https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/02/16/feature-02
دہشتگردی |

داعش نے سندھ میں صوفی مزار پر ہونے والے ہلاکت خیز بم حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

اے ایف پی اور سٹاف

image

16 فروری کو صوبائی صدرمقام کراچی سے قریباً 200 کلومیٹر شمال مشرق میں صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں 13 ویں صدی کے مسلم صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے ایک بم دھماکے کے بعد اس دھماکے کے ایک پاکستانی متاثر کا ایک مقامی ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔ [ایس ٹی آر/اے ایف پی]

کراچی — حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات (16 فروری) کو ایک بم نے پاکستان میں پر ہجوم صوفی مزار کو تباہ کر کے رکھ دیا، جس سے درجنوں افراد جاںبحق اور متعدد دیگر زخمی ہوے، یہ رواں ہفتے ملک میں ہونے والے حملوں کے سلسلہ کا مہلک ترین حملہ تھا۔

”دولتِ اسلامیۂ عراق و شام“ (آئی ایس آئی ایل) نے اپنے میڈیا چینل عمق کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

مختلف ذرائع نے اموات کی مختلف تعداد بتائی۔ کچھ نے 35 کی تعداد اور کچھ نے 60 تک بتائی۔

image

18 جون، 2014 کو لی گئی اس تصویر میں کراچی سے کوئی 200 کلومیٹر (124 میل) شمال مشرق میں سیہون میں 13 ویں صدی کے مسلم صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر ان کے عرس کے موقع پر پاکستانی زاہد جمع ہیں۔ 16 فروری کو صوفی کے پر ہجوم مزار کو ایک بم نے تباہ کر دیا جس سے درجنوں افراد جاںبحق ہو گئے۔ [یوسف ناگوری/اے ایف پی]

اعلیٰ مقامی حکومتی عہدیدار منوّر علی مہیسر نے کہا، ”ہمیں خدشہ ہے کہ اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ہنگامی سروسز زخمیوں کو بچانے کی کوشش میں تھیں۔

یہ بم حملہ صوبہ سندھ میں صوبائی صدرمقام کراچی سے کچھ 200 کلومیٹر شمال مشرق میں سیہون کے شہر میں مزار پر ہوا۔

پولیس کے ایک ذریعہ نے کہا کہ ایک خودکش حملہ آور مزار میں داخل ہوا اور مریدوں کے درمیان خود کو اڑا لیا، انہوں نے مزید کہا کہ جمعرات کو عبادت کے لیے ایک مقدس دن سمجھتے ہوئے مزار پر ہجوم تھا۔

ڈان نیوز نے خبر دی کہ یہ دھماکہ نمازِ مغرب کے بعد دھمال (صوفی موسیقی اور رقص) کے علاقہ میں ہوا۔

پاکستانی طالبان کے ایک دھڑے، جماعت الاحرار نے رواں ہفتے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں لاہور میں طالبان کی جانب سے کیا گیا ایک خود کش حملہ بھی شامل ہے جس میں 13 افراد جاںبحق اور مزید درجنوں زخمی ہوئے۔

چار خودکش حملہ آوروں نے بدھ کے روز شمال مغربی پاکستان میں حملے کیے، جس سے چھ افراد ہلاک ہوئے اور شہری مزید گھبرا گئے۔

2014 میں پشاور میں ایک سکول پر ہونے والے طالبان حملے کے ردِّ عمل میں، جو کہ مہلک ترین شدت پسندانہ حملہ تھا اور جس میں زیادہ تر بچوں پر مشتمل 150 افراد جانبحق ہوئے، حکومتی اور عسکری کریک ڈاؤن کے بعد ۔۔ پاکستان میں سیکیورٹی میں ڈرامائی بہتری دیکھی گئی ہے۔

فوج نے نیم خودمختار قبائلی علاقوں میں، جہاں قبل ازاں عسکریت پسند آزادانہ طور پر کام کرتے تھے، ایک طویل عرصہ سے مطلوب آپریشن کو مزید سخت کر دیا اور حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف علی الاعلان قومی ایکشن پلان کا آغاز کر دیا۔

دلیر پاکستانی ایک مرتبہ پھر عوامی اجتماعات میں شرکت کر رہے ہیں اور ایک دہائی سے زائد کےعسکریت پسندانہ حملوں کے بعد بھی ایک پرامیدی کا احساس عیاں ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha