان

image

پاکستان میں موجود داعش-خراسان کے ایک جنگجو کی یہ فوٹو دہشت گرد تنظیم کی جانب سے 20 مئی کو پوسٹ کی گئی تھی۔ [فائل]

کراچی -- صوبہ سندھ میں سنہ 2017 کو ہونے والے خودکش بم دھماکےکے متاثرین کے لواحقین نے "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" کی خراسان شاخ، جو داعش-کے کے نام سے معروف ہے، کے دو جنگجوؤں، کو دی گئی سزائے موت کا خیرمقدم کیا ہے، جنہوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

دھماکہ سیہون شہر میں ایک صوفی مزار پر ہوا تھا، جس میں 70 سے زائد زائرین ہلاک ہو گئے تھے۔

سوموار (18 مئی) کو کراچی میں عدالت نے نادر علی جاکھرانی (عرف مرشد) اور فرقان بنگلزئی (عرف فاروق بنگلزئی) کو خودکش بمبار، برار بروہی کی سہولت کاری کے جرم کا مرتکب پایا۔

عدالت نے دونوں کو 70 بار سزائے موت دینے نیز ہر ایک کو 14 ملین روپے (87،000 ڈالر) جرمانے کا حکم سنایا۔

image

عسکریت پسند تنظیموں کے لیے مزاحمت اور بم دھماکے کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے، سول سوسائٹی کے ارکان بم دھماکے کے اگلے روز، 17 فروری 2017 کو سیہون میں لال شہباز قلندر کے مزار پر جمع ہیں۔ [ضیاء الرحمان]

image

فروری 2017 میں کراچی میں ایک دینی جماعت کے ارکان یہ کہتے ہوئے مزار پر بم دھماکے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہ حملہ آور پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں۔ [ضیاء الرحمان]

سندھ پولیس کے شعبۂ انسدادِ دہشت گردی نےجاکھرانی کو نومبر 2017 میں اور فرقان کو فروری 2019 میں گرفتار کیا تھا۔

حکام کے مطابق، دونوں داعش-خراسان سندھ گروپ کا حصہ تھے جس کی سربراہی عبدالحفیظ پندرانی کرتا تھا جو شیعہ عبادت گاہوں، صوفی روحانی قائدین اور سیاسی ریلیوں پر حملوں میں ملوث تھا جن میں سینکڑوں پاکستانی جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

سندھ پولیس نے پندرانی اور داعش-خراسان کے صوبہ سندھ میں ایک اور چوٹی کے رہنماء مولوی عبداللہ بروہی کو فروری 2019 میں ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا۔

عدالت نے مزار پر بم دھماکے میں سہولت کاری کرنے کے ملزم چھ دیگر مشتبہ افراد کے دائمی وارنٹ جاری کیے۔ وہ ابھی تک مفرور ہیں۔

غیر انسانی، وحشیانہ کارروائیاں

خودکش بم دھماکے میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے لواحقین نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

صوبہ سندھ میں شہدادکوٹ کی ایک مکین، فردوس کھوکھر بم دھماکے کے وقت اپنے تین بچوں کے ساتھ مزار پر موجود تھی۔

اس کے دو بیٹے -- کاشف اور زاہد -- ہلاک ہو گئے، جبکہ وہ اور اس کی بیٹی آسیہ زخمی ہو گئی تھیں۔

کھوکھر نے کہا، "مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ عدالت نے ان مجرموں کو سزا دی ہے جنہوں نے درجنوں بے گناہ معتقدین، بشمول خواتین اور بچوں کو ہلاک کیا۔"

وہ اپنے بچوں سمیت، مارے جانے والے اور زخمی ہونے والوں کے خون میں لت پت لباس نہیں بھلا پائی۔

اس نے کہا، "کوئی بھی مذہب ایسی غیر انسانی اور وحشیانہ کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتا۔"

پاکستان میں صوفیاء کے مزارات کثرت سے مختلف کالعدم گروہوں، بشمول داعش-خراسان اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

اگرچہ داعش-خراسان کو ملک بھر میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سیکیورٹی آپریشنوں کے ذریعے کمزور کر دیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد تنظیم کی پاکستانی شاخ کے خلاف سخت کارروائی کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

16 مئی کو، پنجاب پولیس کے شعبۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ضلع بہاولپور میں ایک مقابلے میں داعش-خراسان کے چار جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا تھا۔

سی ٹی ڈی پنجاب کے ایک ترجمان نے کہا، "وہ [داعش-خراسان کے جنگجو] بہاولپور میں چند حساس مقامات پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے،" ان کا مزید کہنا تھا کہ تین ملزمان جو فرار ہو گئے تھے افسران ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔

اس سے پہلے دسمبر میں، سی ٹی ڈی پنجاب نے مخبری کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران ضلع مظفرگڑھ میں داعش-خراسان کے دو مشتبہ جنگجوں کو گرفتار کیا تھا۔

عسکریت پسندوں کے خلاف کھڑا ہونا

حالیہ سزائے موت تازہ ترین سزائیں ہیںجو پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کی جانب سے دی گئی ہیں، جو حکومت نے بھیانک ترین مقدمات کو تیز رفتاری سے چلانے کے لیے قائم کی تھیں۔

مزار پر بم حملے کے حالیہ مقدمے میں، تین گواہان، تمام عام شہریوں، نے عدالت میں گواہی دی۔

کراچی کے ایک بڑے وکیل شبیر احمد جو دہشت گردی کے مقدمات لڑتے ہیں، نے کہا، "[غیر سرکاری] عینی شاہدین کی انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں پیشی حوصلہ افزاء ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ لوگوں کو اب عدالتوں پر اعتماد ہے اور وہ عسکریت پسندوں سے خوفزدہ نہیں ہیں۔"

چھبیس دیگر گواہان، جو سبھی سرکاری اہلکار تھے، نے عدالت میں گواہی دی کیونکہ قوانین ان سے گواہی دینے کا تقاضہ کرتے ہیں۔

شبیر احمد کا کہنا تھا کہ ماضی میں سول عدالتوں کے ججوں کو دہشت گرد گروہوں کی جانب سے کھلے عام دھمکیاں ملتی تھیں اور عسکریت پسندوں کے خلاف استغاثہ بننے اور گواہی دینے پر بہت سے وکلاء اور عینی شاہدین کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

اب پاکستان میں دہشتگردی رک چکی ہے cور یہ صرف اللہ تعالیٰ کے کرم سے ہے، دوسری چیز یہ کہ جنوری 2020 میں کرونا وائرس کے آغاز سے اب تک دہشتگردی کے کسی واقعہ کی اطلاع نہیں ہے اور آپ جانتے ہیں ایسا کیوں ہوا؟ صرف اس لیے کہ اس تمام کے منصوبہ ساز امریکہ بھارت اور اسرائیل تھے۔ امریکہ کو فروری سے اب تک کرونا کے بہت زیادہ واقعات کا سامنا ہے اور وہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے بارے میں سوچنے کے بجائے اپنے ہی لوگوں کی جانیں بچانے میں مصروف ہے۔

جواب