https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/02/04/feature-01
دہشتگردی |

سندھ کے رہائشی داعش-کے کی جانب سے مسجد پر حملے کی 5ویں برسی منا رہے ہیں

ضیاءالرّحمٰن

image

26 جنوری کو کراچی میں پولیس اہلکار اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں اور فعالیت پسندوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ فروری ایک پولیس مقابلہ میں داعش-کے کے سندھ کے دو کمانڈروں کی ہلاکت نے خطے میں اس دہشتگرد گروہ کو کمزور کر دیا ہے۔ [ضیاءالرّحمٰن]

شکار پور، سندھ – 2015 میں شکار پور میں اہلِ تشعیہ کی ایک مسجد میں خودکش بم حملے میں جاںبحق یا زخمی ہونے والے عبادت گزاروں کے رشتہ دار اس سانحہ کی پانچویں برسی کے موقع پر 30 جنوری کو جمع ہوئے۔

علاقہ کے رہائشی اور امن کے فعالیت پسند اس مسجد میں ان کے ساتھ شریک ہوئے، جہاں "دولتِ اسلامیۂ" (داعش-کے) کی خراسان شاخ کی جانب سے حملے میں 61 افراد جاںبحق اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔

شکار پور کے متعدد باشندے نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے اس بم حملے سے تاحال خوفزدہ ہیں۔

image

فروری 2015 میں کراچی کے سول سوسائٹی کے فعالیت پسند ضلع شکارپور میں ایک مسجد پر خوکش حملے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

شکار پور سے تعلق رکھنے والے علّامہ زاہد نقوی جو اس روز اپنے ایک بھائی سمیت تین قریبی رشتہ داروں سے محروم ہو گئے، نے کہا کہ ایسا تشدد اسلام کے اصولوں کے منافی ہے۔

نقوی نے کہا، "داعش-کے کی جانب سے مساجد پر حملہ کرنے اور عبادت گزاروں کو قتل کرنے جیسے اقدامات اسلامی اصولوں کے منافی ہیں اور نتیجتاً اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ داعش-کے نے ہمیشہ صوبے میں مذہبی اور فرقہ ورانہ تکثیریت کو ہدف بنانے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا،"لیکن وہ اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتی کیوں کہ باشندوں، علمائے دین اور سول سوسائٹی نے مشترکہ طور پر تمام دہشتگرد حملوں کی مذمت کی ہے۔"

ایک رہائشی علی ظفر جو شدید زخمی ہوا تھا، نے کہا کہ وہ اس خوف کے مناظر کبھی نہیں مٹا سکتا جس کا اس نے اس روز مشاہدہ کیا تھا۔

ظفر نے کہا، ”میں مدد کے لیے نمازیوں کی چیخیں اور مرنے والوں اور زخمی ہونے والوں کے خون آلودہ کپڑے کبھی نہیں بھول سکتا۔“

ظفر کے مطابق، بم حملے کے کئی روز بعد تک صوبے بھر سے سول سوسائٹی کے فعالیت پسندوں کی جانب سے علاقہ کے مذہبی مقامات اور مزارات کے دورے عوام کی جانب سے اسے مسترد کیے جانے کی ایک مثال ہے۔

داعش-کے کی کمزوری

علاقہ کے باشندے پرامّید ہیں کہ فروری 2019 میں 2015 کے اس بم حملے کے منصوبہ سازوں، مولوی عبداللہ بروہی اور عبدالحفیظ پندرانی کی ایک پولیس مقابلہ مین ہلاکت کے بعد سندھ میں امن کی واپسی کا ٱغاز ہو رہا ہے۔

ان دونوں نے سندھ اور بلوچستان کے صوبوں میں متعدد دیگر حملوں کی بھی منصوبہ سازی کی۔ انہوں نے بنیادی طور پر اہلِ تشعیہ کے مقاماتِ عبادت اور صوفی روحانی پیشواؤں کے مزارات کے ساتھ ساتھ سیاسی ریلیوں کو ہدف بناتے ہوئے سینکڑوں پاکستانیوں کو ہلاک اور زخمی کیا۔

ان کی اموات نے نہ صرف خطے میں اس شورشی گروہ کو کمزور کیا بلکہ دیہی سندھ کے باشندوں کے خوف کو بھی دور کیا۔

ان دونوں دہشتگردوں کی ہلاکت کے وقت شکار پور پولیس کے سربراہ ساجد عامر سدوزئی نے کہا کہ بروہی اور پندرانی بالترتیب سندھ میں داعش-کے کے کمانڈر اور ڈپٹی کمانڈر تھے اور 2010 سے سندھ اور بلوچستان میں متعدد دہشتگرد حملوں کے لیے مطلوب تھے۔

داعش-کے کی تباہ کن ترین دہشتگردانہ کاروائیوں میں سے ایک ضلع مستونگ، بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امّیدوار سراج رئیسانی کی انتخابی ریلی پر جولائی 2018 میں ایک خودکش بم حملہ تھی۔ اس میں رئیسانی سمیت 149 افراد جانبحق ہوئے۔

فروری 2017 میں سیہون میں صوفی بزرگ لعل شہباز قلدر کے مزار پر خود کش حملے میں بھی 85 افراد جاںبحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ اکتوبر 2016 میں کوئٹہ میں پولیس تربیتی مرکز پر حملے میں 61 کیڈٹ جاںبحق ہوئے۔

داعش-کے کے عروج پر آنے سے قبل بھی بروہی اور پندرانی دہشتگرد تھے۔ حکام نے انہیں 2013 میں تین مہلک بم حملوں میں موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔

سدوزئی کے مطابق، وہ شکار پور میں ایک سیاستدان، نیشنل پیپل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عارف جتوئی کو نشانہ بناتے ہوئے ایک خود کش بم حملے میں ملوث تھے۔

مزید برآں ان شورشیوں نے جیکب آباد میں روحانی رہنما پیر حسین شاہ کو ہدف بنایا۔ وہ تو محفوظ رہے لیکن ان کا پوتا جاںبحق ہو گیا۔ سدوزئی نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ شکارپور میں ہی ایک دیگر حملے میں روحانی رہنما پیر سید حاجن شاہ اور ان کے تین پیروکار جاںبحق ہو گئے۔

انہوں نے کہا، “یہ گروہ سندھ بلوچ سرحد پر امنِ عامہ کی خراب صورتِ حال پیدا کر رہا تھا۔ ان کے رہنماؤں کے قتل کے بعد خطے میں دہشتگردی میں نمایاں کمی دیکھی گئ ہے۔”

پژمردہ کشش

پاکستان ادارہ برائے علومِ امن نے ایک حالیہ سالانہ رپورٹ میں مشاہدہ کیا کہ سندھ میں داعش-کے رہنما کے قتل نے 2019 میں اس دہشتگرد گروہ کی ”کام کرنے کی استعداد کو ایک بڑا دھچکہ دیا ہے۔“

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے عسکریت پسندانہ حلقوں میں داعش – کے کی مژمردہ کشش کے پیچھے ایک اور بڑا عنصر گزشتہ اکتوبر شام میں داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی موت اور شام میں اس گروہ کی علاقۂ عملداری کے نقصانات ہیں۔

نقوی، جن کے اہلِ خانہ 2015 میں مسجد میں ہونے والے بم حملے میں جانبحق ہوئے، نے کہا کہ وہ دیہی سندھ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے نفاذِ قانون کی ایجنسیوں کی کاوشوں سے مطمئن ہیں۔

نقوی نے کہا، ” 2017 میں سیہون میں ہونے والے خود کش بم حملوں کے بعد، دیہی سندھ میں کوئی دہشتگرد حملے نہیں دیکھے گئے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بروہی اور پندرانی کے قتل کے بعد داعش-کے کی مقامی منسلک جماعت کمزور ہو گئی ہے۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی