https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/10/09/feature-01
سلامتی |

القاعدہ کے پروردہ رہنماء کی ہلاکت دہشت گردی کو لگنے والا ایک بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہے

از ضیاء الرحمان

image

نیم عسکری رینجرز ستمبر کے مہینے میں کراچی میں حفاظتی فرائض انجام دیتے ہوئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مختلف عسکری تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کے ذریعے اے کیو آئی ایس کمزور ہو گئی ہے۔ [ضیاء الرحمان]

کراچی -- القاعدہ کی جنوبی ایشیاء شاخ کے سربراہ کی ہلاکت خطے میں دہشت گردی کو لگنے والا ایک بڑا دھچکا ہے اور یہ دہشت گرد تنظیم کی واپسی کو روکنے کے لیے افغان، پاکستانی اور اتحادی افواج کی مشترکہ کوششوں کو اجاگر کرتی ہے۔

عاصم عمر، جس نے سنہ 2014 میں اپنے آغاز سے برصغیر میں القاعدہ (اے کیو آئی ایس) کی سربراہی کی تھی 23 ستمبر کو افغانستان کے صوبہ ہلمند کے ضلع موسیٰ قلعہ میں طالبان کے ایک ٹھکانے پر چھاپے کے دوران مارا گیا تھا۔

افغانستان کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) نے 8 اکتوبر کو عمر کی ہلاکت کی تصدیق ٹوئٹر پر کی، اس اضافے کے ساتھ کہ چھاپے میں مارے جانے والے اے کیو آئی ایس کے دیگر چھ ارکان میں ایک شخص شامل تھا جس کی شناخت "ریحان" کے نام سے ہوئی جو کہ القاعدہ کے رہنماء ایمن الظواہری کا پیغام رساں تھا۔

image

عاصم عمر، جس نے سنہ 2014 میں اپنے آغاز سے برصغیر میں القاعدہ (اے کیو آئی ایس) کی سربراہی کی تھی 23 ستمبر کو افغانستان کے صوبہ ہلمند کے ضلع موسیٰ قلعہ میں طالبان کے ایک ٹھکانے پر چھاپے کے دوران مارا گیا تھا۔

این ڈی ایس نے اس سے پہلے 23 ستمبر کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ "طالبان کے ساتھ یکجا القاعدہ کے ایک اعلیٰ سطحی گروپ کو ایک گھر سے" جس میں عمر شامل تھا، نکالنے کے لیے ایک مشترکہ کارروائی کی گئی تھی۔

8 اکتوبر کو ایک بیان میں افغان وزارتِ دفاع نے کہا کہ طالبان کے بائیں غیرملکی ارکان مارے گئے اور 14 گرفتار ہوئے۔

وزارت نے کہا، "گرفتار شدہ دہشت گردوں میں پانچ پاکستانی باشندے اور ایک بنگلہ دیشی شامل تھا۔ غیر ملکی دہشت گردوں کا گروہ پرجوش طریقے سے دہشت گرد حملے منظم کرنے میں مشغول تھا۔ کارروائی کے دوران، دہشت گردوں کی رسد اور سازوسامان کا ایک بڑا ویئرہاؤس بھی منہدم کر دیا گیا۔"

ہلمند میں ایک الگ کارروائی میں بھی القاعدہ کے دہشت گرد مارے گئے تھے۔

گورنر ہلمند کے ایک ترجمان، عمر زواک نے کہا، "نیشنل سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ سے تعلق رکھنے والے ایک یونٹ نے [30 ستمبر کو] ضلع موسیٰ قلعہ میں ایک بڑی کارروائی کی تھی، جہاں القاعدہ کے بہت سے ارکان مارے گئے اور ان میں سے چار گرفتار کر لیے گئے۔"

زواک نے کہا، "گرفتار شدگان میں تین خواتین شامل تھیں،" انہوں نے مزید کہا کہ وہ غیر ملکی زبانیں بولتی تھیں۔ "کارروائی کے دوران افغان فوج نے القاعدہ سے تعلق رکھنے والا گولہ بارود، ہتھیار اور دیگر سامان تباہ کر دیا۔"

القاعدہ کو ایک بڑا دھچکا

سنگاپور کے مقامی ایک دفاعی تجزیہ کار، عبدالباسط نے کہا، "عمر کا افغانستان اور پاکستان دونوں میں مقامی اور غیر ملکی جہادیوں کی جانب سے بہت احترام کیا جاتا تھا، کیونکہ وہ ایک مضبوط ماہرِ نظریات کے پس منظر کا حامل تھا اور جماعت میں بہت مشہور تھا۔"

باسط کے مطابق، اے کیو آئی ایس کا سربراہ مقرر ہونے سے قبل، عمرالقاعدہ کا انٹرنیٹ پر پراپیگنڈہ کرنے کا ماہر تھا اور وہ پاکستان کے لیے شرعی کمیٹی کا سربراہ تھا۔

عمر کے اے کیو آئی ایس کا سربراہ بننے کے بعد جلد ہی، گروہ نے ستمبر 2014 میں کراچی میں پاکستانی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تھی۔

حملے میں 10 نیم فوجی اہلکار جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے تھے۔ جھڑپ میں دو حملہ آور مارے گئے، اور تیسرے نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

سنہ 2018 میں امریکہ کی جانب سے عمر کو عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

قانون نافذ کرنے والے بہت سے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ عمر تزویراتی طور پر ایک اہم عسکری کمانڈر اور ایک باعلم ماہرِ نظریات تھا۔

سندھ کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ایک اعلیٰ افسر، راجہ عمر خطاب نے کہا، "عاصم عمر نے ناصرف نوجوانوں اور تعلیم یافتہ عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد کو بھرتی کیا جو بم بنانے میں تربیت یافتہ تھے بلکہ بہت سی مقامی عسکری تنظیموں کو اے کیو آئی ایس کے ساتھ الحاق کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔"

انہوں نے کہا، "خطے میں مصروفِ عمل مختلف مقامی عسکری تنظیموں کے ساتھ اپنے ماضی کے رابطے کی وجہ سے، وہ افغان اور پاکستانی طالبان، کشمیر میں مصروفِ عمل جہادی گروہوں اور دیگر جنوب ایشیائی ممالک میں کام کر رہے چھوٹے گروہوں کے نیٹ ورکس پر اثر انداز ہوا۔"

عمر نے نوجوان گریجویٹس کو بھرتی کرنے کے لیے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بھی تزویراتی طور پر نشانہ بنایا تھا۔

خطاب نے کہا، "کراچی میں، ہم نے عمر کے ساتھ منسلک کئی چھوٹے عسکری گروہوں کو بے نقاب کیا ہے جو امیر تھے اور بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل تھے۔"

پہلے ہی سے شکستہ

مختلف عسکری تنظیموں کے خلاف سخت کارروائیوں کے نتیجے میں، اے کیو آئی ایس پاکستان میں پہلے ہی تباہ کی جا چکی تھی۔

پورے سنہ 2018 میں، کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اے کیو آئی ایس سے متعلقہ بہت سی گرفتاریاں کیں بشمول نومبر میں گلشنِ اقبال میں عمر جلال چانڈیو کی گرفتاری۔

خاتیو کے نام سے معروف، چانڈیو عمر اور القاعدہ کے رہنماء ایمن الظواہری کا قریبی ساتھی تھا۔

طلعت محمود، اے کیو آئی ایس کا صوبہ سندھ کا سربراہ جو یوسف کے نام سے بھی معروف تھا، مارے جانے والے ان تین دہشت گردوں میں سے ایک تھاجنہیں کراچی پولیس کے مطابق، 24 جون کو خدا بخش گوٹھ کے مضافاتی علاقے میں ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

محمود کا نام سندھ کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کی ریڈ بُک میں درج ناموں میں سے ایک تھا، جو کہ مطلوب ترین دہشت گردوں کی ایک فہرست ہے۔

اسلام آباد کے مقامی تھنک ٹینک، پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے شائع کردہ ایک سالانہ رپورٹ کے مطابق، سنہ 2018 میں اے کیو آئی ایس کسی بھی دہشت گرد حملے میں ملوث نہیں تھی، مگر یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں میں رہی۔

سندھ سی ٹی ڈی کے اہلکار، خطاب نے کہا، "گزشتہ تین برسوں میں اے کیو آئی ایس پاکستان میں کوئی حملہ نہ کر سکی، اور عمر اور اس کے اہم کمانڈر افغان طالبان کئی معاونت کے لیے افغانستان میں تھے۔"

انہوں نے کہا، "اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اے کیو آئی ایس بہت زیادہ شکستہ ہو گئی تھی۔"

[قندھار سے احمد علی سرحدی نے اس رپورٹ میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
4
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha