https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/10/23/feature-01
| معاشرہ

'امن کی فاختہ' ملک بھر کے سفر کے لیے اڑان بھرنے کو تیار

از ظاہر شاہ شیرازی

image

جنوری میں ڈیرہ اسماعیل خان کے مکین 'امن کی فاختہ' کے ساتھ سیلفیاں بناتے ہوئے۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

پشاور -- تین پہئیوں والی ایک موٹرسائیکل پر نصب کردہ، محمد اسماعیل کی 'امن کی فاختہ' پاکستان بھر کے سفر کا آغاز کرنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔

صوبہ پنجاب کے گاؤں شورکوٹ کے ایک مکین، اسماعیل نے دس لاکھ روپے (6،395 ڈالر) سے زائد رقم کی بچت کی اور سات ماہ "امن کی فاختہ" بنانے میں صرف کیے، جو کہ فائبرگلاس ڈھانچے اور بیرونی کیمروں سے لیس ہے۔

وہ اور ان کے اہلِ خانہ اگلے ماہ اپنے "پاکستان کے امن سفر" پر جانے کے لیے تیار ہیں۔

image

'امن کی فاختہ' جنوری میں ڈیرہ اسماعیل خان سے گزرتے ہوئے۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

image

جنوری میں 'امن کی فاختہ' کو ڈیرہ اسماعیل خان میں دیکھا جا سکتا ہے۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

20 اکتوبر کو اسماعیل کا کہنا تھا کہ سال کے اختتام تک، "میں شہریوں اور دنیا کو یہ پیغام دینے کے لیے پاکستان کے شہروں سے گزروں گا: دہشت گردوں کی شکست کے بعد پاکستان ایک پُرامن ملک ہے۔"

اسماعیل نے کہا، "فاختہ امن کی علامت ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ ہم جہاں بھی جائیں امن کا پیغام دیں۔"

اسماعیل کی زوجہ، جنہوں نے اپنا نام بتانے سے انکار کیا، نے کہا، "اس مہم کی وجہ پاکستان اور قبائلی علاقہ جات کو ان کے اصل چہرے کے ساتھ دکھانا ہے -- یہ ایک پُرامن چہرہ ہے۔"

انہوں نے کہا، "میں نے، اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ، پورے پاکستان کا سفر کیا ہے اور قبائلی علاقوں میں بھی گئی ہوں۔ مجھے بالکل کوئی خوف نہیں ہے؛ یہ ایک پیغام ہے کہ ہم ایک پُرامن قوم ہیں اور امن سے پیار کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہو سکتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہو، "ہم ان سب کو ایک پیغام دے رہے ہیں جو پاکستان۔۔۔امن پسندوں کی سرزمینمیں آنے سے جھجھکتے ہیں۔

آئندہ سفر اس خاندان کا دوسرا سفر ہو گا۔ جنوری میں خاندان محبت اور امن کا پیغام پھیلانے کے لیے امن کی فاختہ کو پنجاب سے افغانستان کے ساتھ ملحقہ قبائلی علاقہ جات میں، جنوبی وزیرستان تک لے کر گیا تھا۔

اسماعیل نے کہا، "ہمیں منفی طور پر بطور دہشت گرد دکھایا جاتا ہے،تاہم ایسا نہیں ہے۔ ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ایک پُرامن ملک ہیں۔ میں نے اپنے بچوں، اپنی بیوی کے ساتھ قبائلی علاقہ جات کا سفر کیا ہے -- مجھے کوئی خوف نہیں ہے کیونکہ اب قبائلی علاقہ جات اتنے ہی پُرامن ہیں جتنی کی باقی دنیا ہے، اور ہمارا سفر اس کا ایک ثبوت ہے۔"

اسماعیل نے بتایا کہ اس کے اہلِ خانہ کھلے آسمان تلے امن کی فاختہ میں سوتے تھے، اور یہ کہ انہوں نے مہمند ایجنسی، باڑہ، اور درہ آدم خیل اور دیگر قبائلی علاقہ جات کی سڑکوں پر سفر کیا ہے، انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔

ایک 'نیا حوصلہ'

اسماعیل نے کہا، "خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں عوامی ردِعمل "ہمیشہ بہت اچھا رہا ہے"، قبائل نے ہمارا خیرمقدم کیا، ہمیں خوب کھلایا پلایا؛ حتیٰ کہ انہوں نے میری بیوی اور بچوں کو تحائف بھی دیئے۔ یہ ہمارے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔"

ضلع مہمند کے علاقے غلانائی کے ایک مکین، رمضان محمد نے کہا، "اس سال جنوری میں جب میں نے مرکزی بازار میں فاختہ کو دیکھا، تو میں یہ سن کر بہت متاثر ہوا کہ پنجاب سے ہمارا بھائی دنیا کو یہ دکھانے کے لیے یہاں آیا ہے کہ ضلع مہمند کتنا پُرامن ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم اسماعیل اور ان کے اہلِ خانہ کے شکرگزار ہیں جنہوں نے ہمیں ایک نیا اعتماد دیا ہے کہ دہشت گردی شکست کھا چکی ہے اور یہ کہ مہمند اب ایک ممنوعہ علاقہ نہیں رہا ہے۔"

جنوبی وزیرستان کے سابقہ مکین، رحیم محسود، جو اب ڈیرہ اسماعیل خان میں رہتے ہیں، نے کہا، "یہ اقدام قبائلی عوام کا اعتماد بحال کرنے میں ایک بہت بڑا قدم ہے کیونکہ وہ خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "وہ دہشت گرد نہیں ہیں -- چند لوگوں کی غلط کاریوں کو سبھی کو سزا دینے کا بہانہ نہیں بننا چاہیئے۔ دنیا کو یہ بتانے کے لیے ہم اسماعیل اور ان کے اہلِ خانہ کے شکرگزار ہیں۔"

مقامی روزنامہ مشعلِ ڈیرہ کے مدیر، صبغت اللہ مغل نے کہا، "امن کی فاختہ کے خاندان نے ڈیرہ اسماعیل میں رہنے والے قبائل کی عظیم خدمت کی ہے، ناصرف ان میں امن کے پیغام کو فروغ دینے میں بلکہ قبائلیوں کی زندگیوں کی ایک جھلک دکھانے کے لیے بھی اور یہ دکھانے کے لیے بھی کہ جنگ نے ان کے خاندانوں کو کتنا صدمہ پہنچایا ہے۔"

انہوں نے کہا، "اسماعیل اور ان کے اہلِ خانہ کے امن کے سفر نے قبائلی عوام کے پنجاب کے لوگوں کے متعلق مغالطوں کو ختم کرنے میں بھی مدد دی ہے، [جن میں سے چند ایک] سمجھتے ہیں کہ تمام قبائلی دہشت گرد ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha