https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/09/24/feature-01
| معیشت

کے پی کے دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع معاشی بحالی کی کاوشوں کا مرکز ہوں گے

عدیل سعید

image

مارچ میں ضلع شمالی وزیرستان میں ایک نو تعمیر شدہ کمرشل مارکیٹ دکھائی گئی ہے۔ پاکستانی حکام خیبر پختونخوا کے نو انضمام شدہ اضلاع میں معاشی سرگرمی کی بحالی پر مرکوز ہیں۔ [عدیل سعید]

پشاور – خیبر پختونخوا (کے پی) کی معیشت، جس کا بڑا حصہ دہشتگردی اور عسکریت پسندی سے تباہ ہو گیا تھا، کی تشکیلِ نو ان تجزیہ کاروں کے جمع ہونے کا نقطہٴ ارتکاز ہو گا جو اکتوبر میں اجلاس کا آغاز کریں گے۔

پاکستانی حکام کی جانب سے 29 اگست کو تشکیل دیا گیا اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ فورم (ای سی ڈی ایف) معاشی ترقی اور نجی شعبہ کی سرمایہ کاری کے 40 تا 50 ماہرین کا حامل ہو گا۔ انہیں خطے میں تجارت اور کاروبار کی بحالی کے لیے حکمت ہائے عملی وضع کرنے کا کام دیا جائے گا، جبکہ مقامی باشندوں کے لیے آمدنی پیدا کرنے کے مواقع میں اضافہ بھی کریں گے۔

2018 میں کے پی میں ضم ہو جانے والے سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا)کو عسکریت پسندوں کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے بھاری معاشی نقصانات اور نتیجتاً اپنے مکینوں کی ہجرت کا سامنا کرنا پڑا۔

image

29 اگست کو خیبر پختونخوا (کے پی) کے وزیرِ اعلیٰ کے معاونِ خصوصی عبدالکریم خان کے پی کے نو انضمام شدہ قبائلی اضلاع کی تشکیلِ نو کے لیے پالیسی سازی کی غرض سے تجزیہ کاروں کے ایک فورم کے افتتاح کے موقع پر پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ [سمیڈا]

اب، جبکہ افواج نے علاقہ میں امن بحال کر دیا ہے اور عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد اپنے علاقہ کو لوٹ چکے ہیں، یہ فورم دیرپا امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے خطے کی معیشت کو بحال کرنے کی حکمت ہائے عملی پر توجہ مرکوز کرے گا۔

سمیڈا (سمال اینڈ میڈیم انٹرپرایز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی) کے جنرل مینیجر جاوید اقبال خٹک نے کہا، "اس پراجیکٹ کا مقصد مستحکم معاش اور طویل المدت معاشی ترقی کے لیے آمدنی کے مواقع فراہم کرنا ہے، جو کے پی کے نو ضم شدہ اضلاع کے استحکام اور معاشی بحالی میں کردار ادا کریں گے۔"

خٹک کے مطابق، یہ پراجیکٹ امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی مالیات کے ساتھ فاٹا معاشی بحالی کے پروگرام کا جزُ ہے اور اس کا نفاذ مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور سمیڈا کریں گے۔

کاروباری افراد کے لیے تیزی

اس فورم کا تعارفی اجلاس، جس میں حکومت، مائکروفنانس اداروں اور تھنک ٹینکس کے نمائندگان بھی شامل ہوں گے، اکتوبر میں منعقد ہو گا اور یہ جولائی 2020 تک سہماہی بنیاد پر منعقد ہوتا رہے گا۔ اس کی صدارت کے پی کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان کریں گے۔

خٹک نے مزید کہا، "اس فورم کا عمومی مقصد مختلف اداروں کے مابین شراکت داری کی تسہیل کرنا اور کے پی کے قبائلی اضلاع میں نجی شعبے کی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو بہتر بنانے کے طریقوں پر روشنی ڈالنا ہو گا۔"

اس منصوبے کے تحت خیبر، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان کے تین اضلاع میں 4,350 کاروباریوں کو کاروباری ترقیاتی منصوبوں کا اندازہ لگانے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کاروباریوں کو اسی طرح کی گرانٹس کے ذریعے کاروباری معاونت فراہم کی جائے گی۔

خٹک نے کہا کہ یہ گرانٹس واپس لوٹنے والوں کے لیے اپنے کاروبار از سرِ نو تشکیل دینے، چلتے کاروبار پھیلانے یا نئے کاروبار شروع کرنے میں معاون ہوں گی، انہوں نے مزید کہا کہ حکام پہلے ہی 700 کاروباریوں کے لیے گرانٹ کی درخواستیں پر کاغذی کاروائی کر چکے ہیں اور انہیں اجرا کے لیے بھیج چکے ہیں۔ باقی پر کاروائی جاری ہے۔

ضلع جنوبی وزیرستان سے کے پی اسمبلی کے ایک رکن نصیر وزیر نے کہا، "قبائلی اضلاع میں سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے، اور امن برقرار رکھنے کے لیے ملازمتین تشکیل دینے کے لیے معاشی بحالی ناگزیر ہے۔"

وزیر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ قبائلی علاقوں کے پاس معاشی سرگرمی پیدا کرنے اور ملازمتیں فراہم کرنے کے متعدد مواقع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا سرحدی چوکی کابل اور وسط ایشیائی ممالک کے قریب ہونے کی وجہ سے پاک افغان عبوری تجارت کے لیے نہایت موزوں ہے۔ لہٰذا، وزیر نے کہا کہ، خطے میں کاروبار اور تجارت کے فروغ کے لیے اس چوکی سے عبوری تجارت کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہکامیاب عسکری آپریشن کے بعد، خطے میں امن لوٹ آیا ہے اور معیشت کی بحالی کی کاوشیں بار آور ہوں گی۔

’درست سمت میں ایک قدم‘

قبائلی علاقہ جات کے ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر شاکرین شاکر نے اس فورم کی تشکیل کے فیصلے کی پذیرائی کی۔

شمالی وزیرستان، جو قبل ازاں دہشت گردوں کے لیے ایک جنت تھا، میں دکانوں اور کاروباری مراکز کی تباہی کے بعد علاقائی معیشت تباہ ہو گئی تھی۔

شاکر نے کہا کہ دہشتگردی سے پامال قبائلی اضلاع میں معاشی سرگرمی کی بحالی کو کاروباروں کے آغاز کے لیے مالیاتی گرانٹس جیسی حکومتی معاونت کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ امن واپس آ چکا ہے اور افواج نے دہشتگردوں کو نکال باہر کیا ہے، علاقائی معیشت تاحال پٹڑی سے اتری ہوئی ہے اور اس کی بحالی میں سرکاری اور نجی شعبہ کو ایک بڑا کردار ادا کرنا ہو گا۔

شاکر نے مزید کہا کہ اس فورم کی تشکیل درست سمت میں ایک قدم ہے۔

سرحد ایوانِ صنعت و تجارت کے سابق صدر اور قبائلی علاقہ کے ایک کاروباری زاہد اللہ شنواری نے کہا، "معاشی بحالی انضمام شدہ علاقوں کے 90 فیصد مسائل خود بخود حل کر دے گی۔"

انہوں نے کہا کہ معاشی بحالی کے بغیر قبائلی علاقوں میں امن و ترقی برقرار نہیں رکھے جا سکتے۔

انہوں نے اس فورم کی تشکیل کی پذیرائی کی اور کہا کہ اس فورم کی مجوزہ پالیسیاں خطے کی واپسی اور بحالی میں مددگار ثابت ہوں گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha