https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/11/19/feature-01
احتجاج |

پاسدارانِ انقلاب کا ایران میں مظاہرین پر خونی کریک ڈاؤن کا عزم

سلام ٹائمز اور اے ایف پی

image

16 نومبر کو تہران میں مظاہرے کے دوران ایرانی مظاہرین آگ کے گرد جمع ہیں۔ [اے ایف پی]

تہران -- ریاستی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک دھمکی آمیز پیغام میں، ایران کی طاقتور ترین عسکری شاخ، اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستے (آئی آر جی سی)، نے کہا ہے کہ وہ ایران بھر میں بڑھتے ہوئے مظاہروں کے خلاف "فیصلہ کن" کارروائی کرے گی۔

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ایک صدماتی فیصلے پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے جن میں حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم پانچ افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں منگل (19 نومبر) کے روز تین سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

پُرتشدد ہوتے جا رہے احتجاجی مظاہرے مبینہ طور پر 100 شہروں میں پھیل چکے ہیں۔

image

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران 16 نومبر کو اصفہان میں ایرانی مظاہرین جلتے ہوئے ٹائروں کے درمیان جمع ہو رہے ہیں۔ [اے ایف پی]

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، نے اتوار کے روز ریاستی ذرائع ابلاغ کی جانب سے شائع کردہ تبصرے میں، مظاہرین کو "غنڈے" کہہ کر ان کی مذمت کی جو ان کے مطابق امن و امان میں خلل ڈال رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کی جبری بندش جسے اب تین روز ہو گئے ہیں، کی وجہ سے گلیوں کی صورتحال بہت حد تک غیر واضح ہے۔

منگل کے روز حکومت کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ صرف تبھی کھولا جائے گا جب حکام کو یقین ہو گا کہ اس کا غلط استعمال نہیں کیا جائے گا۔

سرکاری ترجمان علی ربیعی نے کہا، "انٹرنیٹ بتدریج کچھ صوبوں میں واپس آ جائے گا جہاں یہ یقینی دہانی ہو کہ انٹرنیٹ کا غلط استعمال نہیں ہو گا۔"

یہ پابندی مظاہروں یا ان سے متعلقہ پُرتشدد کارروائیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بانٹے جانے کے بعد لگائی گئی ہے۔

دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ، نیٹ بلاکس، نے کہا کہ منگل کے روز ایران میں انٹرنیٹ کا ارتباط عام سطحات کے مقابلے میں 4 فیصد تھا۔

اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے تہران میں دو آتش زدہ پیٹرول پمپ اور سرکاری املاک، بشمول ایک پولیس اسٹیشن کو پہنچنے والا نقصان دیکھا۔

لیکن صحافیوں کو ان نقصانات کی فلمبندی سے روک دیا گیا کیونکہ دارالحکومت میں مسلح گاڑیوں اور پانی والی توپوں سے لیس دنگوں سے نمٹنے والی پولیس کے سینکڑوں سپاہی پہرہ دے رہے ہیں۔

احتجاجی مظاہرے اس اعلان کے بعد شروع ہوئے تھے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں ایک ماہ کے اندر خریدے جانے والے پہلے 60 لٹر پر 50 فیصد اور اس کے بعد خریدے جانے والے کسی بھی ایندھن پر 200 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔

مظاہرین کے خلاف 'جان لیوا طاقت'

اقوامِ متحدہ کے حقوق کے دفتر نے منگل کے روز کہا ہے کہ اسے ان رپورٹوں پر 'تشویش' ہے کہ مظاہرین کے خلاف اصلی گولیاں استعمال کی گئی تھیں اور "ملک بھر میں بڑی تعدد میں اموات" کا باعث بنی تھیں۔

ترجمان ریوپرٹ کولویلے نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا، "ایرانی ذرائع ابلاغ اور دیگر بہت سے ذرائع بتاتے ہیں کہ کم از کم آٹھ مختلف صوبوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران درجنوں افراد مارے گئے ہو سکتے ہیں اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں، 1،000 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم ایرانی حکام اور سیکیورٹی فورسز کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ پُرامن اجتماعات کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔"

کولویلے نے احتجاجی مظاہرین سے بھی درخواست کی کہ وہ "مادی نقصان یا املاک کو تباہ کیے بغیر" پُرامن طریقے سے مظاہرے کریں۔

امریکی وزیرِ کارجہ مائیک پومپیو نے ٹویٹ کیا کہا امریکہ نے مظاہروں کے جواب میں "جان لیوا طاقت" کے استعمال پر ایران کی مذمت کی ہے۔

ریاستی ٹیلی وژن نے تبریز اور شہرِ قدس میں "دنگوں" کے خلاف ریلیوں کی فوٹیج دکھائی ہے۔

نقاب پوش نوجوانوں کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھگڑنے کی فوٹیج ریاستی ٹیلی وژن پر نشر کی گئی ہے، جو کہ شاذونادر ہی بے اطمینانی کی کوئی علامات دکھاتا ہے۔

سوموار (18 نومبر) کی رات نشر کی جانے والی ایک ویڈیو میں، ایک شخص کو اندیمشک میں فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے جو کہ بظاہر ایک حملہ کرنے والی رائفل سے کی جا رہی ہے جبکہ دیگر افراد سیکیورٹی فورسز پر پتھر پھینک رہے ہیں۔

سوموار کے روز رات گئے آئی ایس این اے اور فارس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ تہران کے مغرب میں چاقو بردار اور ماچسوں سے مسلح حملہ آوروں نے دھاوا بول دیا اور تین سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔

تین میں سے ایک کی شناخت، آئی آر جی سی کے ایک کمانڈر، مرتضیٰ ابراہیمی کے طور پر ہوئی تھی۔

دیگر دو 22 سالہ ماجد شیخی، اور 33 سالہ مصطفیٰ رضائی تھے۔ دونوں مقتدرہ کے ساتھ وفادار رضارکار فورس بسیج ملیشیاء میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

آئی آر جی سی کی فورسز اور ان کے اتحادی بسیج ملیشیاء کی جانب سے ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کو پرتشدد طریقے سے دبانے کے بعد سے یہ بدترین فساد ہے جو دسمبر 2017 کے اواخر میں شروع ہوئے تھے اور جنوری 2018 تک کھنچ گئے تھے۔ ان میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

معاشی مسئلے کی جڑیں

جبکہ مظاہرے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے شروع ہوئے ہیں، بدامنی کا پیمانہ گہرائی سے پیوست معاشی مسائل کی طرف اشارہ کرتا ہے -- جو کہ معیشت میں قرضے میں ڈوبے بینکنگ کے شعبے سے لے کر فوج سے منسلک تنظیموں کے بہت بڑے حجم اور غیر واضح کردار تک وسیع ہیں۔

بہت سے ایرانیوں کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے ہی ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے پورے خطے میں پراکسی جنگوں کی معاونت کا انتخاب کر کے اپنے ہی عوام کی معاشی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔

عوامی اشتعال زیادہ تر آئی آر جی سی پر اور حکومتی اخراجات کے بہت زیادہ حصے کا آئی آر جی سی کے بیرونِ ملک، خصوصاً شام، عراق اور یمن میں پراکسی جنگوں میں جانے پر مرتکز ہے۔

مختلف تخمینے ہیں، مگر کچھ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ 40 فیصد تک ایرانی عوام -- 30 ملین سے زیادہ شہری -- خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں جبکہ ان کی حکومت مہنگی غیر ملکی مہمات پر زندگیاں اور خزانہ لٹا رہی ہے۔

ملک میں ایرانیوں کی مشکلات کے باوجود، حکومت کی آئی آر جی سی کی پشت پناہی والے بیرونِ ملک ملیشیاؤں -- جیسے کہ افغانستان فاطمیون ڈویژناورپاکستانی زینبیون بریگیڈمیں فنڈنگ -- کی غیرمقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
7
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha